✕
ٹیکنالوجی

چینی روبوٹ نے آزمائشی دوڑ میں یوسین بولٹ کا 100 میٹر کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا

  • روبوٹ نے دوسری عالمی ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کی تیاری کے لیے ہونے والے آزمائشی مقابلے میں زیادہ سے زیادہ 14.5 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار حاصل کی
شائع اپ ڈیٹ

چینی اسمارٹ فون ساز کمپنی آنر کے تیار کردہ ہیومنائیڈ روبوٹ نے 100 میٹر کی دوڑ 9.32 سیکنڈ میں مکمل کرکے جمیکا کے عظیم ایتھلیٹ یوسین بولٹ کا انسانی عالمی ریکارڈ توڑ دیا۔

چین کی سرکاری نشریاتی ادارے نے ہفتے کے روز رپورٹ میں کہا ہے کہ ’’لائٹننگ‘‘ نامی روبوٹ نے دوسری عالمی ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کی تیاری کے لیے ہونے والے آزمائشی مقابلے میں زیادہ سے زیادہ 14.5 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار حاصل کی۔ یہ کھیل ہفتے کو بیجنگ میں شروع ہوئے۔

روبوٹ کی کارکردگی نے بولٹ کے 2009 میں برلن میں ہونے والی عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں قائم کیے گئے مردوں کے 100 میٹر کے 9.58 سیکنڈ کے عالمی ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا۔

چین ہیومنائیڈ روبوٹس کو ایک اہم ابھرتی ہوئی اسٹریٹجک صنعت کے طور پر فروغ دے رہا ہے، جہاں پالیسی ساز اور کمپنیاں اس امید پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں کہ مصنوعی ذہانت اور ہارڈویئر میں پیش رفت سے مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس اور صارفین سے متعلق شعبوں میں ان روبوٹس کا استعمال تیز ہوگا۔

لائٹننگ نے اپریل میں بیجنگ ہاف میراتھن، 21 کلومیٹر کی دوڑ بھی 50 منٹ 26 سیکنڈ میں جیتی تھی، جو انسانی ایلیٹ ایتھلیٹس کے عالمی ریکارڈ کی رفتار سے بھی تیز تھی۔

چائنا سینٹرل ٹیلی وژن کے مطابق ہاف میراتھن کے وقت روبوٹ کا قد 169 سینٹی میٹر اور ٹانگوں کی لمبائی 95 سینٹی میٹر تھی۔ عالمی ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز سے قبل محققین نے اس کی ٹانگوں کی لمبائی میں مزید 10 سینٹی میٹر اضافہ کرکے اسے 1.05 میٹر کردیا ہے۔