اہم اشاریے مضبوط معاشی نمو کے عکاس، پاکستان معاشی تبدیلی کی جانب گامزن ہے، احسن اقبال
- مالی سال 2026-27 کا آغاز حوصلہ افزا معاشی اشاریوں کے ساتھ ہوا، وفاقی وزیر
وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت زیادہ استحکام کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے، تاہم اب ترجیح میکرو اکنامک استحکام کو ’اڑان پاکستان‘ کے تحت پائیدار معاشی تبدیلی میں ڈھالنا ہے۔
وفاقی وزیر نے اگست کی ماہانہ ترقیاتی اپ ڈیٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ حکومت کے اس عزم کا حصہ ہے کہ ملک کی معاشی صورتحال، حاصل ہونے والی پیش رفت اور ان چیلنجز کی واضح اور شفاف تصویر باقاعدگی سے پیش کی جائے جن پر مسلسل توجہ درکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مشکل معاشی ایڈجسٹمنٹ کے دور سے گزر چکا ہے اور گزشتہ چند برسوں کے دوران حاصل ہونے والا استحکام آسانی سے حاصل نہیں ہوا۔
احسن اقبال نے کہا، ’’اڑان پاکستان کے تحت اب ہماری توجہ اس استحکام کو پائیدار معاشی تبدیلی میں ڈھالنے پر مرکوز ہے، جس میں برآمدات کلیدی محرک ہوں گی، روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے، آمدن میں بہتری آئے گی، نوجوانوں کے لیے مواقع بڑھیں گے اور پاکستانی عوام کا معیارِ زندگی بہتر ہوگا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مالی سال 2026-27 کے آغاز پر معیشت سے متعلق حوصلہ افزا اشارے سامنے آئے ہیں۔ جولائی 2026 میں صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) پر مبنی مہنگائی کم ہوکر 9.2 فیصد رہ گئی، جو مئی 2026 میں 11.7 فیصد تھی۔ ان کے مطابق مہنگائی میں کمی سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیمتوں کا دباؤ کم ہونا شروع ہوگیا ہے، جبکہ سال بہ سال 4.1 فیصد اضافے کی بڑی وجہ بیس ایفیکٹ اور عالمی سطح پر خوراک و توانائی کی قیمتوں کا اثر ہے۔
وزیر نے کہا کہ حکومت نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی (این پی ایم سی) کے باقاعدہ اجلاسوں کے ذریعے مارکیٹ اور قیمتوں کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے، جس میں سپلائی چین کو مضبوط بنانے، ضروری اشیا کے معیار کی نگرانی اور بروقت انتظامی اقدامات کے ذریعے عوام کو بنیادی اشیا مناسب قیمتوں پر فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
کارکنوں کی ترسیلاتِ زر بیرونی شعبے کے لیے استحکام کا ایک بڑا ذریعہ بنی رہیں اور جولائی 2026 میں 13 فیصد اضافے سے 3.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو جولائی 2025 میں 3.2 ارب ڈالر تھیں۔
مالی سال 2026-27 کا یہ مضبوط آغاز گزشتہ مالی سال میں ریکارڈ 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر کے بعد ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترسیلات نہ صرف پاکستان کی زرمبادلہ کی پوزیشن مضبوط کرتی ہیں بلکہ لاکھوں پاکستانی گھرانوں کی براہِ راست مالی معاونت بھی کرتی ہیں اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی قومی معیشت میں مسلسل شراکت کی عکاس ہیں۔
صنعتی سرگرمیوں میں بھی نمایاں بحالی دیکھنے میں آئی۔ بڑی صنعتوں کی پیداوار (ایل ایس ایم) نے مالی سال 2025-26 میں اوسطاً 5 فیصد نمو ریکارڈ کی، جبکہ اس سے پچھلے سال اس میں 0.7 فیصد کمی ہوئی تھی۔
بیرونی شعبے نے بھی مالی سال 2026-27 کا آغاز حوصلہ افزا کارکردگی کے ساتھ کیا۔ جولائی 2026 میں اشیا کی برآمدات 9.4 فیصد اضافے سے 3 ارب ڈالر ہوگئیں، جو جولائی 2025 میں 2.8 ارب ڈالر تھیں۔ اشیا اور خدمات کی مجموعی برآمدات بھی 13 فیصد بڑھ کر 3.9 ارب ڈالر ہوگئیں، جو ایک سال قبل اسی ماہ 3.5 ارب ڈالر تھیں۔
انہوں نے کہا کہ جولائی 2026 میں اشیا اور خدمات کی درآمدات بھی 13 فیصد اضافے سے 7.3 ارب ڈالر ہوگئیں، جو جولائی 2025 میں 6.5 ارب ڈالر تھیں۔ ان کے مطابق یہ ملکی معاشی سرگرمیوں میں بہتری اور پیداواری و سرمایہ جاتی اشیا کی بڑھتی ہوئی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
درآمدات میں اضافے کے باوجود جولائی 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 328 ملین ڈالر تک محدود رہا، جو جولائی 2025 میں 529 ملین ڈالر تھا۔ احسن اقبال کے مطابق عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود یہ پاکستان کے بیرونی شعبے میں مسلسل مضبوطی کی عکاسی کرتا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ مالیاتی استحکام معاشی اصلاحات کے ایجنڈے کا اہم ستون ہے۔ جولائی مالی سال 2026-27 میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں 8.4 فیصد اضافے سے 820.9 ارب روپے ہوگئیں، جو گزشتہ سال اسی ماہ 757.4 ارب روپے تھیں۔
انہوں نے کہا کہ مضبوط مالیاتی نظم و ضبط سے مجموعی مالیاتی پوزیشن میں بھی بہتری آئی۔ مالی سال 2025-26 میں مالیاتی خسارہ کم ہوکر جی ڈی پی کے 2.6 فیصد رہ گیا، جو مالی سال 2024-25 میں 5.4 فیصد تھا۔ احسن اقبال کے مطابق یہ دو دہائیوں میں ریکارڈ کیا گیا کم ترین مالیاتی خسارہ ہے۔
وزارتِ خزانہ کی فنڈز جاری کرنے کی حکمتِ عملی کے تحت پہلی سہ ماہی میں 15 فیصد، دوسری میں 20 فیصد، تیسری میں 25 فیصد اور چوتھی سہ ماہی میں 40 فیصد فنڈز جاری کیے جانے ہیں۔ اس حکمتِ عملی کے تحت وزارتِ منصوبہ بندی نے جولائی 2026 میں 211.327 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دی، جو مجموعی مختص رقم کا 21.1 فیصد ہے۔
وزیر نے کہا کہ سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) سرکاری سرمایہ کاری سے متعلق فیصلوں کے معیار اور ترجیحات بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
مالی سال 2026-27 کے جولائی میں فورم نے 27 ایجنڈا آئٹمز پر غور کیا، جن میں 22 منصوبے، چار پوزیشن پیپرز اور ایک کانسیپٹ کلیئرنس تجویز شامل تھی۔ ان میں سے نو منصوبوں، تین پوزیشن پیپرز اور ایک کانسیپٹ کلیئرنس تجویز کی منظوری دی گئی، جبکہ نو منصوبے نیشنل اکنامک کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ای سی این ای سی/ایکنک) کو بھیجنے کی سفارش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ جولائی 2026 میں منظور کیے گئے منصوبوں سے اہم شعبوں میں تقریباً 7,851 براہِ راست اور 14,053 بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے، جو روزگار پر مبنی، جامع اور پائیدار ترقی کے لیے حکومت کے عزم کو تقویت دیتے ہیں۔
احسن اقبال نے بتایا کہ سی ڈی ڈبلیو پی کے منصوبوں کے جامع جائزے کے نتیجے میں غیر ضروری منصوبہ جاتی اجزا کو ختم کیا گیا، جس سے جولائی 2026 میں 1.02 ارب روپے کی بچت ہوئی۔ اس اقدام سے محدود سرکاری وسائل کو زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز ترقیاتی ترجیحات کی جانب منتقل کرنے میں مدد ملی۔
جولائی 2026 کے دوران پی ایس ڈی پی کے پانچ منصوبوں کی نگرانی کی گئی، جبکہ دو منصوبوں کا جائزہ لے کر ان پر عمل درآمد کی پیش رفت، کارکردگی، اثرات اور پائیداری کا جائزہ لیا گیا۔