پاکستان، ملائیشیا کا دہشت گردی، منشیات اور سائبر کرائم کے خلاف انٹیلی جنس شیئرنگ بڑھانے پر اتفاق
- وزارتِ داخلہ کے باہمی تعاون کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ
پاکستان اور ملائیشیا نے دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی امیگریشن اور سائبر کرائم کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے اور انٹیلی جنس شیئرنگ پر اتفاق کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے وزارتِ داخلہ کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
یہ اتفاقِ رائے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ملائیشیا کے وزیر داخلہ سیف الدین نصرالدین بن اسماعیل کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا، جو ہفتے کو سرکاری دورے پر اسلام آباد میں وزارتِ داخلہ پہنچے۔
دونوں وزرا کے درمیان پہلے ون آن ون ملاقات ہوئی، جس کے بعد وفود کی سطح پر مذاکرات کیے گئے۔ بات چیت میں باہمی دلچسپی کے مختلف امور زیرِ بحث آئے، جن میں دہشت گردوں اور منشیات اسمگلروں کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ، انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام، جبکہ سائبر کرائم کی روک تھام کے لیے تعاون مزید مضبوط بنانا شامل تھا۔
دونوں جانب سے پاکستان کی نیشنل پولیس اکیڈمی اور رائل ملائیشین پولیس کالج کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا، جبکہ تربیتی پروگراموں اور کوسٹ گارڈ سے متعلق امور میں باہمی تعاون پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کوسٹ گارڈ کے شعبے میں ملائیشیا کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کا خواہاں ہے اور امید ظاہر کی کہ ملائیشین وزیر کا دورہ دوطرفہ تعلقات کو نئی سطح پر لے جانے میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
دونوں ممالک کے درمیان سیاحت کے فروغ اور ویزا سہولتوں میں بہتری پر بھی بات چیت ہوئی۔ محسن نقوی نے کہا کہ ملائیشیا پاکستانی سیاحوں کے لیے ایک پُرکشش منزل ہے اور اس امر پر زور دیا کہ پاکستانیوں کے لیے ملازمتوں کا کوٹا بڑھایا جائے تاکہ زیادہ افراد قانونی ذرائع سے ملائیشیا کا سفر کرسکیں۔
انہوں نے ملائیشیا کو مسلم اکثریتی دنیا کے تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد مختلف شعبوں میں کوالالمپور کے ساتھ تعاون مزید مستحکم کرنے کا خواہاں ہے۔
یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مذاکرات کے دوران طے پانے والے شعبہ ہائے تعاون پر پیش رفت کے لیے پاکستانی وفد جلد ملائیشیا کا دورہ کرے گا۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وفاقی سیکریٹری داخلہ، ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل، آئی جی وفاقی کانسٹیبلری، نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر، ڈی جی پاسپورٹس، چیف کمشنر اسلام آباد اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔
اس سے قبل ملائیشین وزیر داخلہ سیف الدین نصرالدین بن اسماعیل نے ہفتے کو ایوانِ صدر میں صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی۔ صدر سیکریٹریٹ کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں صدر زرداری نے قانون نافذ کرنے، انسدادِ دہشت گردی، منشیات کی روک تھام، انسانی اسمگلنگ اور تارکین وطن کی غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف پاکستان اور ملائیشیا کے تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔
ملائیشین وزیر اور ان کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ پاکستان ملائیشیا کے ساتھ اپنے قریبی اور برادرانہ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے، جو مشترکہ مذہبی وابستگی، ثقافت، باہمی احترام اور عوامی سطح پر مضبوط روابط پر استوار ہیں۔
صدر نے بالخصوص داخلی سلامتی، امیگریشن اور قانونی و عدالتی امور کے شعبوں میں ادارہ جاتی تعاون مضبوط بنانے کے حوالے سے ہونے والی مثبت پیش رفت کو سراہا۔