ترکیہ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف ’نسل کشی‘ کے الزام میں گرفتاری وارنٹ جاری کردیا
- مئی میں تقریباً 430 کارکنوں کو لے جانے والے امدادی بحری بیڑے کو اسرائیل کی جانب سے روکنے کے واقعے پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا، جبکہ فرانس، اٹلی اور آسٹریلیا نے بھی قانونی کارروائیاں شروع کر دی ہیں
ترکیہ نے غزہ کے لیے امدادی بحری بیڑے کو اسرائیل کی جانب سے روکنے کے معاملے میں ’’نسل کشی‘‘ کے الزام پر اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے عالمی سطح پر گرفتاری وارنٹ کی درخواست دی ہے۔ ترک وزیرِ انصاف نے جمعے کو یہ اعلان کیا ہے۔
ترکیہ غزہ میں اسرائیل کی جنگ کا سخت ناقد بن چکا ہے۔ صدر رجب طیب اردوان متعدد مرتبہ نیتن یاہو پر ’’نسل کشی‘‘ کا الزام عائد کر چکے ہیں۔
مئی میں تقریباً 430 کارکنوں کو لے جانے والے امدادی بحری بیڑے کو اسرائیل کی جانب سے روکنے کے واقعے پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ فرانس، اٹلی اور آسٹریلیا نے بھی اس معاملے میں قانونی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
ترک وزیرِ انصاف اَکِن گُرلیک نے ایکس پر بتایا کہ ان کی وزارت نے وزارتِ داخلہ سے نیتن یاہو اور ایک اور اسرائیلی شہری افیک موسکووچ کے خلاف انٹرپول کے ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔
وزیر نے کہا، ’’فلوٹیلا کے کارکنوں پر بین الاقوامی پانیوں میں حملے سے متعلق عدالتی کارروائی کے سلسلے میں اور 14 جولائی 2026 کو بینجمن نیتن یاہو اور افیک موسکووچ کے خلاف ’نسل کشی‘ کے الزام میں جاری کیے گئے گرفتاری وارنٹ کی بنیاد پر وزارتِ انصاف نے وزارتِ داخلہ سے ان دونوں کی بین الاقوامی گرفتاری کے لیے ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔‘‘
وزارت نے کہا کہ نیتن یاہو اور موسکووچ کے خلاف ’’انسانیت کے خلاف جرائم، نسل کشی، آزادی سے سنگین محرومی، ’جان بوجھ کر حملہ اور تشدد‘، تشدد، املاک کی تباہی، سنگین نوعیت کی لوٹ مار اور نقل و حمل کی گاڑیوں کو ہائی جیک کرنے‘‘ کے الزامات میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔
مئی میں تقریباً 50 بحری جہازوں پر مشتمل گلوبل صمود فلوٹیلا ترکیہ سے روانہ ہوا تھا، جس کا رخ محصور فلسطینی علاقے غزہ کی جانب تھا۔ اسرائیلی فوج نے بحیرہ روم میں کارکنوں کو حراست میں لے لیا اور بعد ازاں انہیں اسرائیلی جیل منتقل کرکے ملک بدر کر دیا گیا۔
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیرِ قومی سلامتی اتمار بن گویر نے فلوٹیلا کے بعض کارکنوں کو، جن کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے اور وہ گھٹنوں کے بل بیٹھے تھے، طعنے دیتے ہوئے ایک ویڈیو جاری کی، جس پر خود اسرائیل کے اندر اور عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔