✕
کاروبار اور معیشت

پاکستان اور سعودی عرب میں زراعت، غذائی تجارت کے تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق

  • دونوں ممالک کے درمیان پاکستان سعودی ایگری انویسٹمنٹ فنڈ کے قیام سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط متوقع
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اور سعودی عرب زراعت اور غذائی تجارت کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے جا رہے ہیں، جبکہ اسلام آباد مضبوط مارکیٹ روابط، سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی شراکت داری کے ذریعے سعودی عرب کو زرعی اور غذائی مصنوعات کی برآمدات میں نمایاں اضافہ چاہتا ہے۔

یہ پیش رفت وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد چیمہ کی زیر صدارت اجلاس میں سامنے آئی، جس میں زراعت اور غذائی شعبوں میں دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے جاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، سیکریٹری تجارت جواد پال، سیکریٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ عامر علی احمد، چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف اور دفتر خارجہ سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

احد چیمہ نے کہا کہ سعودی وزیر ماحولیات، پانی و زراعت عبدالرحمن الفضلی کا آئندہ دورہ پاکستان دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے اور سرمایہ کاری و مشترکہ منصوبوں کے نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے اہم ہوگا۔

حکام نے بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے گوشت، چاول، پراسیسڈ فوڈ اور جانوروں کی خوراک کو تعاون کے اہم شعبوں کے طور پر شناخت کیا ہے۔ سعودی وفد کی صوبائی وزرائے زراعت اور پاکستانی کاروباری گروپوں سے بھی ملاقاتیں متوقع ہیں، جن میں تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لیا جائے گا۔

سعودی وفد نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر (این اے آر سی) کا دورہ بھی کرے گا، جہاں اسے پاکستان میں زرعی تحقیق، جدت اور ترقی کے منصوبوں پر بریفنگ دی جائے گی۔

دورے کے دوران متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں، جن میں غذائی تحقیق اور مجوزہ پاکستان سعودی ایگری انویسٹمنٹ فنڈ کے قیام سے متعلق معاہدے بھی شامل ہیں۔

احد چیمہ نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مضبوط اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری شراکت داری میں تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں۔

انہوں نے متعلقہ اداروں کو قریبی رابطہ یقینی بنانے اور سعودی عرب کو پاکستان کی زرعی و غذائی برآمدات بڑھانے کے لیے تجارتی طور پر قابلِ عمل تجاویز تیار کرنے کی ہدایت کی۔

وفاقی وزیر نے امید ظاہر کی کہ سعودی وفد کا دورہ زرعی تجارت، سرمایہ کاری، تحقیق اور مشترکہ منصوبوں کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو نئی رفتار فراہم کرے گا۔