2022 سے اب تک تمام بجٹ شہباز شریف کی وزارتِ عظمیٰ کے دور میں پیش کیے گئے ہیں۔ مجموعی کارکردگی ملی جلی رہی ہے۔ مجموعی عوامی قرض اور واجبات 98 ٹریلین روپے، یعنی جی ڈی پی کے 77 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔ اس میں مجموعی سرکاری قرض 86.7 ٹریلین روپے رہا جو گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 76 فیصد بڑھ چکا ہے۔
تاہم جی ڈی پی کے تناسب سے سرکاری قرض میں کمی آئی ہے اور یہ مالی سال 2022 کے 73.9 فیصد سے کم ہو کر 68.3 فیصد رہ گیا ہے جس کی بنیادی وجہ حکومت کی جانب سے مسلسل تین سال تک پرائمری مالیاتی سرپلس حاصل کرنا ہے۔
آخرکار حکومت کو کچھ مالی گنجائش مل رہی ہے۔ زیادہ اہم پیمانہ قرض کا جی ڈی پی سے تناسب نہیں بلکہ حکومت کی اپنے قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت ہے۔ مالی سال 2022 میں قرضوں کی ادائیگی پر وفاقی حکومت کی خالص آمدنی کا 85 فیصد خرچ ہوا تھا جو مالی سال 2023 میں بڑھ کر 122 فیصد ہوگیا۔
اس کے بعد حکومت نے پرائمری مالیاتی سرپلس حاصل کرنا شروع کیا: مالی سال 2024 میں 0.9 فیصد، مالی سال 2025 میں 2.4 فیصد اور مالی سال 2026 میں 2.9 فیصد۔ نتیجتاً قرض اور جی ڈی پی کے تناسب کے ساتھ ساتھ قرضوں کی ادائیگی اور آمدنی کے تناسب میں بھی کمی آئی ہے۔ مؤخر الذکر تناسب مالی سال 2026 میں کم ہو کر 66 فیصد رہ گیا ہے جو مالی سال 2023 کی سطح کے تقریباً نصف ہے۔
یہ سفر آسان نہیں تھا، خصوصاً ٹیکس دہندگان اور روزگار کے متلاشی افراد کے لیے۔ حکومت نے اضافی آمدنی حاصل کرنے کے لیے پہلے ہی غیر متوازن ٹیکس بیس پر ٹیکسوں کا بوجھ مزید بڑھا دیا، جس کا زیادہ تر مقصد ایسے وقت میں قرضوں کی ادائیگی کرنا تھا جب مانیٹری پالیسی سخت اور مہنگائی تیزی سے بڑھ رہی تھی۔ دوسرا اہم عنصر ترقیاتی اخراجات کو محدود کرنا تھا جس کے نتیجے میں معاشی نمو کم ہوئی اور روزگار کے مواقع بھی محدود ہوگئے۔
چنانچہ اگرچہ قرض اور جی ڈی پی کے تناسب اور قرضوں کی ادائیگی اور آمدنی کے تناسب دونوں میں کمی آئی ہے تاہم تشویش کی بات یہ ہے کہ زیادہ ٹیکس نجی سرمایہ کاری کو متاثر کرسکتے ہیں جبکہ ترقیاتی اخراجات میں کمی معاشی نمو کو محدود کر سکتی ہے۔ یہ حکومت کے لیے جشن منانے کی بجائے زیادہ تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔
اصل مقصد صرف قرض کم کرنا نہیں بلکہ غیر پیداواری مقاصد کے لیے قرض لینے میں کمی لانا ہے۔ گزشتہ 30 برسوں کے دوران پاکستان میں قرضوں کی صورتحال دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں انتہائی خراب رہی ہے۔
پاکستان کا قرض اور جی ڈی پی کا تناسب غیر معمولی طور پر زیادہ نہیں لیکن ایسے بیشتر ممالک جن کا قرض کا تناسب پاکستان سے زیادہ ہے، انہوں نے فی کس جی ڈی پی میں پاکستان کے مقابلے میں زیادہ مضبوط نمو ریکارڈ کی ہے۔ سرکاری آمدنی میں شرحِ سود کی ادائیگیوں کے اوسط تناسب کے لحاظ سے بھی پاکستان دیگر ممالک سے نمایاں طور پر مختلف ہے۔
یہ صورتحال پائیدار نہیں ہے۔ حکومت نے 2000 کی دہائی کے اوائل میں اپنے قرضوں کی تنظیمِ نو کی اور اس کے بعد مالی سال 1999 سے مالی سال 2004 تک مسلسل چھ سال تک پرائمری مالیاتی سرپلس حاصل کیا۔ اس سے کچھ عرصے کے لیے مالی دباؤ کم ہوا لیکن قرض لیے گئے فنڈز کے غیر مؤثر استعمال نے بالآخر ملک کو 2022-23 میں دوبارہ نازک موڑ پر پہنچا دیا۔
ایک اور مثبت تبدیلی اب رونما ہوتی دکھائی دے رہی ہے جو مستقبل میں ہمیں چند سال تک معاشی نمو کا موقع فراہم کرسکتی ہے۔
تاہم ساختی کمزوریوں کو دور کیے بغیر یہ بہتری زیادہ دیرپا ثابت ہونے کا امکان نہیں۔ ان کمزوریوں میں ٹیکس بیس کو وسیع کرنا، سماجی شعبوں پر اخراجات بہتر بنانا، معیشت میں حکومت کے ضابطہ جاتی کردار کو کم کرنا، طرزِ حکمرانی کو بہتر بنانا اور قومی بچت میں اضافہ کرنا شامل ہیں۔
نکتہ یہ ہے کہ حکومت صرف مالی سرپلس حاصل کرنے اور سخت مانیٹری پالیسی اپنانے جیسے کسی ایک پیمانے پر توجہ مرکوز کرکے معاشی نمو کی بنیاد فراہم نہیں کر سکتی۔ اس سے محض عارضی ریلیف ملے گا، چاہے معاشی نمو ممکن بھی ہو جائے۔
اس کے بجائے توجہ موزوں پالیسی اقدامات کے امتزاج کے ذریعے معاشی پیداواری صلاحیت میں اضافے پر مرکوز ہونی چاہیے۔
تاہم فی الحال ایسی کوئی خاص پیشرفت نظر نہیں آرہی۔ جشن غالباً ان نمایاں اعداد و شمار تک محدود رہے گا جو بڑی حد تک آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے حاصل ہوئے ہیں۔
وزارتِ خزانہ ممکنہ طور پر قرض اور جی ڈی پی کے تناسب میں کمی، قرضوں کی ادائیگی اور آمدنی کے تناسب میں بہتری، شرحِ سود میں کمی، 22 سال کی کم ترین سطح پر مالیاتی خسارے اور مسلسل پرائمری مالیاتی سرپلس کو نمایاں کرے گی۔
تاہم سوال یہ ہے کہ استحکام کے یہ فوائد کس قیمت پر حاصل کیے گئے ہیں؟ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران غربت میں اضافہ ہوا، سرمایہ کاری میں نمایاں کمی آئی اور طویل مدتی معاشی استحکام پر اعتماد کو دھچکا پہنچا ہے۔ ان مسائل کو حل کیے بغیر صورتحال میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی اور یہی سلسلہ جاری رہے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026