میانمار نے بنگلہ دیش میں مقیم 3 لاکھ سے زائد روہنگیا کی تصدیق کردی
- اقوام متحدہ کے مطابق 2017 میں میانمار کی سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد 7 لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان سرحد عبور کرکے بنگلہ دیش پہنچے تھے
میانمار کی فوجی حمایت یافتہ حکومت نے بنگلہ دیش کے کیمپوں میں مقیم تقریباً 3 لاکھ 9 ہزار بے گھر افراد کی تصدیق کی ہے کہ وہ شورش زدہ ریاست رخائن کے سابق رہائشی ہیں، تاہم ان کی وطن واپسی رخائن میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد ہی شروع کی جائے گی۔
میانمار کی وزارت خارجہ کے مطابق 31 جولائی 2026 تک بنگلہ دیش کی جانب سے فراہم کردہ 8 لاکھ 28 ہزار 824 ناموں میں سے 3 لاکھ 8 ہزار 797 افراد کی سابق رہائشیوں کے طور پر تصدیق کی جاچکی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق 2017 میں میانمار کی سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد 7 لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان سرحد عبور کرکے بنگلہ دیش پہنچے تھے، جبکہ اب بھی کئی افراد خطرناک سمندری اور زمینی راستوں سے نقل مکانی کررہے ہیں۔
میانمار کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی فراہم کردہ فہرست میں 4 ہزار 241 افراد ایسے ہیں جن پر دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے، جبکہ مزید ایک لاکھ 13 ہزار 507 افراد کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
میانمار کے مطابق رخائن میں سکیورٹی حالات مستحکم ہونے کے بعد ہی روہنگیا کی واپسی شروع کی جائے گی۔ میانمار کی فوج رخائن میں زیادہ خودمختاری کے لیے سرگرم نسلی مسلح گروپ اراکان آرمی کے خلاف لڑ رہی ہے۔
میانمار کا کہنا ہے کہ روہنگیا کی واپسی بنگلہ دیش کے ساتھ دوطرفہ معاملہ ہے۔ 2018 اور 2019 میں بھی واپسی کے انتظامات کیے گئے تھے، تاہم کوئی روہنگیا واپس نہیں گیا۔
میانمار نے ملائیشیا سے 5 ہزار روہنگیا پناہ گزینوں کو واپس لینے پر بھی رضامندی ظاہر کی تھی، تاہم ملائیشیا نے واضح کیا ہے کہ جانوں کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں واپسی نہیں ہوگی۔