انکریمنٹل پیکیج پر نظرثانی، ایف پی سی سی آئی نے صنعت سے مشاورت کا مطالبہ کردیا
- اسٹیک ہولڈرز کی رائے کے بغیر کسی بھی تبدیلی سے نظام میں بگاڑ پیدا ہوسکتا ہے اور اس کا اضافی مالی بوجھ موجودہ صارفین پر منتقل ہونے کا خدشہ ہے،فیڈریشن
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) پر زور دیا ہے کہ صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے انکریمنٹل پیکیج میں ترمیم سے قبل صنعتی نمائندوں سے باضابطہ مشاورت کی جائے۔ ایف پی سی سی آئی نے خبردار کیا ہے کہ اسٹیک ہولڈرز کی رائے کے بغیر کسی بھی تبدیلی سے نظام میں بگاڑ پیدا ہوسکتا ہے اور اس کا اضافی مالی بوجھ موجودہ صارفین پر منتقل ہونے کا خدشہ ہے۔
ایف پی سی سی آئی نے 12 اگست 2026 کو نیپرا کو جمع کرائے گئے سماعت کے بعد کے تحریری مؤقف میں کہا کہ اتھارٹی نے واضح طور پر ہدایت دی تھی کہ انکریمنٹل پیکیج میں مجوزہ ترمیم کو منظوری کے لیے دوبارہ پیش کرنے سے پہلے صنعت کے نمائندوں کے سامنے رکھا جائے اور ان سے مشاورت کی جائے۔
ایف پی سی سی آئی نے اس ہدایت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ صنعتی صارفین سے متعلق کسی بھی ریگولیٹری فیصلے کے لیے بامعنی اسٹیک ہولڈر شرکت ضروری ہے۔ فیڈریشن نے کہا کہ وہ پہلے بھی پیکیج میں ترمیم کے حوالے سے مشاورت کا مطالبہ کرچکی ہے، تاہم اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
فیڈریشن نے نشاندہی کی کہ انکریمنٹل پیکیج کا سہ ماہی بنیادوں پر جائزہ لیا جانا تھا، لیکن گزشتہ 8 ماہ کے دوران کوئی جائزہ نہیں لیا گیا، حالانکہ سہ ماہی جائزہ پیکیج کا لازمی حصہ ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے مطابق اس تاخیر سے صنعتی صارفین غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں اور انہیں بروقت ریلیف اور ضروری اصلاحات سے محروم رکھا گیا ہے۔ فیڈریشن نے نیپرا سے مطالبہ کیا کہ زیر التوا جائزہ فوری طور پر مکمل کیا جائے اور مستقبل میں سہ ماہی جائزے کے طریقہ کار پر سختی سے عمل کیا جائے۔
فیڈریشن نے مطالبہ کیا کہ آئندہ سماعت سے قبل ایف پی سی سی آئی، کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی)، کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی)، آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) اور دیگر بڑے صنعتی چیمبرز و ایسوسی ایشنز سے باضابطہ مشاورت کی جائے۔
ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ اسے پیکیج کی مجوزہ ازسرنو تشکیل پر بامعنی رائے دینے کا موقع دیا جائے تاکہ اسے حقیقی صنعتی ضروریات کے مطابق بنایا جاسکے اور اس کے نتیجے میں امتیازی سلوک یا اضافی لاگت کا بوجھ ان یونٹس پر منتقل نہ ہو جو اضافی بجلی استعمال نہیں کررہے۔
فیڈریشن نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایسے مناسب حفاظتی اقدامات کیے جائیں جن سے انکریمنٹل پیکیج کے فوائد صرف حقیقی اضافی بجلی استعمال کرنے والے یونٹس تک محدود رہیں اور اس کے غلط استعمال کا امکان ختم ہو۔
ایف پی سی سی آئی نے نیپرا سے مزید مطالبہ کیا کہ آئندہ سماعت سے پہلے متعلقہ صنعتی تنظیموں کے ساتھ باضابطہ مشاورت کی جائے، اجلاس کی تاریخ، وقت اور آن لائن میٹنگ کا لنک پہلے سے فراہم کیا جائے، پیکیج کی ازسرنو تشکیل پر صنعت کو مؤثر رائے دینے کا موقع دیا جائے، حقیقی انکریمنٹل یونٹس کے لیے فوائد یقینی بنانے کی حفاظتی شرائط شامل کی جائیں، گزشتہ 8 ماہ سے زیر التوا سہ ماہی جائزہ فوری طور پر مکمل کیا جائے اور مستقبل میں انکریمنٹل پیکیج یا اس نوعیت کے کسی بھی پیکیج میں ترمیم یا جائزے سے قبل بڑے صنعتی چیمبرز سے باضابطہ مشاورت لازمی قرار دی جائے۔
ایف پی سی سی آئی نے نیپرا، پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) اور سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹیڈ (سی پی پی اے۔جی) کو کراچی میں اپنے ہیڈ آفس آنے کی باضابطہ دعوت بھی دی تاکہ صنعتی نمائندوں کی موجودگی میں تفصیلی مذاکرات کیے جاسکیں۔
فیڈریشن کے مطابق ایسا فورم تمام اسٹیک ہولڈرز کو تعمیری انداز میں بات چیت کا موقع فراہم کرے گا اور ایک ایسا پیکیج تشکیل دینے میں مدد دے گا جو منصفانہ، قابل عمل اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہو۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026