پنجاب کی طرز پر آزاد کشمیر میں بھی کارکردگی دکھانے کا وقت آ گیا، نواز شریف
- اگر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں عوامی توقعات پر پورا نہ اتری تو عوام کی ناراضی بجا ہوگی، صدر ن لیگ
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے کہا ہے کہ سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے اور انہوں نے ہمیشہ اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی سے شکایت کا موقع ملنے کی توقع نہیں تھی، تاہم سیاسی رقابت کو حدود میں رہنا چاہیے۔
مری کے گورنمنٹ ہاؤس میں نواز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کے اجلاس میں آزاد جموں و کشمیر میں حکومت سازی، آئندہ سیاسی حکمت عملی اور ترقیاتی منصوبوں پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، رانا ثناء اللہ، احسن اقبال، امیر مقام، سردار ایاز صادق، پرویز رشید، طلال چوہدری، انوشہ رحمان سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے، جبکہ آزاد کشمیر مسلم لیگ (ن) کے صدر شاہ غلام قادر، سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر اور نومنتخب ارکان اسمبلی نے بھی شرکت کی۔
نواز شریف نے آزاد کشمیر انتخابات میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) پہلے دو مراحل میں واضح اکثریت حاصل کرچکی ہے۔ انہوں نے شکست کھانے والے امیدواروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ناکامی کی وجوہات کا بھی جائزہ لیا جائے گا اور پارٹی مایوس نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں عوامی توقعات پر پورا نہ اتری تو عوام کی ناراضی بجا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح پنجاب میں ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے، اسی طرز پر آزاد کشمیر کی ترقی بھی یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف پر زور دیا کہ آزاد کشمیر کے لیے زیادہ سے زیادہ فنڈز فراہم کیے جائیں، طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ اور اسکالرشپ پروگرام شروع کیے جائیں، کسان کارڈ متعارف کرایا جائے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں کو دوبارہ فعال کیا جائے۔
نواز شریف نے کہا کہ آزاد کشمیر کی کابینہ میرٹ پر تشکیل دی جائے اور پارٹی منشور پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے آزاد کشمیر میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبے شروع کرنے اور حکومت کو عوام سے رابطے کے لیے ہیلی کاپٹر فراہم کرنے کی بھی تجویز دی۔
اجلاس میں آزاد کشمیر کے آئندہ وزیراعظم کے لیے ممکنہ امیدواروں پر بھی غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق شاہ غلام قادر مضبوط امیدوار تصور کیے جا رہے ہیں، جبکہ طارق فاروق، ریٹائرڈ کرنل وقار اور راجہ فاروق حیدر بھی دوڑ میں شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی نے وزیراعظم کے انتخاب کا حتمی اختیار نواز شریف کو دے دیا ہے، جبکہ مخصوص نشستوں کے امیدواروں کی حتمی منظوری بھی وہی دیں گے۔
اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ آزاد کشمیر میں عوامی خدمت، ترقیاتی منصوبوں اور پارٹی منشور پر عمل درآمد کو اولین ترجیح دی جائے گی۔