امریکا کی ایران کو اقتصادی دباؤ مزید بڑھانے کی دھمکی، آبنائے ہرمز میں مزید دو بحری جہازوں پر حملہ
- جمعرات کی شام ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کے دو بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے حملے کا نشانہ بن گئے
آبنائے ہرمز سے جمعے کو بحری آمدورفت تقریباً مکمل طور پر رک گئی، کیونکہ وہاں مزید دو بحری جہازوں پر حملے ہوئے جبکہ امریکا نے کہا ہے کہ وہ ایران کی بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک جاری رکھ سکتا ہے۔
ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے بدھ کو کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے جون میں طے پانے والے معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس کے بعد تجدید شدہ جنگ بندی بھی ٹوٹ گئی، جس پر ایران نے ان بحری جہازوں کے خلاف دوبارہ حملے شروع کردیے جن پر اسے آبنائے ہرمز سے اس کی اجازت کے بغیر گزرنے کا شبہ ہے۔
متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وام کے مطابق سرکاری ملکیتی ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کے دو بحری جہاز جمعرات کی شام آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے حملے کا نشانہ بنے۔ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ان حملوں کا الزام ایران پر عائد کیا، تاہم تہران کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی کمپنی کلیپر کے مطابق جمعرات کو خلیج کے داخلی راستے پر واقع اس تنگ آبی گزرگاہ سے 9 بحری جہاز گزرے، جو بدھ کے 5 جہازوں کے مقابلے میں زیادہ تھے، تاہم اگست کی اوسط 12 آمدورفت سے کم رہے۔
بحری آمدورفت کے اعدادوشمار کے مطابق جمعے کی صبح تک کسی بحری جہاز کی آبنائے سے گزرتے ہوئے واضح طور پر نشاندہی نہیں ہوئی۔
ممکن ہے کہ کچھ بحری جہاز اپنے ٹرانسپونڈرز بند کرکے نظروں سے اوجھل رہتے ہوئے آبنائے سے گزر رہے ہوں، تاہم یہ تعداد جنگ سے قبل روزانہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 130 سے زائد بحری جہازوں کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔ یہ جنگ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری میں ایران کے خلاف شروع کی گئی تھی۔
خطرات کا تجزیہ کرنے والی کمپنی ویریسک میپل کرافٹ کے مشرق وسطیٰ کے سینیئر تجزیہ کار توربیورن سولویٹ نے کہا، ’’خطے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرے کے ساتھ ساتھ آبنائے سے بحری آمدورفت محدود کرنے کی ایران کی صلاحیت مذاکرات میں اس کا سب سے بڑا دباؤ کا ذریعہ ہے۔‘‘
امریکا کا آئندہ ہفتے ایران کے خلاف مزید اقدامات کا اعلان
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکی فوج خطے میں بحری موجودگی برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے تاکہ ایران کے خلاف جوابی ناکہ بندی نافذ کی جاسکے، جس سے ملک کو شدید معاشی نقصان پہنچا ہے۔
ہیگسیتھ نے پاناما کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ’’امریکا غیر معینہ مدت تک ایسی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتا ہے، کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اندر باہر تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ پہلے بھی کرتے آئے ہیں، اور یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔‘‘
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکا ایران کو مزید مالی نقصان پہنچانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
انہوں نے نیوز میکس کے پروگرام ’’روب شمٹ ٹونائٹ‘‘ میں انٹرویو کے دوران کہا، ’’اگلے ہفتے مزید اعلانات کے لیے تیار رہیں، کیونکہ ہم کسی ملک کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی تاریخ میں پہلے کبھی نہ دیکھے گئے اقدامات کرنے جارہے ہیں۔‘‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ملک میں غیر مقبول جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔ ایندھن کی بلند قیمتوں نے ان کی مقبولیت کو متاثر کیا ہے اور نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ان کی جماعت کے کانگریس پر کنٹرول کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
بینچ مارک برینٹ فیوچرز اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کے فیوچرز دونوں معمولی اضافے کے ساتھ بالترتیب تقریباً 87 اور 81 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔
بھارت کی روسی خام تیل پر انحصار جولائی میں ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا، جبکہ خلیج سے ایندھن خریدنے والے بڑے صارف ایشیائی خطے کی ریفائنریوں نے مستقبل میں رسد یقینی بنانے کے لیے اس ہفتے امریکی خام تیل خریدا۔
ٹرمپ بارہا دعویٰ کرچکے ہیں کہ امریکا کو آبنائے ہرمز پر ’’مکمل کنٹرول‘‘ حاصل ہے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل اسی آبی گزرگاہ سے ہوتی تھی، تاہم ایران نے امریکی دعوے کی تردید کی ہے۔
تہران کا کہنا ہے کہ جب تک اس کی شرائط پوری نہیں کی جاتیں، وہ اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان شرائط میں اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ اور منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی شامل ہے۔
جمعرات کو ایرانی پارلیمانی کمیٹی نے آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کے منصوبے کی منظوری دے دی۔ نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق منصوبے میں امریکا، اسرائیل اور دیگر ’’دشمن‘‘ ممالک کی ملکیت والے اثاثوں اور آلات کی آبنائے سے آمدورفت پر پابندی کی شق بھی شامل ہے۔
امریکا نے جون کے وسط میں ایک ماہ کے لیے ایران کی بحری ناکہ بندی اور جہاز رانی پر پابندیاں اٹھا دی تھیں، تاہم بعد میں انہیں دوبارہ نافذ کردیا، جس کے نتیجے میں تہران کے زرمبادلہ کے بنیادی ذریعے تک رسائی محدود ہوگئی اور جنگ کے دوران توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے حملوں سے پہلے ہی ہونے والے نقصانات میں مزید اضافہ ہوگیا۔
واشنگٹن نے اس سے قبل کہا تھا کہ ایران اور عمان، جو آبنائے ہرمز کے دونوں جانب واقع ہیں، تجارتی جہاز رانی بحال کرنے کے لیے کسی معاہدے پر پہنچ جائیں تو امریکا ایران کی ناکہ بندی ختم کردے گا۔
تیل کی رسد میں کمی
ٹرمپ نے بھی بارہا فوجی حملوں میں اضافے اور ایران پر ’’سخت ضرب‘‘ لگانے کی دھمکیاں دی ہیں، تاہم اب تک انہوں نے زمینی فوج بھیجنے، تزویراتی اہمیت کے حامل جزائر پر قبضہ کرنے یا سمندری پانی کو میٹھا کرنے والے پلانٹس پر بمباری سے گریز کیا ہے۔
اس ہفتے کے آغاز میں ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ وہ فوجی کارروائی کے بجائے معاشی ذرائع پر انحصار کریں گے۔
امریکا نے ایران اور ان افراد و اداروں پر اقتصادی پابندیاں مزید سخت کردی ہیں جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ ایران کو ہتھیاروں کے حصول میں مدد فراہم کر رہے ہیں، تاہم دباؤ کی اس مہم کے باوجود تہران دوبارہ مذاکرات کی میز پر نہیں آیا۔
جمعرات کو یہ اطلاعات سامنے آنے کے بعد کہ یمن کے حوثیوں نے ڈرونز کے ذریعے سعودی آرامکو کی ایک ریفائنری کو نشانہ بنایا ہے، خطے میں جنگ پھیلنے کے خدشات ایک بار پھر بڑھ گئے۔
عالمی ماہرینِ اقتصادیات نے عالمی معاشی نمو میں نمایاں کمی اور بعض خطوں کے کساد بازاری کی زد میں آنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جنگ جلد ختم نہ ہوئی تو عالمی معیشت پر اس کے منفی اثرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔