کاروبار اور معیشت

ین کی قدر میں ہفتہ وار گراوٹ، نئی مداخلت کے امکانات بڑھ گئے

  • ین رواں ہفتے تقریباً 1 فیصد کمی کے ساتھ 159.43 ین فی ڈالر پر آگیا
شائع اپ ڈیٹ

ین جمعہ کو تین ماہ کے دوران اپنی سب سے بڑی ہفتہ وار گراوٹ کی جانب گامزن رہا کیونکہ امریکی اور جاپانی مداخلت کے اثرات زائل ہوگئے جس کے باعث ٹریڈرز کا خیال ہے کہ ین کی گرتی قدر کو روکنے کے لیے حکام کو ایک بار پھر کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کرنا پڑسکتی ہے۔

ین نے جولائی کے آخر اور اگست کے اوائل میں ہونے والی سرکاری مداخلت سے حاصل ہونے والی تقریباً نصف قدر واپس کھودی ہے اور رواں ہفتے تقریباً 1 فیصد کمی کے ساتھ 159.43 ین فی ڈالر پر آگیا ہے۔

جولائی میں سرکاری مداخلت سے قبل ین تقریباً 164 فی ڈالر پر ٹریڈ کر رہا تھا جبکہ ٹریڈرز 160 کی سطح کو نئی سرکاری مداخلت کے ممکنہ محرک کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

ین کی قدر میں یہ ہفتہ وار کمی مئی کے بعد سب سے بڑی ہونے کا امکان ہے جب سرکاری خریداری کے ایک مرحلے کے بعد بھی ین دوبارہ کمزور پڑ گیا تھا۔

رواں ہفتے یورو کے مقابلے میں ین کی قدر میں تقریباً 0.8 فیصد کمی ہوئی جس کے بعد یہ 183.91 ین فی یورو پر آگیا جو اپریل کے بعد سب سے بڑی ہفتہ وار گراوٹ ہے۔

جاپانی کرنسی جمعہ کی ابتدائی تجارت میں مستحکم رہی تاہم یہ کئی برسوں سے مسلسل کمزور ہورہی ہے۔ سرکاری مداخلت سے قبل ین تقریباً چار دہائیوں کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گیا تھا جس کی بنیادی وجوہات طویل عرصے سے کم شرح سود کے ساتھ ساتھ حکومتی اخراجات اور مالیاتی ضروریات سے متعلق اعتماد میں حالیہ کمی تھیں۔

رواں ہفتے مجموعی طور پر کرنسی مارکیٹ میں خاص اتار چڑھاؤ نہیں دیکھا گیا جہاں تیل کی بلند قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی سے ڈالر کو ملنے والی حمایت امریکی روزگار اور افراطِ زر کے نسبتاً بہتر اعداد و شمار سے زائل ہوگئی جن کے باعث امریکی شرح سود میں اضافے کی توقعات کم ہوگئیں۔

رات گئے جاری ہونے والے اعداد و شمار میں جولائی کے دوران امریکی پروڈیوسر قیمتیں مستحکم رہنے سے ستمبر میں شرح سود میں اضافے کی توقعات مزید کم ہوئیں جس کے اب تقریباً 35 فیصد امکانات دیکھے جارہے ہیں۔

رواں ہفتے یورو کی قدر 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 1.1536 ڈالر رہی جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3489 ڈالر پر مستحکم رہا۔

افراطِ زر کی توقعات کے حیران کن حد تک کم اعداد و شمار نے جمعرات کو نیوزی لینڈ ڈالر کو دباؤ میں ڈال دیا تاہم یہ دوبارہ سنبھل گیا کیونکہ سواپ مارکیٹ نے ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے 85 فیصد امکانات برقرار رکھے۔

آسٹریلوی ڈالر 0.7060 ڈالر کے قریب مستحکم رہا۔