پاکستان

مغوی پاکستانیوں کی رہائی کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے کی ہدایت

  • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ہنگامی کوششیں، صومالی ساحل پر یرغمال شہریوں کی محفوظ واپسی کے لیے عالمی شراکت داروں سے رابطہ
شائع اپ ڈیٹ

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں صومالیہ کے ساحل کے قریب بحری قزاقوں کی جانب سے ہائی جیک کیے جانے کے بعد ایم ٹی آنر 25 پر یرغمال بنائے گئے 10 پاکستانی شہریوں کی محفوظ اور جلد رہائی کے لیے پاکستان کی تیز کی گئی کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ پاکستانی شہریوں کی بحفاظت رہائی یقینی بنانے کے لیے قریبی اور باقاعدہ رابطہ برقرار رکھا جائے اور صومالی حکام سمیت قومی و بین الاقوامی شراکت داروں اور متعلقہ عالمی تنظیموں کے ساتھ سفارتی رابطوں کو مزید تیز کیا جائے۔

نائب وزیراعظم نے یرغمالیوں کے اہل خانہ سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صورتحال پر پوری طرح نظر رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسلسل اور مربوط سفارتی کوششیں مثبت نتائج کا باعث بنیں گی اور پاکستانی شہری بحفاظت اپنے اہل خانہ کے پاس واپس پہنچ سکیں گے۔

اپریل 2026 میں صومالی بحری قزاقوں نے صومالیہ کے ساحل کے قریب آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 پر حملہ کرکے اسے قبضے میں لے لیا تھا اور عملے کے 11 پاکستانی ارکان کو یرغمال بنا لیا تھا۔ پالاؤ کے پرچم بردار اس آئل ٹینکر کو 21 اپریل کو صومالیہ کے علاقے پنٹ لینڈ سے تقریباً 30 بحری میل دور قبضے میں لیا گیا۔ جہاز پر مجموعی طور پر 17 افراد سوار تھے، جن میں 10 پاکستانی شامل تھے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے 11 جون کو پاکستان کی خارجہ پالیسی، علاقائی صورتحال اور بیرونِ ملک پھنسے پاکستانی شہریوں کے حوالے سے حکومتی کوششوں پر میڈیا کو بریفنگ دی تھی۔

ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے تصدیق کی تھی کہ پاکستانی شہریوں کو صومالی بحری قزاقوں نے یرغمال بنا لیا ہے اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اس معاملے پر صومالی وزیر خارجہ سے باضابطہ رابطہ کیا ہے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ صومالی وزیر خارجہ نے مغوی پاکستانی شہریوں کی بحفاظت رہائی کے لیے پاکستان کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ترجمان نے کہا تھا کہ پاکستانی حکومت معاملے کو جلد از جلد حل کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں کارگو جہاز کے مالک سے بھی مسلسل رابطے میں ہے۔ تاہم ان کے بقول صورتحال کی انتہائی پیچیدہ نوعیت کے باعث اب تک پیش رفت محدود رہی ہے۔

طاہر اندرابی نے کہا تھا کہ یہ صورتحال اس لیے بھی حساس ہے کہ معاملہ ایک نیم خودمختار قبائلی خطے سے متعلق ہے، جہاں متعدد فریق شامل ہیں، جس کے باعث مذاکرات مزید پیچیدہ ہوگئے ہیں۔ ان چیلنجز کے باوجود ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی شہریوں کی سلامتی اور جلد رہائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے مزید بتایا تھا کہ یرغمالی ایسے کارگو جہاز پر سوار ہیں جس کے عملے میں کئی دیگر ممالک کے شہری بھی شامل ہیں۔

ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے صومالی وزیر خارجہ سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے نہ صرف پاکستانی شہریوں بلکہ دیگر یرغمالیوں کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات پر زور دیا تھا۔ پاکستان نے معاملے پر اپنی شدید تشویش سے آگاہ کرتے ہوئے فوری کارروائی کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

طاہر اندرابی نے بتایا تھا کہ اسلام آباد میں تعینات صومالی سفیر کو بھی طلب کرکے پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کیا گیا، جبکہ معاملے میں پیش رفت کے لیے مربوط حکمت عملی مرتب کرنے کی غرض سے دفتر خارجہ میں بین الوزارتی اجلاس بھی منعقد کیے گئے ہیں۔