دنیا

روسی صدر پیوٹن کا متنازع کوریل جزائر کا دورہ، جاپان کو سفارتی پیغام

  • روس اور جاپان کے درمیان دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے باوجود آج تک باضابطہ امن معاہدہ نہیں ہو سکا
شائع اپ ڈیٹ

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے جمعرات کو روس اور جاپان کے درمیان متنازع کوریل جزائر کے سلسلے میں واقع ایتوروپ جزیرے کا دورہ کیا۔ روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق یہ اس جزیرے کے لیے پیوٹن کا پہلا ذاتی دورہ تھا۔

روس اور جاپان کے درمیان دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے باوجود آج تک باضابطہ امن معاہدہ نہیں ہو سکا، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان ان جزائر کی ملکیت کا تنازع برقرار ہے۔ جاپان ان جزائر کو شمالی علاقہ جات قرار دیتا ہے۔

دورے کے دوران پیوٹن نے ایتوروپ میں واقع یاسنی فش پروسیسنگ پلانٹ کا معائنہ کیا، جہاں انہیں ماہی گیری کی صنعت اور مچھلیوں کی نقل مکانی سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

روسی ٹی وی چینل کی تصاویر میں پیوٹن کو میز پر رکھی بڑی ٹونا اور ہیلی بٹ مچھلیوں کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ انہوں نے مقامی مچھلی کے انڈوں (فش رو) کا بھی ذائقہ چکھا۔