کھیل

فیفا کو قیادت کی بحث نہیں، بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے، سربراہ فف پرو یورپ

  • انفینٹینو کو کھلی بغاوت کا سامنا ہے، تین کنفیڈریشنز—یوئیفا، اے ایف سی اور کونکاکاف—نے ان کے طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا
شائع اپ ڈیٹ

فٹبالرز کی یونین فف پرو یورپ کے سربراہ نے بدھ کو کہا ہے کہ فیفا کو اعتماد کے بحران کا سامنا ہے اور ادارے میں وسیع پیمانے پر انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عالمی فٹبال کی گورننگ باڈی میں اختیارات کے ارتکاز پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

فف پرو یورپ کے صدر ڈیوڈ ٹیریئر نے کہا کہ فیفا صدر جیانی انفینٹینو کی ورلڈ کپ کے تجارتی حقوق فروخت کرنے کی ناکام تجویز کے بعد فیڈریشنز اور کنفیڈریشنز کے درمیان اعتماد کے خاتمے کے باعث ’’حقیقی جنگ‘‘ میں پھنس گیا ہے۔

مارچ میں دوبارہ انتخاب کے خواہاں انفینٹینو کو گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کھلی بغاوت کا سامنا ہے، جب تین کنفیڈریشنز—یوئیفا، اے ایف سی اور کونکاکاف—نے ان کے طرزِ عمل پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

ٹیریئر نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ ’’اس مرحلے پر سوال یہ نہیں رہا کہ جیانی انفینٹینو کو عہدے پر رہنا چاہیے یا استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ واضح ہے کہ ایک حقیقی جنگ چھڑ چکی ہے اور متعدد فیڈریشنز و کنفیڈریشنز کا اعتماد اٹھ گیا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’میں یہ نہیں کہہ رہا کہ انفینٹینو کو لازماً عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔ میرے خیال میں موجودہ صورتحال میں یہ سوال تقریباً غیر متعلق ہوچکا ہے۔

’’مسئلہ یہ نہیں کہ انہیں استعفیٰ دینا چاہیے یا نہیں۔ ہمیں اصلاحات کی ضرورت ہے اور یہ ناگزیر ہیں۔ اعتماد کا حقیقی فقدان ہے اور اس بارے میں سنگین شکوک موجود ہیں کہ نظام کس طرح کام کررہا ہے۔‘‘

گزشتہ ہفتے مراکش میں ہونے والے ہنگامی اجلاس کے بعد فیفا نے اپنی 211 رکن ایسوسی ایشنز سے ورلڈ کپ کے تجارتی حقوق سے متعلق تجویز سے نمٹنے کے طریقۂ کار میں ہونے والی غلطیوں پر معذرت کی اور کہا کہ اس کی قیادت نے انفینٹینو کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

’’طرزِ حکمرانی ناقابلِ قبول‘‘

فیفا نے انفینٹینو کو کمزور کرنے کی کوششوں کے خلاف بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت کو چیلنج کرنے کی کوئی بھی کوشش عالمی فٹبال گورننگ باڈی کے آئین اور جمہوری طریقۂ کار کے مطابق ہونی چاہیے۔

تاہم ٹیریئر نے خبردار کیا کہ فیفا کو ان غلطیوں کے دوبارہ ارتکاب کا خطرہ ہے جنہوں نے 2015 میں بدعنوانی کے اسکینڈل کے نتیجے میں سابق صدر سیپ بلاٹر کے زوال سے قبل ادارے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔

انہوں نے کہا، ’’طرزِ حکمرانی کا یہ طریقہ اب نہ ممکن ہے اور نہ ہی قابلِ قبول، یہی وہ معاملہ ہے جس کی ہم برسوں سے نشاندہی کرتے آئے ہیں۔ اس وقت صورتحال اس سے بھی بدتر ہے جو بلاٹر کے استعفے کے وقت تھی۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’اگر ہم اسی نظام کے ساتھ آگے بڑھتے رہے تو ہمیں انہی شکوک و شبہات کا دوبارہ سامنا کرنا پڑے گا اور فٹبال کے لیے حالات سازگار نہیں ہوں گے۔ ہم ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں شکوک و شبہات بہت زیادہ ہیں اور اصلاحات ناگزیر ہوچکی ہیں۔‘‘

ان کے مطابق، ’’فیفا کے صدر کو خود ان اصلاحات کی قیادت اور حمایت کرنی چاہیے۔ ایسی صورت میں انہیں اپنا عہدہ داؤ پر لگانے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ اس کے بغیر جو کچھ بھی ہوگا، وہ فٹبال کی شکست ہوگی۔‘‘

’’نظام تبدیل کرنے کا آخری موقع‘‘

فیفا نے اصرار کیا کہ اس تجویز سے متعلق کیے گئے تمام اقدامات اس کے ضوابط کے مطابق تھے اور واضح کیا کہ جو غلطیاں ہوئیں وہ طریقۂ کار اور رابطہ کاری سے متعلق تھیں، نہ کہ انتظامی قواعد کی خلاف ورزی سے۔

تاہم ٹیریئر نے کہا کہ اس بحران نے ثابت کردیا ہے کہ یہ ’’نظام تبدیل کرنے کا شاید آخری موقع‘‘ ہے۔

انہوں نے کہا، ’’اختیارات کو تقسیم کرنا ہوگا، ایسا صدر ہونا چاہیے جو ضامن کا کردار ادا کرے لیکن تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں نہ رکھے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’یہ اصلاحات یقینی بنانے اور فٹبال کے تحفظ کے لیے مؤثر نظام وضع کرنے کا ہمارے پاس آخری موقع ہے۔‘‘

’’فیفا کی انتظامیہ اس پوزیشن میں نہیں، بلکہ اس قابل ہی نہیں کہ ایک مؤثر متبادل طاقت کے طور پر کام کرسکے یا ان قوانین، آئین اور ضوابط کی نگہبان بن سکے جو سب پر لاگو ہوتے ہیں، حتیٰ کہ خود فیفا کے صدر پر بھی۔‘‘