حکومت کی جانب سے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی) کو الگ الگ ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن اور ٹریڈنگ اداروں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ پاکستان کے گیس شعبے میں ایک اہم اور دور رس اصلاحات ثابت ہوسکتا ہے۔
دہائیوں تک دو عمودی طور پر مربوط سرکاری یوٹیلیٹی کمپنیوں کے ذریعے کام کرنے کے بعد ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن اور گیس ٹریڈنگ کو الگ کرنے سے بالآخر ایک زیادہ مسابقتی، شفاف اور مالی طور پر پائیدار گیس مارکیٹ کے لیے درکار ادارہ جاتی ڈھانچہ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کے پیچھے ایک خاص تاریخی منطق بھی موجود ہے۔ پاکستان کا گیس انفرااسٹرکچر موجودہ عمودی طور پر مربوط سوئی گیس کمپنیوں سے شروع نہیں ہوا تھا۔ 1952ء میں سوئی میں گیس کے بڑے ذخائر کی دریافت کے بعد 1954ء میں سوئی گیس ٹرانسمیشن کمپنی قائم کی گئی جس کا مقصد دریافت ہونے والے نئے گیس وسائل کو منتقل کرنا تھا۔
بعد ازاں ٹرانسمیشن کا نظام علاقائی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ساتھ ساتھ ترقی کرتا رہا، یہاں تک کہ 1989ء میں سوئی گیس ٹرانسمیشن کمپنی کراچی گیس کمپنی اور انڈس گیس کمپنی کے انضمام کے نتیجے میں سوئی سدرن گیس کمپنی قائم ہوئی۔ اسی طرح سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ بھی ترقی کرتے ہوئے ملک کے شمالی علاقوں کو خدمات فراہم کرنے والی عمودی طور پر مربوط ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کمپنی بن گئی۔
جو ڈھانچہ ملک میں ابتدائی گیس نیٹ ورک کی توسیع کے لیے کبھی موزوں سمجھا جاتا تھا اب ایسے گیس مارکیٹ کے لیے بتدریج غیر موزوں ہوتا جا رہا ہے جسے مقامی گیس کی گھٹتی ہوئی پیداوار، درآمدی ایل این جی، مسابقتی سپلائرز، مستقل مالی عدم توازن اور نجی سرمایہ کاری کی ضرورت جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
اس تناظر میں ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن اور ٹریڈنگ کو الگ کرنے کی تجویز کوئی بڑی انقلابی تبدیلی نہیں بلکہ بنیادی طور پر بدلتے ہوئے توانائی کے ماحول کے مطابق گیس شعبے کے ڈھانچے کو ازسرنو ترتیب دینے کی ایک کوشش ہے۔
یہ تصور خود نیا نہیں ہے۔ سوئی کمپنیوں کی تنظیمِ نو کی سابقہ کوششیں مالی اور تکنیکی قابلِ عمل ہونے سے متعلق خدشات، نیز صوبوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے مناسب مشاورت نہ ہونے کے باعث مؤخر کردی گئی تھیں۔ اس حوالے سے سابقہ تجربہ اہمیت رکھتا ہے۔
تازہ ترین اصلاحاتی کوشش کی حمایت کی جانی چاہیے، تاہم اس کے لیے محض ایک نئے تنظیمی خاکے کی منظوری دینے کے بجائے کہیں زیادہ محتاط رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
بنیادی مسئلہ سادہ ہے۔ پاکستان کے گیس شعبے میں گزشتہ برسوں کے دوران گہرے ساختی عدم توازن پیدا ہوچکے ہیں۔
بعض صارفین کے زمروں کے لیے لاگت سے کم قیمتوں کا تعین، کراس سبسڈی، گیس کے غیر شمار شدہ نقصانات، ادائیگیوں میں تاخیر، ایل این جی کی سابقہ ذمہ داریوں اور جمع شدہ واجبات نے مل کر ایسا نظام تشکیل دیا ہے جس میں ایک شعبے کی مالی صحت کو اکثر دوسرے شعبے کو سہارا دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مالی عدم توازن نے توانائی کے وسیع تر شعبے کے گردشی قرضے کے مسئلے میں بھی اضافہ کیا ہے۔
مجوزہ فریم ورک کا مقصد عین انہی کمزوریوں کو دور کرنا ہے۔ ریگولیٹری اثاثہ جاتی بنیاد اور سرمایہ کاری پر وزنی اوسط لاگت کی بنیاد پر کثیر سالہ ٹیرف نظام متعارف کرانے سے یوٹیلیٹی کمپنیوں کو زیادہ پیش بینی اور استحکام حاصل ہوسکتا ہے جبکہ ان کے قابلِ اجازت منافع کو حقیقی طور پر استعمال کیے جانے والے سرمائے سے منسلک کیا جاسکے گا۔
ٹرانسمیشن کو ٹریڈنگ اور ڈسٹری بیوشن سے الگ کرنے سے ہر شعبے کی کارکردگی اور معاشی افادیت کا الگ سے جائزہ لینے میں بھی مدد مل سکتی ہے، بجائے اس کے کہ عمودی طور پر مربوط اداروں کے اندر موجود غیر موثریتیں چھپی رہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ گیس کی فروخت کو مسابقتی بنیادوں پر منتقل کرنے کی مجوزہ سمت خاص توجہ کی متقاضی ہے۔
تجارتی اور صنعتی صارفین کو بتدریج مسابقتی ذرائع سے گیس خریدنے کی اجازت دینے جبکہ ٹرانسمیشن نیٹ ورک تک تیسرے فریق کی رسائی کو یقینی بنانے سے ایسے شعبے میں مسابقتی نظم و ضبط متعارف کرایا جاسکتا ہے جہاں انتظامی بنیادوں پر چلنے والی مارکیٹ مطلوبہ نتائج دینے میں مشکلات کا شکار رہی ہے۔
مجوزہ گیس مارکیٹ ریلیز پروگرام جس کے تحت گیس کے ایک حصے کی مقدار بتدریج نجی شعبے کے شرکا کے لیے دستیاب کرائی جائے گی، اس اصلاحات کے عمل کو شروع کرنے کے لیے ابتدائی محرک ثابت ہوسکتا ہے۔
تاہم اس اصلاحات کی کامیابی کا انحصار اس کے ڈیزائن کی خوبصورتی سے زیادہ اس کے مؤثر نفاذ پر ہوگا۔
دو کمپنیوں کو پانچ یا اس سے زیادہ اداروں میں تقسیم کردینے سے محض اس اقدام کی بنیاد پر مسابقت پیدا نہیں ہوجاتی۔ اسی طرح ان کے نام اور بیلنس شیٹس تبدیل کردینے سے بنیادی مالی مسائل بھی ختم نہیں ہوں گے۔
حقیقی خطرہ یہ ہے کہ پاکستان مختلف تنظیمی ڈھانچے کے تحت انہی غیر موثریتوں کے ساتھ زیادہ تعداد میں سرکاری ادارے قائم کرنے تک محدود ہو جائے۔ لہٰذا اصلاحات کو انتظامی سہولت کے بجائے معاشی افادیت اور کارکردگی کی بنیاد پر آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
یہ امر مجوزہ ٹرانسمیشن کمپنی کے لیے خاص طور پر اہم ہے۔ شفاف تھرڈ پارٹی ایکسس کی بنیاد پر کام کرنے والا مشترکہ ٹرانسمیشن نیٹ ورک ایک کھلی گیس مارکیٹ کی جانب اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے تاہم اس کے نظم و نسق اور انتظامی ڈھانچے کا کردار فیصلہ کن ہوگا۔
رسائی غیر امتیازی ہونی چاہیے، گیس کی ترسیل کے وہیلنگ چارجز شفاف ہونے چاہییں اور سرمایہ کاری کے فیصلے تجارتی بنیادوں پر معقول ہونے چاہییں۔ ٹرانسمیشن کمپنی کو ایک اور عمودی طور پر محفوظ سرکاری اجارہ دار ادارہ نہیں بننا چاہیے۔
یہی احتیاط ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے معاملے میں بھی ضروری ہے۔ صوبوں کے درمیان سسٹم لاسز میں موجود نمایاں فرق اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ صرف جغرافیائی بنیادوں پر نیٹ ورکس کی تقسیم کافی نہیں ہوگی۔
مجوزہ اداروں کے لیے کارکردگی کے واضح پیمانے، آزاد انتظامیہ اور گیس کے غیر شمار شدہ نقصانات میں کمی اور وصولیوں میں بہتری کے لیے مؤثر مراعات کا تعین ضروری ہے۔ کراس سبسڈیز کو محض ایک بیلنس شیٹ سے دوسری بیلنس شیٹ میں منتقل نہیں کیا جانا چاہیے۔
قیمتوں میں اصلاحات کا معاملہ اس سے بھی زیادہ سیاسی طور پر حساس ہوگا۔ روڈ میپ میں یہ تسلیم کرنا کہ غیر ہدفی سبسڈیز کو بالآخر ہدفی معاونت سے تبدیل کرنا ہوگا، درست سمت میں ایک قدم ہے۔
گیس کی قیمتیں وسیع صارفین کے زمروں کے لیے مصنوعی طور پر کم رکھنا بظاہر سماجی طور پر سہولت بخش دکھائی دے سکتا ہے لیکن اس کی لاگت ختم نہیں ہوتی۔ بالآخر یہ بوجھ دیگر صارفین ٹیکس دہندگان، گیس کمپنیوں یا گردشی قرضے کے ذخیرے پر منتقل ہوجاتا ہے۔
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کم آمدنی والے یا مستحق گھرانوں کو اچانک مکمل لاگت کے مطابق قیمتیں ادا کرنے پر مجبور کردیا جائے۔ اس کے برعکس، ایک سوچ سمجھ کر وضع کیا گیا ہدفی سبسڈی کا نظام حقیقی طور پر مستحق افراد کو تحفظ فراہم کرسکتا ہے جبکہ بنیادی مارکیٹ کو بتدریج زیادہ شفاف بنایا جاسکتا ہے۔
یہ منتقلی اتنی تدریجی ہونی چاہیے کہ قیمتوں میں اچانک اور شدید اضافے سے گریز کیا جاسکے، تاہم اس میں اتنی پختگی اور تسلسل بھی ہونا چاہیے کہ سرمایہ کار اور مارکیٹ کے شرکا واضح طور پر سمجھ سکیں کہ نظام کس سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔
اس معاملے کا ایک آئینی پہلو بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کی سیاسی معیشت میں گیس محض ایک تجارتی شے نہیں ہے۔ صوبائی مفادات خصوصاً گیس پیدا کرنے والے علاقوں کے حوالے سے، گیس کی تقسیم اور قیمتوں کا تعین تاریخی طور پر ایک متنازع معاملہ رہا ہے۔
لہٰذا کسی بھی بڑی تنظیمِ نو کے لیے صوبوں کے ساتھ حقیقی مشاورت اور جہاں ضروری ہو، مشترکہ مفادات کونسل سے رجوع کرنا ناگزیر ہوگا۔ اتفاقِ رائے پیدا کرنے کا عمل اصلاحات کو سست کرسکتا ہے لیکن اسے نظرانداز کرنے کی کوشش بالآخر اصلاحات کے عمل کو اس سے کہیں زیادہ سست کرسکتی ہے۔
ماضی کے قابلِ وصول واجبات اور مالی ذمہ داریوں کے لیے مجوزہ ہولڈنگ کمپنی کا قیام بھی اصولی طور پر ایک مناسب تجویز ہے۔ نئے آپریٹنگ اداروں کو بہتر ہوگا کہ وہ دہائیوں سے جمع شدہ مالی بوجھ اپنے ساتھ لے کر چلنے کے بجائے صاف اور شفاف بیلنس شیٹس کے ساتھ کام شروع کریں۔
لیکن یہ عمل محض ایک سرکاری ادارے سے دوسرے ادارے کو مالی ذمہ داریاں منتقل کرنے کی مشق نہیں بننا چاہیے۔ ماضی سے چلے آرہے واجبات اور مالی بوجھ کے تصفیے کے لیے بالآخر ایک قابلِ اعتبار طریقہ کار اور مالی لاگت کا واضح تعین ضروری ہوگا۔
اسی طرح اوگرا کو مضبوط بنانا بھی انتہائی اہم ہوگا۔ گیس مارکیٹ کو ڈی ریگولیٹ یا نیم ڈی ریگولیٹ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ضابطہ کاری کا خاتمہ کردیا جائے بلکہ اس کے لیے مزید مؤثر اور بہتر ریگولیشن درکار ہوگی۔
اوگرا کو مسابقت کی نگرانی، تھرڈ پارٹی ایکسس کے نفاذ، مارکیٹ کے طرزِ عمل کی نگرانی، قدرتی اجارہ داری والے شعبوں کی ضابطہ کاری اور سرکاری اجارہ داریوں کی جگہ نجی اجارہ داریوں کے قیام کو روکنے کے لیے اپنی استعداد میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا۔
لہٰذا حکومت کو محض پیش رفت دکھانے کے لیے گیس کمپنیوں کی ان بنڈلنگ کے عمل کو عجلت میں مکمل کرنے کی کوشش سے گریز کرنا چاہیے۔ ٹرانزیکشن ایڈوائزر کی تقرری کے بعد تکنیکی، مالی اور قانونی پہلوؤں کی جامع جانچ پڑتال کی جانی چاہیے۔ مجوزہ کارپوریٹ ڈھانچے، ٹیرف کے طریقۂ کار، سابقہ مالی واجبات سے نمٹنے کے طریقہ، صوبائی انتظامات اور مارکیٹ کو لبرلائز کرنے کے مراحل، سبھی کا نفاذ سے قبل مکمل طور پر جائزہ اور آزمائش ضروری ہے۔
سوئی کے ماڈل میں اصلاحات لانے کے حق میں ایک مضبوط معاشی جواز موجود ہے۔ پاکستان ایک ایسا گیس سیکٹر غیر معینہ مدت تک برقرار نہیں رکھ سکتا جس میں تجارتی اور سماجی مقاصد گڈمڈ ہوں، کراس سبسٹیز (باہمی اعانت) کے ذریعے اخراجات کو مبہم رکھا جائے اور جمع ہونے والی نااہلیاں بالآخر گردشی قرضے کی صورت میں سامنے آئیں۔
زیادہ مسابقتی مارکیٹ، شفاف ٹیرف اور نجی شعبے کی شمولیت سے سرمایہ کاری کے لیے مراعات بہتر ہوسکتی ہیں اور بالآخر قومی خزانے پر بوجھ بھی کم کیا جاسکتا ہے۔
تاہم مقصد محض ان بنڈلنگ کی خاطر ان بنڈلنگ نہیں ہونا چاہیے۔ اصل ہدف ایسا گیس مارکیٹ نظام تشکیل دینا ہونا چاہیے جہاں ٹرانسمیشن کا نظام مؤثر انداز میں چلایا جائے، ڈسٹری بیوشن کمپنیاں اپنی کارکردگی کے لیے جواب دہ ہوں، سپلائرز کو مساوی مواقع کی بنیاد پر مسابقت حاصل ہو اور مستحق صارفین کو واضح اور ہدفی معاونت فراہم کی جائے۔
یہ ایک ایسی اصلاحات ہے جسے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ تاہم حکومت کو گزشتہ کوششوں کے انجام سے سبق سیکھنا چاہیے۔ گیس شعبے میں ایک اور بلند بانگ منصوبے کی گنجائش نہیں جو ادارہ جاتی مزاحمت، سیاسی اختلافات اور عمل درآمد میں تاخیر کے باعث تعطل کا شکار ہوجائے۔
اصلاحات کے مراحل کی محتاط ترتیب، صوبوں میں اتفاقِ رائے، شفاف مالی انتظامات اور ایک حقیقی معنوں میں آزاد ریگولیٹر اس عمل کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہوں گے۔
اگر درست طریقے سے عمل درآمد کیا جائے تو ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی کی تنظیمِ نو پرانے سوئی ماڈل سے ایک مسابقتی گیس مارکیٹ کی جانب منتقلی کے آغاز کی بنیاد بن سکتی ہے۔ تاہم عجلت میں کیے گئے اقدامات کا نتیجہ صرف مزید کمپنیوں کے قیام کی صورت میں نکل سکتا ہے جبکہ ان بنیادی مسائل کا حل نہ نکلے جنہوں نے ابتدا ہی میں اصلاحات کی ضرورت پیدا کی تھی، لہٰذا حکومت کو انتہائی احتیاط اور تدبر کے ساتھ۔آگے بڑھنا چاہیے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026