کاروبار اور معیشت

سم جیو فینسنگ کی خلاف ورزی، پی ٹی اے کا سی ایم پاک پر 77.8 ملین روپے جرمانہ

  • ریگولیٹر نے چائنا موبائل پاکستان کو مجاز سیلز چینل کے مقررہ جغرافیائی حدود سے باہر سمز کی فروخت کی اجازت دینے کا ذمہ دار قرار دیا
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سمز کی فروخت کیلئے استعمال ہونے والے بائیومیٹرک ویری فکیشن سسٹم (بی وی ایس) ڈیوائسز پر لازمی 100 میٹر جیو فینسنگ کی شرط کو نافذ کرنے میں ناکامی پر چائنا موبائل پاکستان (سی ایم پاک) پر 77.8 ملین روپے کا بھاری جرمانہ عائد کردیا ہے۔

پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ انفورسمنٹ آرڈر کے مطابق ریگولیٹر نے چائنا موبائل پاکستان کو مجاز سیلز چینل کے مقررہ جغرافیائی حدود سے باہر سمز کی فروخت کی اجازت دینے کا ذمہ دار قرار دیا جو مقررہ ضابطہ کار کی خلاف ورزی ہے۔

یہ معاملہ 30 مارچ 2026 کو پی ٹی اے کی جانب سے کیے گئے فیلڈ معائنے سے سامنے آیا جس کے دوران اتھارٹی نے پایا کہ چائنا موبائل پاکستان کی ٹیکسلا فرنچائز سے وابستہ ایک مجاز سیلز نمائندہ اسلام آباد کے آئی-10 مرکز میں سمز فروخت کررہا تھا جو فرنچائز کے منظور شدہ علاقائی دائرۂ اختیار اور مقررہ جغرافیائی حدود سے باہر واقع ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق یہ سرگرمی اتھارٹی سے مطلوبہ ڈور ٹو ڈور/کیوسک کی منظوری حاصل کیے بغیر بھی انجام دی جا رہی تھی۔

انفورسمنٹ آرڈر میں کہا گیا کہ بی وی ایس کی جیو فینسنگ کی شرط اس بات کو یقینی بنانے کے لیے متعارف کرائی گئی تھی کہ بائیومیٹرک ڈیوائسز منظور شدہ سیلز چینل کے مقررہ جغرافیائی مقام سے 100 میٹر کے دائرے میں رہیں۔

مقررہ مقام سے باہر سمز کی فروخت ممنوع ہے جب تک کہ پی ٹی اے کی جانب سے اس کی خصوصی منظوری نہ دی گئی ہو۔

سی ایم پاک نے مجوزہ کارروائی کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ واقعہ اس کے کمپلائنس نظام کی کسی خامی کے بجائے ایک ہی ڈیٹا سیلز آفیسر کی انفرادی آپریشنل غلطی کا نتیجہ تھا۔

کمپنی نے اتھارٹی کو بتایا کہ متعلقہ تمام سمز کامیاب بائیومیٹرک تصدیق کے بعد ہی ایکٹیویٹ کی گئی تھیں اور مقررہ ریکارڈ کے ذریعے ان کا سراغ لگایا جاسکتا تھا۔ کمپنی نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ کسی جعلی یا گمنام سم کا اجرا، بائیومیٹرک تصدیقی نظام کو بائی پاس کرنا یا نادرا کی تصدیق میں ناکامی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

سی ایم پاک نے پی ٹی اے کو مزید آگاہ کیا کہ خلاف ورزی کی اطلاع ملنے کے بعد اس نے اصلاحی اقدامات کیے جن میں متعلقہ فرنچائز کو شوکاز نوٹس اور وارننگ لیٹر جاری کرنا، ذمہ دار ڈی ایس او کی ملازمت ختم کرنا، کمپلائنس سے متعلق ہدایات جاری کرنا اور اپنے داخلی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانا شامل ہے۔

تاہم پی ٹی اے نے کمپنی کا مؤقف مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ کامیاب بائیومیٹرک تصدیق جیو فینسنگ کی لازمی شرط کی الگ سے ہونے والی خلاف ورزی کو ختم نہیں کرتی۔

اتھارٹی نے قرار دیا کہ بائیومیٹرک تصدیق اور جیو فینسنگ دو الگ الگ ضابطہ جاتی تقاضے ہیں۔ بائیومیٹرک تصدیق صارف کی شناخت کی تصدیق کرتی ہے جبکہ جیو فینسنگ کا مقصد سمز کی فروخت کو مجاز مقامات تک محدود رکھنا، بی وی ایس ڈیوائسز کی غیر مجاز منتقلی کو روکنا اور غیر قانونی یا ناقابلِ سراغ سمز کے اجرا کے خطرے کو کم کرنا ہے۔

پی ٹی اے نے سی ایم پاک کا یہ مؤقف بھی مسترد کردیا کہ خلاف ورزی کی ذمہ داری فرنچائز یا متعلقہ ڈی ایس او پر عائد کی جاسکتی ہے۔ سبسکرائبرز اینٹی سیڈنٹس ویری فکیشن ریگولیشنز اور لائسنس کی شرائط کے تحت آپریٹر اپنے مجاز سیلز نیٹ ورک کے ذریعے ہونے والی سمز کی فروخت کا قانونی اور براہِ راست ذمہ دار رہتا ہے۔