کاروبار اور معیشت

مالی سال 2027 کے اختتام تک زرمبادلہ ذخائر 21.1 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے،اسٹیٹ بینک

  • مرکزی بینک نے پیر کو جاری اپنی ششماہی مانیٹری پالیسی رپورٹ میں اگرچہ معیشت کے لیے مثبت امکانات ظاہر کیے، تاہم کم از کم 4 بڑے خطرات کی نشاندہی بھی کی ہے
شائع اپ ڈیٹ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملکی معیشت کے لیے امید افزا منظرنامہ پیش کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک مرکزی بینک کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر نئی بلند ترین سطح 21.1 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔

مرکزی بینک نے پیر کو جاری اپنی ششماہی مانیٹری پالیسی رپورٹ میں اگرچہ معیشت کے لیے مثبت امکانات ظاہر کیے، تاہم کم از کم 4 بڑے خطرات کی نشاندہی بھی کی ہے، جن میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے دوران عالمی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نمایاں ہے۔

معیشت کو لاحق دیگر خطرات میں ساختی اصلاحات پر عملدرآمد میں تاخیر، عالمی ٹیرف سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث برآمدات کے لیے مشکل ماحول اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خطرات، بالخصوص ایل نینو کی صورتحال شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 27 میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کارکنوں کی ترسیلاتِ زر اور اشیا و خدمات کی برآمدات میں اضافے کی توقع ہے۔

مرکزی بینک نے کہا کہ اس پیش رفت کے ساتھ منصوبہ بندی کے مطابق سرکاری رقوم کی آمد سے دسمبر 2026 کے اختتام تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر ہدف شدہ 20.20 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ جون 2027 تک زرمبادلہ ذخائر مزید بڑھ کر 21.1 ارب ڈالر ہونے کا امکان ہے۔

مرکزی بینک نے مالی سال 27 میں اقتصادی شرح نمو 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کا تخمینہ لگایا ہے، جبکہ مالی سال 26 کے لیے عارضی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ مالی سال کی شرح نمو کے حتمی اعداد و شمار سامنے آنے پر یہ تقریباً 4 فیصد تک بہتر ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں تنازع شروع ہونے کے فوراً بعد مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے سابقہ جائزے کے مقابلے میں مالی سال 27 کے لیے پاکستان کا مجموعی معاشی منظرنامہ بہتر ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مہنگائی پہلے کے اندازوں کے مقابلے میں کم رہنے، معاشی سرگرمیوں میں بتدریج بحالی اور بیرونی کھاتے پر دباؤ معتدل رہنے کی توقع ہے، جبکہ اسٹیٹ بیبک کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق محتاط زری اور مالیاتی پالیسیوں پر مسلسل عملدرآمد نے گزشتہ برسوں کے مقابلے میں معیشت کی بیرونی اور اندرونی دھچکوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت بہتر بنائی ہے۔

تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ بنیادی معاشی منظرنامہ اب بھی متعدد قلیل اور درمیانی مدت کے خطرات سے مشروط ہے، جو بیرونی اور اندرونی دونوں ذرائع سے پیدا ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر جاری مشرق وسطیٰ تنازع کے دورانیے اور شدت سے متعلق غیر یقینی، ناموافق موسمی واقعات، عالمی ٹیرف پالیسیاں اور ساختی اصلاحات پر عملدرآمد میں تاخیر بڑے خطرات ہیں، جن کا ایم پی سی نے اپنے حالیہ معاشی جائزے اور پالیسی فیصلوں میں جائزہ لیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کی محتاط زری پالیسی کے تحت شرح سود میں کیے گئے اقدامات توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے بالواسطہ اثرات کو محدود کرنے میں مدد دے رہے ہیں، جبکہ مارکیٹ کے شرکا کی مہنگائی سے متعلق توقعات بھی مجموعی طور پر قابو میں ہیں۔

دوسری جانب حکومت نے عالمی قیمتوں میں اضافے کو بروقت مقامی قیمتوں میں منتقل کیا اور کمزور ترین آبادی اور کاروباری شعبوں کی مدد کے لیے عارضی اور ہدفی سبسڈیز متعارف کرائیں۔ حکومت نے توانائی کی بچت کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات بھی کیے۔

رپورٹ کے مطابق ان اقدامات سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور مجموعی طلب کو معتدل رکھنے میں مدد ملی۔

تاہم اسٹیٹ بینک نے کہا کہ عالمی دھچکے اور اس کے نتیجے میں کیے گئے پالیسی اقدامات نے اس معاشی نمو کی رفتار کو کمزور کر دیا جو مشرق وسطیٰ میں تنازع شروع ہونے سے قبل تیزی سے بحال ہو رہی تھی۔