دنیا

ٹرمپ کا ایران سے جنگی نقصانات کا ہرجانہ طلب کرنے کا اعلان

  • امریکی صدر کا یہ تازہ بیان ایران اور امریکا تنازع میں ’’کم شدت‘‘ کی حکمت عملی اپنانے کی یقین دہانی کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے
شائع اپ ڈیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ وہ کسی بھی امن مذاکرات کے حصے کے طور پر ایران سے جنگی نقصانات کا ہرجانہ طلب کریں گے۔ انہوں نے اس کی وجہ ایران کی جانب سے مبینہ طور پر کئی دہائیوں سے کیے یا حمایت یافتہ حملوں اور مظالم کو قرار دیا۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ’’ایران گزشتہ پانچ ماہ کے دوران ہونے والے فوجی تنازع میں اسے پہنچنے والے نقصانات کا ہرجانہ مانگ رہا ہے۔۔۔ میں بھی ایران سے ان تمام افراد کی ہلاکت اور شدید زخمی ہونے پر ہرجانہ طلب کر رہا ہوں جنہیں ایران نے سڑک کنارے بموں اور متعدد تنازعات کے ذریعے نشانہ بنایا۔‘‘

یہ ایک باقاعدہ طرزِ عمل بنتا جا رہا ہے کہ ٹرمپ گزشتہ ہفتے ایران کو ’’بہت سخت‘‘ نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے رہے، جس میں ممکنہ طور پر شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے بھی شامل تھے، لیکن پھر اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے اور عندیہ دیا کہ امن معاہدہ قریب ہے۔

ٹرمپ کے تازہ بیانات ٹروتھ سوشل پر ایک روز بعد سامنے آئے جب انہوں نے کہا تھا کہ وہ تنازع سے متعلق اپنا مؤقف ’’کم شدت‘‘ پر رکھ رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مزید فوجی حملوں کے بجائے اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔

ڈیجیٹل میڈیا ادارے ایکسیوس نے کہا کہ اتوار کو شائع ہونے والے انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کے معاہدے میں ایران کی جانب سے تاخیر پر کسی قسم کی ناراضی کا اظہار نہیں کیا۔

تہران کا مطالبہ ہے کہ امریکا پہلے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے اور اس کی تیل کی صنعت پر عائد پابندیاں اٹھائے۔

مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے ساتھ ہی ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش نے ایندھن کی قیمتیں آسمان پر پہنچا دی ہیں اور عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس کے باعث نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں 2000 میں یو ایس ایس کول پر ہونے والے بم حملے کا حوالہ دیا اور کہا کہ ہرجانہ ان ’’لاکھوں بے گناہ مظاہرین کے خاندانوں‘‘ کو بھی ادا کیا جانا چاہیے جنہیں ان کے بقول ایران نے گزشتہ 50 برس کے دوران ہلاک کیا۔

انہوں نے کہا، ’’میں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مستقبل میں ہونے والے تمام مذاکرات میں اس مطالبے کو پوری مضبوطی سے شامل کریں۔‘‘