میر رضا کی ہلاکت کی عدالتی تحقیقات مؤخر، اہلِ خانہ کی نئی پولیس ٹیم کی حمایت
- حکام کو مبینہ طور پر مقتول کے پھیپھڑوں میں غیر معمولی اثرات کا انکشاف
سندھ حکومت نے کراچی کے نوجوان میر رضا علی کی پُراسرار موت کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کا فیصلہ اس وقت مؤخر کر دیا جب ان کے اہل خانہ نے پولیس کی نئی تشکیل کردہ تحقیقاتی ٹیم پر اعتماد کا اظہار کیا۔
سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے پیر کو ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ کراچی کے میئر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے متوفی کی والدہ سے بات کی تھی۔
ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ سندھ حکومت نے شفافیت اور خاندان کے مکمل اطمینان کو یقینی بنانے کے لیے عدالتی انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم پولیس کی نئی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کے بعد اہل خانہ کا یہ مؤقف ہے کہ انہیں نئی پولیس ٹیم پر اعتماد ہے اور وہی اس معاملے کی تحقیقات کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی وجہ سے عدالتی کمیشن بنانے کا فیصلہ فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب بظاہر اہل خانہ نے مجوزہ عدالتی کمیشن پر اعتراضات اٹھائے۔ ضیا لنجار اور میئر مرتضیٰ وہاب نے اتوار کی رات میر رضا کے والدین سے ملاقات کی اور تعزیت کی۔ ملاقات کے بعد صوبائی وزیر داخلہ نے اعلان کیا تھا کہ حکومت اس کیس کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کی تشکیل کی درخواست کرے گی۔
ضیا الحسن لنجار نے کہا تھا کہ صوبائی حکومت، سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کی سفارش پر سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر عدالتی کمیشن بنانے کی درخواست کرے گی۔تاہم میر رضا کے والد میر حسین نے بعد میں کہا کہ خاندان اس مرحلے پر اس تجویز کی حمایت نہیں کرتا۔
پیر کو سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے نام ایک خط میں میر حسین نے مجوزہ عدالتی کمیشن کی مخالفت کی اور الزام لگایا کہ سندھ حکومت عدالتی انکوائری کی آڑ میں معاملے کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت تفتیش سے جان چھڑانے اور عدالتی کمیشن کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی فوجداری مقدمے کی تحقیقات کا قانونی اختیار پولیس کے پاس ہے، اس لیے اس معاملے کی جانچ پڑتال پولیس کو ہی کرنی چاہیے۔
اس کے برعکس اہل خانہ نے پولیس کی نئی تحقیقاتی ٹیم پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ میر حسین نے کہا کہ ڈی آئی جی عامر فاروقی ایک معتبر افسر ہیں اور خاندان کو یقین ہے کہ نئی ٹیم ان کے بیٹے کی موت کے حقائق سامنے لے آئے گی۔
میر رضا کے وکیل جبران ناصر نے بھی ایک روز قبل کہا تھا کہ خاندان نے نہ تو عدالتی کمیشن کی تشکیل کی درخواست کی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔جبران ناصر نے مزید کہا کہ نہ ہی ہم سمجھتے ہیں کہ اس مرحلے پر اس کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے اور اہل خانہ اس سے ملاقات کریں گے۔
انہوں نے سندھ حکومت پر زور دیا کہ وہ خاندان کی سہولت کے نام پر رکاوٹیں یا ابہام پیدا نہ کرے۔
فرانزک شواہد
دریں اثنا آج نیوز کی رپورٹ کے مطابق میر رضا کی موت کی تحقیقات کرنے والے تفتیش کاروں نے ان کے جسمانی اور کیمیائی معائنے سے ایسے اہم شواہد حاصل کر لیے ہیں جنہیں حکام نے ممکنہ طور پر انتہائی اہم قرار دیا ہے۔
تفتیشی ذرائع نے بتایا کہ مقتول کے معدے اور پھیپھڑوں سے اہم مواد برآمد ہوا ہے۔ حکام کو ان کے پھیپھڑوں پر غیر معمولی اثرات بھی ملے ہیں، جبکہ ان کی قمیض سے ایسے پسینے کے نشانات مبینہ طور پر ملے ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ کسی اور شخص کے ہیں۔ ڈی این اے اور کیمیائی تجزیے سے متعلق فرانزک رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
تفتیش کاروں نے میر رضا کے ہاتھوں اور پیروں سے بھی شواہد اکٹھے کیے ہیں، جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ اس سے ان کی موت کے حالات کا تعین کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
بڑھتی ہوئی تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر پولیس نے اس گیسٹ ہاؤس کو سیل کر دیا ہے جہاں میر رضا کی لاش ملی تھی۔ واقعے کی رات کی سرگرمیوں کے بارے میں پوچھ گچھ کے لیے گیسٹ ہاؤس سے وابستہ چھ ملازمین کو بھی حتحراست میں لے لیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق تفتیش کے سلسلے میں اب تک 21 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں میر رضا کے کچھ قریبی دوست اور کاروباری شراکت دار بھی شامل ہیں۔ تفتیش کاروں نے حراست میں موجود افراد کو سوالنامے جاری کیے ہیں اور نوجوان کی موت کے اسباب جاننے کے لیے ان کے تفصیلی بیانات ریکارڈ کر لیے ہیں۔