عالمی ترقی کے حوالے سے ورلڈ بینک کی ایک حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پاکستان کے روزگار کے بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔
مصنوعی ذہانت سے دنیا بھر میں روزگار متاثر ہونے کی توقع ہے، اگرچہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں اس کے اثرات مختلف ہوسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، جو ممالک درست وقت پر درست اقدامات کریں گے، ان کے لیے یہ نئے مواقع بھی پیدا کرے گی۔
ترقی یافتہ دنیا میں کمپنیاں اور حکومتیں مصنوعی ذہانت پر بھاری رقوم خرچ کر رہی ہیں، جس کا اندازہ صرف 5 امریکی کمپنیوں کی جانب سے کی جانے والی حیران کن 775 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے لگایا جاسکتا ہے۔ یہ سرمایہ کاری کارکردگی میں نمایاں بہتری پیدا کرے گی، لیکن اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ابتدائی سطح کی ملازمتیں بھی ختم ہوسکتی ہیں۔ بہت سے نئے گریجویٹس پہلے ہی روزگار تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور امکان ہے کہ یہ چیلنج مزید بڑھ جائے گا۔
اس صورتحال سے پاکستان کو ملنے والی ہوم ریمیٹنسز کی شرح نمو بھی متاثر ہوسکتی ہے، کیونکہ کم تعداد میں تعلیم یافتہ اور ہنرمند کارکنوں کو مغرب اور مشرق وسطیٰ میں روزگار کے مواقع مل سکیں گے۔ پاکستان کو کارکنوں کی ترسیلاتِ زر کا بڑا حصہ انہی دونوں خطوں سے حاصل ہوتا ہے۔
گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران پاکستان نے اپنے بلینس آف پیمنٹ کی پوزیشن کو سہارا دینے کے لیے بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر پر بہت زیادہ انحصار کیا ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں ملکی معاشی پیداواریت میں کمی آئی ہے، جس کے نتیجے میں برآمدات کمزور جبکہ حقیقی معنوں میں درآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس فرق کو بڑی حد تک ترسیلات زر میں مسلسل مضبوط نمو نے پورا کیا ہے۔
مصنوعی ذہانت سے روزگار کو لاحق خطرے اور جاری جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ میں معاشی سست روی کے امکان کے ساتھ، درمیانی مدت میں پاکستان کے بیرونی معاشی چیلنجز میں اضافے کا امکان ہے۔
ملکی مارکیٹ میں بھی روزگار کے خاتمے کا خطرہ موجود ہے، خواہ وہ برآمدی شعبے سے منسلک خدمات ہوں یا مقامی کاروبار، کیونکہ مصنوعی ذہانت تیزی سے معیشت میں داخل ہورہی ہے اور خودکار نظام علم پر مبنی کاموں کی جگہ لے رہے ہیں۔ پاکستان کی تیزی سے ترقی کرنے والی برآمدی شعبہ جاتی سرگرمیوں میں آئی ٹی اور دیگر کاروباری خدمات شامل ہیں، جن کی برآمدات گزشتہ چند برسوں میں دگنی ہوکر تقریباً 6 ارب ڈالر ہوگئی ہیں۔
تاہم ان خدمات میں بڑی تعداد ایسے نسبتاً بنیادی کاموں پر مشتمل ہے جو پاکستان کو اس لیے حاصل ہوتے ہیں کیونکہ یہاں مزدوری کی لاگت کم ہے۔ مصنوعی ذہانت تیزی سے ایسے کاموں کو اپنے ذمے لے رہی ہے، جس سے آؤٹ سورسنگ کی ضرورت کم ہورہی ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں کارکنوں کو ملازمت دینے کے مقابلے میں مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کی لاگت نمایاں طور پر کم ہے، جس کا مطلب ہے کہ کم مزدوری کی لاگت پر مبنی پاکستان کا فائدہ کم ہورہا ہے۔ کم درجے اور ابتدائی سطح کی ملازمتیں خاص طور پر خودکاری کے خطرے سے دوچار ہیں۔
لہٰذا کم ہنرمندی والے کاموں پر مبنی خدمات کی برآمدات میں نمو کی رفتار سست ہونے کا امکان ہے۔ بھارت اپنے بڑے آؤٹ سورسنگ شعبے کے باعث پہلے ہی اس تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر برداشت کر رہا ہے۔ پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک بھی جلد اس کے اثرات محسوس کرنا شروع کرسکتے ہیں۔
دریں اثنا، ملکی مارکیٹ میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے (ایس ایم ایز) ملازمین کی تعداد کم کر رہے ہیں اور ایسے کاموں کی جگہ مصنوعی ذہانت کے ٹولز استعمال کرنے کے لیے ان کی خدمات حاصل کر رہے ہیں جو پہلے ملازمین انجام دیتے تھے۔
پاکستان کے حکام اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی عالمی صورتحال کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔ انہیں زیادہ پیچیدہ شعبوں میں مہارت پیدا کرکے ویلیو چین میں اوپر جانا ہوگا اور کال سینٹرز، بنیادی کوڈنگ اور معمول کے حساب کتاب جیسے کاموں سے آگے بڑھنا ہوگا۔ تاہم یہ کہنا آسان اور کرنا مشکل ہے۔ صنعت کے ماہرین کے مطابق پاکستان کی بہت سی بڑی آئی ٹی کمپنیاں ابھی اس تبدیلی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ایک اور موقع یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کو کم تیاری رکھنے والے ہائی اسکول اور کالج گریجویٹس کی صلاحیتیں بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جائے، تاکہ انہیں مارکیٹ میں قابلِ فروخت مہارتیں حاصل کرنے میں مدد مل سکے۔ صرف طویل ڈگری پروگرامز پر انحصار کرنے کے بجائے نوجوان مرد و خواتین کو اسکریننگ کے ذریعے منتخب کیا جاسکتا ہے اور انہیں وہ مہارتیں فراہم کی جاسکتی ہیں جن کی مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کو ضرورت ہے۔ مصنوعی ذہانت کو ملک کے صحت اور تعلیم کے نظام کو نمایاں طور پر بہتر بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، جہاں روایتی طریقہ کار اکثر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
مختصراً مصنوعی ذہانت پاکستان جیسے ممالک کے لیے نقصانات کے مقابلے میں زیادہ فوائد فراہم کرسکتی ہے، بشرطیکہ وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے۔ بصورت دیگر، یہ ایک ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہوسکتی ہے، کیونکہ پاکستان کے پاس کئی سال تک جاری رہنے والے معاشی اور روزگار کے بحران کو برداشت کرنے کے لیے خاطر خواہ حفاظتی وسائل موجود نہیں ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026