آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدہ قریب، ایران کا فوری طور پر آبنائے کھولنے سے انکار
- آبنائے ہرمز پر مذاکرات میں پیش رفت، ایران کی شرائط اور 15 بحری جہازوں پر حملے کشیدگی برقرار رہنے کا ثبوت
ایران نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق عمان کے ساتھ معاہدہ قریب ہے، تاہم یہ معاہدہ آبنائے میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک اور بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، جمعے کو کہا تھا کہ واشنگٹن کو توقع ہے کہ آبنائے کے دونوں جانب واقع ایران اور عمان کے درمیان جلد معاہدہ ہوجائے گا، جس کے بعد تیل کی معمول کی ترسیل بحال ہوسکے گی۔
اس تزویراتی آبی گزرگاہ کے انتظام سے متعلق دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کو 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والے تنازع کے خاتمے کے لیے وسیع تر معاہدے میں اہم پیش رفت تصور کیا جارہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے ذریعے نئے بحری راستے سے متعلق معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، تاہم آبنائے کو دوبارہ کھولنے کا انحصار امریکا کی جانب سے ایران کو معاوضے سمیت دیگر شرائط پر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے سابقہ ٹریفک سیپریشن اسکیم اب تہران کے لیے قابل قبول نہیں رہی۔ ایران عمان کے ساتھ ایک عارضی بحری راستے پر بات چیت کررہا ہے جبکہ مستقل راستے سے متعلق تکنیکی اور قانونی معاملات طے کیے جارہے ہیں۔
ایران نے امریکا کے حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک اور اردن میں امریکی اڈوں کے ساتھ ساتھ تنگ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی تھی۔
متحدہ عرب امارات نے ہفتے کو کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے اس کی سرکاری آئل کمپنی سے وابستہ ایک بحری جہاز کو میزائل سے نشانہ بنایا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ آبنائے میں بحری جہازوں پر حملوں میں یہ تازہ ترین اضافہ ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ایرانی میڈیا نے متحدہ عرب امارات کی رپورٹ تو شائع کی، تاہم اس حصے کو شامل نہیں کیا جس میں حملے کا الزام ایران پر عائد کیا گیا تھا۔
معاہدے کے اعلان پر امریکا ایران کی ناکہ بندی ختم کردے گا، عہدیدار
حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ انتظامیہ نے متعدد مرتبہ عندیہ دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے معاہدہ قریب ہے، تاہم ایران ہر بار مذاکرات جاری ہونے کی تردید کرتا رہا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ مذاکرات کا حالیہ سلسلہ کسی زیادہ پائیدار انتظام پر منتج ہوگا یا نہیں۔
ایک امریکی عہدیدار نے جمعے کو رائٹرز کو بتایا، ’’عمان اور ایران کے درمیان آبنائے کے معاملے پر پیش رفت ہورہی ہے اور ہمیں جلد معاہدے کی توقع ہے۔‘‘ ان کے مطابق، ’’جیسے ہی بغیر کسی رکاوٹ کے تجارتی بحری آمدورفت بحال کرنے کے معاہدے کا اعلان ہوگا، امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کردے گا۔‘‘
عہدیدار نے کہا کہ امریکا کی کارروائیاں حسب معمول نتائج سے مشروط رہیں گی اور ایران کی جانب سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے منسلک ہوں گی۔
ایران کے پاسداران انقلاب نے بھی ہفتے کو کہا کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا انحصار واشنگٹن کی جانب سے ایران کی شرائط تسلیم کرنے پر ہے اور اس کا ایران، عمان مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے شرائط کی وضاحت نہیں کی تاہم کہا کہ واشنگٹن کو علاقائی مذاکراتی عمل میں مداخلت بند کرنا ہوگی۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق انہوں نے کہا، ’’جب بھی امریکا ایران کی شرائط تسلیم کرے گا، آبنائے ہرمز یقینی طور پر دوبارہ کھول دی جائے گی۔‘‘
ذرائع کا کہنا ہے معاہدے سے ایران کو کچھ اختیار ملے گا
رائٹرز سے گفتگو کرنے والے ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار اور خطے کے دو حکام نے بدھ کو بتایا تھا کہ ایران اور عمان کے درمیان پانچ ماہ سے جاری ایران-امریکا جنگ کے خاتمے کے لیے زیرِ غور معاہدے کے تحت آبنائے کے ذریعے خلیج میں داخل ہونے والے بحری جہازوں پر تہران کو کچھ حد تک اختیار حاصل ہوجائے گا۔ یہ ایران کے لیے اب تک کی بڑی رعایتوں میں سے ایک ہوگی۔
امریکی حکام مسلسل اصرار کرتے رہے ہیں کہ وہ توانائی کی عالمی ترسیل کے لیے انتہائی اہم تجارتی راستے تک ایران کو رسائی کنٹرول کرنے کی اجازت کبھی نہیں دیں گے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا امریکا نے مجوزہ معاہدے کی شرائط تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔
ایران نے جاری جنگ کو تیل بردار ٹینکروں سے راہ داری فیس وصول کرنے کے جواز کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اس کے علاوہ اجازت کے بغیر آبنائے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے بحری جہازوں پر فائرنگ نے عالمی ترسیل کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ اور مہنگائی میں مزید شدت آئی ہے۔
دنیا کے بڑے توانائی پیدا کرنے والے اداروں میں شامل ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (اے ڈی این او سی) نے جمعے کو کہا تھا کہ تنازع شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے اس کے 15 بحری جہازوں کو ’بلااشتعال حملوں‘ میں نشانہ بنایا گیا۔ کمپنی کے مطابق ان حملوں میں ایک عملے کا رکن ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔
ایرانی میڈیا اکثر آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کی خبریں دیتے ہوئے مؤقف اختیار کرتا ہے کہ متعلقہ جہازوں نے ایران کی ہدایات کی خلاف ورزی کی، تاہم ان رپورٹس میں عموماً یہ واضح نہیں کیا جاتا کہ حملوں کے پیچھے ایران تھا۔
آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کے ساتھ ساتھ یمن میں ایران کے اتحادی حوثیوں کے حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ حوثی بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان واقع ایک اور اہم تیل کی گزرگاہ میں بحری جہازوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔