کاروبار اور معیشت

اسٹاک ایکسچینج: خریداری کا سلسلہ جاری، 100 انڈیکس میں 1.2 فیصد اضافہ

  • صبح 9:30 بجے بینچ مارک انڈیکس 179,216.20 پوائنٹس پر جاپہنچا
شائع اپ ڈیٹ

ایران جنگ کے سفارتی حل کی امید پیدا کرنے والے قطری اور امریکی حکام کے بیانات کے باعث بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں خریداری کا رجحان جاری رہا اور کاروبار کے ابتدائی منٹوں میں بینچ مارک 100 انڈیکس 2,100 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا۔

صبح 9:30 بجے بینچ مارک انڈیکس 2,132.98 پوائنٹس یا 1.20 فیصد اضافے سے 179,216.20 پوائنٹس پر جاپہنچا۔

اہم شعبوں میں مثبت رجحان دیکھا گیا جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینک، فرٹیلائزر، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں اور ریفائنریز شامل ہیں۔ اوجی ڈی سی، ماری، اے آر ایل، ایم ای بی ایل، ایم سی بی،پی ایس او، پی پی ایل اور یو بی ایل بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔

ایک اہم پیشرفت میں پاکستان نے مبینہ طور پر چین سے 1.3 ارب ڈالر کے کمرشل قرض کی ری فنانسنگ کی درخواست کی جبکہ شرائط و ضوابط حتمی ہونے کے بعد رواں ماہ کے آخر میں یہ رقم موصول ہونے کی توقع ہے۔

یاد رہے کہ منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی رہی اور وسیع پیمانے پر منافع کے حصول کے باعث ابتدائی تیزی برقرار نہ رہ سکی، کیونکہ سرمایہ کاروں نے پیر کی زبردست ریلی کے بعد منافع سمیٹنے کو ترجیح دی۔

عالمی سطح پر بدھ کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں زبردست تیزی رہی کیونکہ کمپنیوں کے مضبوط مالی نتائج اور ٹیکنالوجی شعبے میں سرمایہ کاروں کی دوبارہ بڑھتی دلچسپی نے وال اسٹریٹ کو ریکارڈ بلند سطح تک پہنچا دیا جبکہ آبنائے ہرمز کھولنے میں پیش رفت کی امیدوں کے باعث تیل کی قیمتوں اور بانڈ ییلڈز میں کمی ہوئی۔

جاپان کا نکئی انڈیکس 3.0 فیصد بڑھ گیا جبکہ جنوبی کوریا کی مارکیٹ میں 4.1 فیصد اضافہ ہوا اور اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہا۔ ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص پر مشتمل وسیع ترین انڈیکس 2.4 فیصد بڑھا جبکہ چینی بلیو چِپ حصص میں 0.7 فیصد اضافہ ہوا۔

ٹیکنالوجی شعبے میں تیزی کے باوجود اے ایم ڈی کو دھچکا لگا جس کے حصص کاروباری اوقات کے بعد 8.8 فیصد گرگئے۔ کمپنی کی آمدنی مارکیٹ کی توقعات سے بہتر رہی، تاہم سرمایہ کاروں کی غیر معمولی بلند توقعات پر پوری نہ اترسکی۔

مصنوعی ذہانت اور سیٹلائٹ گروپ اسپیس ایکس کے حصص میں بھی 7.5 فیصد کمی ہوئی جس سے معمول کے کاروباری اوقات میں ہونے والی بیشتر تیزی ختم ہوگئی۔ اس کی وجہ کمپنی کے سرمائے کے اخراجات سے متعلق خدشات ہیں کہ یہ اس کے تمام نقد بہاؤ کو استعمال کررہے ہیں۔

کمپیوٹنگ پاور کی بھاری لاگت کے باعث یہ خدشہ تمام اے آئی کمپنیوں کے لیے مسلسل تشویش کا باعث بنا ہوا ہے جبکہ اس شعبے کے لیے قرض لینے کی لاگت بھی بڑھتی جارہی ہے۔

اے ایم ڈی کے مالی نتائج کے بعد نیسڈیک فیوچرز میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں ہوئی جبکہ منگل کو آل ٹائم بلند ترین سطح پر پہنچنے والے ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز میں 0.3 فیصد اضافہ ہوا۔

یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے