آخرکار ریفائنریز کیلئے پالیسی منظور
- ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی کچھ زیادہ ہی تاخیر سے سامنے آئی ہے
آخرکار براؤن فیلڈ ریفائنری پالیسی منظور کر لی گئی ہے۔ اسے تشکیل دینے میں چھ سال اور تین حکومتوں کا وقت لگا۔ اس پالیسی کے تحت ملک کی موجودہ پانچ ریفائنریز کو اپ گریڈ، جدید بنانے اور/یا توسیع دینے کے لیے مراعات فراہم کی گئی ہیں۔
اس پالیسی کا مقصد یہ ہے کہ ریفائنریز ماحول دوست یورو-V معیار کے پیٹرولیم مصنوعات تیار کر سکیں اور فرنس آئل کی پیداوار کم سے کم کرتے ہوئے ویلیو ایڈڈ مصنوعات کا حصہ بڑھایا جا سکے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی کچھ زیادہ ہی تاخیر سے سامنے آئی ہے۔ موجودہ ریفائنریز کو اپ گریڈ کرنے اور نئی ریفائنریز تعمیر کرنے کا معاملہ 2000 کی دہائی کے آغاز سے ہی پالیسی سازوں کے زیر غور رہا ہے۔ اس وقت اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنا معاشی اعتبار سے ایک مناسب فیصلہ تھا۔
تاہم گزشتہ دو دہائیوں کے دوران عالمی صورتحال نمایاں طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔ مشرق وسطیٰ اور دنیا کے دیگر حصوں میں متعدد نئی ریفائنریز قائم ہو چکی ہیں۔
دوسری جانب توانائی کے شعبے میں قابل تجدید ذرائع کے بڑھتے ہوئے استعمال، خصوصاً الیکٹرک گاڑیوں کی جانب منتقلی کے باعث عالمی طلب کے رجحانات میں بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ عالمی سطح پر رسد زیادہ ہے جبکہ طلب اسی رفتار سے نہیں بڑھ رہی۔ نتیجتاً خطے میں ریفائننگ صلاحیت ضرورت سے زیادہ ہو چکی ہے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ معمول کے حالات میں پیٹرولیم مصنوعات کے منافع کے مارجن انتہائی کم ہو گئے ہیں۔ مزید مصنوعات کی پیداوار سے ہونے والی ڈالر بچت بھی اس وقت زیادہ نمایاں نہیں ہو گی جب پلانٹ اور مشینری درآمد کرنے پر خرچ ہونے والے زرمبادلہ کو شامل کیا جائے گا۔
مزید یہ کہ مراعات کے باوجود کچھ مقامی ریفائنریز کے لیے اپ گریڈیشن تجارتی طور پر قابل عمل نہ بھی ہو سکتی ہے۔
تاہم اس کے باوجود یہ ایک خوش آئند اقدام ہے۔ حکومت نے حالیہ امریکا-ایران جنگ کے دوران درآمدات پر انحصار سے پیدا ہونے والے خطرات کو محسوس کیا، جس نے حکام کو مقامی پیداوار بڑھانے اور اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر قائم کرنے پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کیا۔ چنانچہ ریفائنریز کی اپ گریڈیشن اب ایک اسٹریٹجک ضرورت بن چکی ہے۔
گزشتہ چند سالوں میں تاخیر کی بڑی وجہ پلانٹ اور مشینری کی درآمد پر سیلز ٹیکس چھوٹ کی تجویز تھی۔
عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے اس پر اتفاق نہیں کیا جبکہ حکومت بھی کوئی متبادل حل تلاش کرنے میں ناکام رہی۔ اس عمل میں کئی سال ضائع ہو گئے۔ اب یہ چھوٹ دے دی گئی ہے، جس کے بعد پالیسی پر عملدرآمد کا راستہ ہموار ہوا ہے۔
ہر ریفائنری کی موجودہ ساخت اور صلاحیت کے مطابق اپ گریڈیشن کے مختلف اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم توقع ہے کہ تمام ریفائنریز زیادہ مقدار میں موٹر گیسولین (پیٹرول) اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈٰ) تیار کریں گی جبکہ فرنس آئل کی پیداوار کم ہو گی۔ اس سے خام تیل کی ریفائننگ سے حاصل ہونے والی پیداوار بہتر ہو گی، جبکہ خام تیل بڑی حد تک درآمد کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ بہتر معیار کا یورو-V معیار کا ایندھن تیار کیا جا سکے گا۔ یہ اقدام پاکستان کے بین الاقوامی معاہدوں کے تحت کیے گئے وعدوں سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسے ملک کے لیے خاص طور پر اہم ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے اور جہاں مجموعی فضائی معیار تیزی سے خراب ہو رہا ہے۔
بلاشبہ اس پالیسی کے نفاذ میں کئی چیلنجز موجود ہیں۔ سیلز ٹیکس چھوٹ کے علاوہ مراعاتی پیکیج میں ڈیمنڈ ڈیوٹی کنٹری بیوشن بھی شامل ہے، جس کے تحت ریفائنریز کو ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) پر 2.5 فیصد اور موٹر اسپرٹ پر 10 فیصد رقم ایسکرو اکاؤنٹس میں جمع کرانی ہوگی۔
یہ رقم ریفائنریز اپنی منصوبہ بندی میں بطور ایکویٹی استعمال کر سکیں گی، جو منصوبے کی مجموعی لاگت کے 27.5 فیصد تک ہو سکتی ہے۔ باقی رقم ریفائنریز کو اپنی ایکویٹی یا قرض کے ذریعے حاصل کرنا ہوگی۔
زیادہ تر ریفائنریز ممکنہ طور پر تقریباً 3.5 ارب سے 4 ارب ڈالر تک قرض حاصل کرنے کی کوشش کریں گی، کیونکہ مجموعی منصوبے کی لاگت کا اندازہ 5 ارب سے 6 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ مقامی بینکوں کے پاس نہ تو اس حجم کے منصوبوں کے لیے مطلوبہ صلاحیت ہے اور نہ ہی ڈالر لیکویڈیٹی دستیاب ہے۔ اس لیے امکان ہے کہ قرض عالمی مالیاتی اداروں اور بیرونی ذرائع سے حاصل کرنا پڑے گا۔
تاہم غیر ملکی قرض دہندگان پاکستان کو درپیش متعدد خطرات کے باعث محتاط رویہ اختیار کر سکتے ہیں۔ اس لیے مالی معاونت حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔
مزید یہ کہ ہر ریفائنری نے مکمل دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ فی الحال ملک کی سب سے بڑی ریفائنری، جس کی اکثریتی ملکیت حکومت کے پاس ہے، نے اپنے غیر ملکی حصص یافتگان کے تحفظات کے باعث اس پالیسی کی منظوری نہیں دی۔
لہٰذا پالیسی کی منظوری کے بعد اگلا بڑا چیلنج سرمایہ کاری اور مالی وسائل کا حصول ہے، جو منصوبوں کی تجارتی افادیت پر سوالات کے باعث متاثر ہو سکتا ہے۔
ایک بہتر حکمت عملی یہ ہو سکتی تھی کہ توجہ پیٹروکیمیکلز پر مرکوز کی جاتی، جو موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ خاص طور پر ایسی کروڈ آئل ٹو کیمیکلز ریفائنریز پر توجہ دی جاتی جو بنیادی طور پر ایندھن کے بجائے پیٹروکیمیکل مصنوعات تیار کرنے کے لیے ڈیزائن کی جاتی ہیں۔
دنیا اسی سمت بڑھ رہی ہے، لیکن پاکستان اس میدان میں بہت پیچھے ہے۔ ملک کبھی بھی تحقیق اور ترقی کی اس دوڑ کا حصہ نہیں بن سکا۔
بہترین صورتحال یہ ہوتی کہ ریفائنریز کو بروقت جدید بنایا جاتا، لیکن اہم وقت ضائع ہو چکا ہے۔ اس کے باوجود موجودہ وزارت پیٹرولیم کی ٹیم اس بات پر تعریف کی مستحق ہے کہ اس نے آخرکار پالیسی کی منظوری حاصل کر لی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ پالیسی کس حد تک کامیاب ثابت ہوتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026