حیثیت سے بڑھ کر جینے کے لیے قرض
- پاکستان میں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے صرف پالیسی ریٹ پر انحصار مؤثر نہیں، کیونکہ مہنگائی کے بنیادی محرکات اس سے کہیں زیادہ گہرے ہیں
قرض کو وسیع پیمانے پر معاشی نمو کا محرک سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایسا مالی وسیلہ ہے جسے سرکاری اور نجی شعبے معاشی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں، اور یہی سرگرمیاں بعدازاں اقتصادی ترقی کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرتی ہیں۔ قرض کی لاگت، یعنی اس پر وصول کیا جانے والا سود، مرکزی بینکوں کی جانب سے مقرر کردہ پالیسی ریٹ سے منسلک ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ حکومت کے اعلیٰ عہدیدار اکثر اپنے مرکزی بینک پر قرض لینے کی لاگت، یعنی شرح سود، کم کرنے کے لیے زور دیتے ہیں تاکہ معاشی نمو کو تیز کیا جا سکے۔ دوسری جانب، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) جیسے مالیاتی ادارے اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ پالیسی ریٹ کا تعین سیاسی دباؤ کے تحت نہیں—جو بعض اوقات خاصا شدید بھی ہو سکتا ہے—بلکہ اس وقت کی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھ کر کیا جائے۔ یہ کثیرالجہتی مالیاتی اداروں کی ایک معروف پالیسی سفارش ہے، جس کی بنیاد مرکزی بینک کو حکومتی اداروں سے الگ اور خودمختار رکھنا ہے تاکہ وہ پالیسی ریٹ سے متعلق فیصلے آزادانہ طور پر کر سکے۔
چارلس کولنز کی تصنیف اور آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر موجود تحقیقی مقالہ ”The Rationale of Central Banks“ اس متنازع سوال کا ذکر کرتا ہے کہ ”کیا مرکزی بینک کو بالآخر حکومت کی مرکزی انتظامیہ کے فیصلوں کا پابند ہونا چاہیے؟“ مقالے کے مطابق روایتی مؤقف یہ ہے کہ چونکہ مانیٹری پالیسی ریاستی اختیارات کا ایک اہم ذریعہ ہے، اس لیے آخرکار اس پر جمہوری حکومت کی منظوری ہونی چاہیے۔ اگرچہ مرکزی بینک کو پالیسی مباحثے میں آزادانہ رائے دینے کا حق دیا جا سکتا ہے، تاہم آخری فیصلہ عوامی نمائندہ حکومت ہی کا ہونا چاہیے۔ اس کے برعکس دوسرا مؤقف یہ ہے کہ مانیٹری پالیسی بھی نظامِ انصاف کی طرح غیر ضروری سیاسی دباؤ سے محفوظ رہنی چاہیے۔
آئی ایم ایف کے مشرقِ وسطیٰ و وسطی ایشیا ڈپارٹمنٹ کی 2026 کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق مرکزی بینک کی خودمختاری کو مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات کا ہر پیکیج متعلقہ ملک کے حالات کے مطابق ترتیب دیا جانا چاہیے اور اس پر عمل درآمد مقامی ادارہ جاتی صلاحیت اور سیاسی و معاشی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے مرحلہ وار ہونا چاہیے۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ مرکزی بینک کے قانونی ڈھانچے، مالی خودمختاری اور گورننس کو مضبوط بنانا اولین ترجیح ہونی چاہیے، کیونکہ یہی عوامل اسے سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنے اور مالیاتی بالادستی کی روک تھام میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
جنوری 2022 میں اُس وقت کی پاکستانی حکومت نے، آئی ایم ایف پروگرام کے تحت تعطل کا شکار اسٹاف لیول معاہدے کے بعد، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) ترمیمی ایکٹ پارلیمنٹ میں پیش کیا، جو اسی سال فروری سے نافذ العمل ہوا۔ اُس وقت کی اپوزیشن پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اس کی بھرپور مخالفت کی، کیونکہ اس قانون کے ذریعے مرکزی بینک کو مانیٹری پالیسی اور قیمتوں کے استحکام سے متعلق فیصلے حکومتی مداخلت کے بغیر کرنے کی عملی خودمختاری دی گئی، جبکہ گورنر اور ڈپٹی گورنرز کو قانونی کارروائی سے استثنا بھی فراہم کیا گیا۔ ناقدین کے مطابق اس صورتِ حال پر انگریزی کہاوت ”بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے کے ایک سے زیادہ طریقے ہوتے ہیں“ صادق آتی ہے۔
تاہم، 22 اگست 2022 کو وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں قائم مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے جمیل احمد کو پانچ سال کے لیے اسٹیٹ بینک کا گورنر مقرر کیا، جبکہ ترمیمی قانون کے تحت انہیں مزید پانچ سال کے لیے دوبارہ تقرری کا بھی اہل قرار دیا گیا۔ تاہم، پاکستان میں دیگر بہت سے قوانین کی طرح اصل سوال یہ ہے کہ آیا اس قانون پر اس کی روح اور متن دونوں کے مطابق عمل بھی ہو رہا ہے یا نہیں۔
بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے معاشی نمو کی غرض سے پالیسی ریٹ کم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک پر کھلے عام کوئی دباؤ نہیں ڈالا۔ تاہم، یہ بھی اتنا ہی واضح ہے کہ اسٹیٹ بینک ترمیمی قانون سے بہت پہلے، بلکہ 2019 سے—جب پاکستان دوبارہ آئی ایم ایف پروگرام میں شامل ہوا—فنڈ کی ہدایات پر عمل کرتا آیا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ آئی ایم ایف کی شرائط مزید سخت اور واضح ہوتی گئیں، کیونکہ اس کے نزدیک پاکستان نے ماضی کے پروگراموں میں فنڈ کی تجاویز پر مؤثر عمل درآمد نہیں کیا تھا۔ (پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے چوبیسویں پروگرام کا حصہ ہے۔)
اس مؤقف کی تائید میں متعدد مثالیں موجود ہیں۔ مثلاً، مئی 2026 میں اپریل کے مقابلے میں مجموعی افراطِ زر میں 0.8 فیصد اور بنیادی مہنگائی میں 1 فیصد اضافے کے باوجود اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ برقرار رکھا۔ اسی طرح 30 جولائی 2025 کو مہنگائی اور بنیادی افراطِ زر، دونوں میں کمی آنے کے باوجود بھی پالیسی ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
اس بات کے مزید شواہد بھی موجود ہیں کہ پاکستان میں افراطِ زر پر قابو پانے کے لیے پالیسی ریٹ کی مؤثریت محدود ہے۔ اسٹیٹ بینک کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر فیاض حسین نے ایک سیمینار میں اس کی وجوہات مختصراً بیان کیں:
اول، حکومت کا بینکاری شعبے سے حد سے زیادہ قرض لینا۔ مالی سال 2025-26 کے دوران حکومت نے کمرشل بینکوں سے 4.75 کھرب روپے قرض لیا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ گردشی قرضہ ختم کرنے کے لیے 14 کمرشل بینکوں سے لیے گئے 1.25 کھرب روپے اس رقم میں شامل ہیں یا نہیں۔ دوسری جانب، وزارتِ خزانہ کے مطابق یکم جولائی 2025 سے 12 جون 2026 تک نجی شعبے کو فراہم کیا گیا قرض صرف 873.3 ارب روپے رہا، جو حکومتی قرض لینے کے ایک چوتھائی سے بھی کم ہے۔
اس ضمن میں دو مزید نکات قابلِ غور ہیں۔ پہلا، وفاقی حکومت کی جانب سے حاصل کیے گئے قرض کا بڑا حصہ ترقیاتی سرگرمیوں پر خرچ نہیں ہوتا، جو معاشی نمو کا باعث بن سکیں، بلکہ اسے جاری اخراجات پورے کرنے پر صرف کیا جاتا ہے، جو اپنی نوعیت میں مہنگائی کو بڑھانے والے ہوتے ہیں۔ دوسرا، یہ حکومتی قرض لینے کی مکمل تصویر نہیں، کیونکہ حکومت اس کے علاوہ ٹریژری بانڈز بھی جاری کرتی ہے اور نیشنل سیونگز سینٹرز میں جمع عوامی بچتوں کا بڑا حصہ بھی استعمال کرتی ہے۔
دوسرا سبب، آئی ایم ایف کی روایتی شرائط کے تحت مکمل لاگت کی وصولی کے لیے انتظامی اقدامات کے ذریعے ٹیرف میں مسلسل اضافہ ہے۔
تیسرا، اس وقت بالواسطہ ٹیکس مجموعی ٹیکس وصولیوں کا تقریباً 70 سے 75 فیصد ہیں۔ اس میں پیٹرولیم لیوی شامل نہیں، حالانکہ یہ عملی طور پر سیلز ٹیکس ہی کی ایک شکل ہے، تاہم اسے قابلِ تقسیم محاصل میں منتقل کرنے سے بچانے کے لیے دیگر ٹیکسوں کے کھاتے میں ظاہر کیا جاتا ہے۔
چوتھا، غیر رسمی معیشت کا وسیع حجم ہے، جسے ڈاکٹر فیاض حسین نے ملکی معیشت کا 20 سے 30 فیصد قرار دیا، جبکہ دیگر محققین کے مطابق اس کا حجم 50 فیصد تک ہے۔
نتیجتاً، ضروری ہے کہ آئی ایم ایف کے عملے کو اس حقیقت سے قائل کیا جائے کہ پاکستان کو ایسے منفرد اور سنگین داخلی چیلنجز درپیش ہیں جومہنگائی پر قابو پانے کے لیے پالیسی ریٹ کو ایک مؤثر ذریعہ بنانے کی صلاحیت کو نمایاں طور پر محدود کر دیتے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026