واشنگٹن کے اسپوکن میں جنگلاتی آگ، 60 ہزار افراد کو انخلا کا حکم
- وفاقی واقعہ انتظامی ٹیم کے مطابق اتوار تک آگ 5,390 ایکڑ (2,180 ہیکٹر) رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔
مقامی حکام نے اتوار کو بتایا کہ امریکی ریاست واشنگٹن کے شہر اسپوکن میں جنگلاتی آگ کے خطرے کے باعث تقریباً 60 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق علاقے میں لگی آگ سے گھروں اور کاروباری عمارتوں سمیت 600 عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔
اسپوکن فائر چیف ٹام ولیمز نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اسپوکن ایریا فائر تین الگ الگ آگ کے واقعات پر مشتمل ہے، جو ان علاقوں کے لیے خطرہ بن چکی ہے جہاں انخلا کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
وفاقی واقعہ انتظامی ٹیم کے مطابق اتوار تک آگ 5,390 ایکڑ (2,180 ہیکٹر) رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔
ٹام ولیمز نے کہا کہ آگ پر تاحال قابو نہیں پایا جا سکا۔
حکام نے اتوار کی سہ پہر ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ اب تک کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
اسپوکن کی میئر لیزا براؤن نے صورتحال کو خطے کو درپیش بدترین قدرتی آفت قرار دیا۔
دریں اثنا، ایوسٹا یوٹیلٹیز کی چیف ایگزیکٹو ہیدر روزن ریڈر کے مطابق اتوار کی سہ پہر تک علاقے میں تقریباً 10 ہزار بجلی صارفین بجلی سے محروم تھے۔
ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں مجموعی طور پر 2 لاکھ 50 ہزار ایکڑ (1 لاکھ 1 ہزار 171 ہیکٹر) سے زائد رقبہ آگ کی لپیٹ میں ہے۔
واشنگٹن کے گورنر باب فرگوسن نے کہا کہ انہوں نے اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کی اور وفاقی ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی سے امداد کی درخواست کی ہے۔ گورنر نے ریاست بھر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔