پاکستان

آزاد کشمیر انتخابات کے دوسرے مرحلے میں پولنگ ختم، ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع

  • پیپلز پارٹی کا دھاندلی کا الزام، مسلم لیگ (ن) نے دعوؤں کو مسترد کر دیا
شائع اپ ڈیٹ

آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے کے لیے مظفرآباد ڈویژن کی آٹھ نشستوں اور تمام 12 مہاجر نشستوں پر پولنگ مکمل ہوگئی، جس کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع کر دیا گیا.

الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق پولنگ صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہی، تاہم مظفرآباد ڈویژن کی آٹھ نشستوں پر پولنگ کا وقت شام 6 بجے تک بڑھا دیا گیا، جبکہ مہاجر نشستوں کے لیے اسلام آباد، پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں قائم پولنگ اسٹیشنز پر شام 5 بجے تک ووٹنگ جاری رہی۔شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث متعدد سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے حلقہ LA-27 مظفرآباد میں پولنگ ملتوی کر دی، کیونکہ انتخابی عملہ اور انتخابی سامان بروقت پولنگ اسٹیشنز تک نہیں پہنچ سکا۔ اس حلقے میں اب پولنگ 4 اگست کو ہوگی۔

پولنگ ختم ہوتے ہی ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع کر دیا گیا، جبکہ پولنگ ختم ہونے کے وقت تک پولنگ اسٹیشنز کے اندر موجود ووٹروں کو اپنا ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی۔آزاد کشمیر کے انتخابات تین مراحل میں منعقد کیے جا رہے ہیں۔ پہلا مرحلہ 27 جولائی کو میرپور ڈویژن میں مکمل ہوا، دوسرا مرحلہ اتوار کو منعقد ہوا، جبکہ پونچھ ڈویژن میں پولنگ 10 اگست کو ہوگی۔مظفرآباد ڈویژن کی آٹھ نشستوں اور 12 مہاجر نشستوں پر مجموعی طور پر 300 سے زائد امیدوار میدان میں تھے۔ مہاجر نشستوں میں سے سات نشستیں پنجاب میں مقیم ووٹروں کے لیے مختص ہیں، جبکہ باقی نشستیں خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور اسلام آباد میں تقسیم کی گئی ہیں۔الیکشن کمیشن کے مطابق مظفرآباد ڈویژن میں 8 لاکھ 95 ہزار 66 رجسٹرڈ ووٹرز ووٹ ڈالنے کے اہل تھے، جن میں 4 لاکھ 27 ہزار 400 مرد اور 3 لاکھ 82 ہزار 167 خواتین شامل ہیں۔ 12 مہاجر حلقوں میں 4 لاکھ 38 ہزار 834 رجسٹرڈ ووٹرز تھے، جن میں 2 لاکھ 47 ہزار 776 مرد اور 1 لاکھ 91 ہزار 54 خواتین شامل ہیں۔

مظفرآباد ڈویژن میں مجموعی طور پر 1,483 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے، جن میں 533 کو انتہائی حساس، 741 کو حساس اور 209 کو نارمل قرار دیا گیا۔ مہاجر حلقوں کے لیے ملک بھر میں 1,057 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے۔دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے دوسرے مرحلے کی پولنگ کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) پر انتخابی بے ضابطگیوں، تشدد اور دھاندلی کے الزامات عائد کیے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے الزام لگایا کہ مسلم لیگ (ن) عوامی مینڈیٹ ”چرانے“ کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر پیپلز پارٹی کے صدر اور LA-31 کے امیدوار چوہدری لطیف اکبر پر حملہ کیا گیا، جبکہ اسی حلقے میں پارٹی کارکن مشتاق شاہ جاں بحق ہو گئے۔پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط میں چوہدری لطیف اکبر پر مبینہ حملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور سیکیورٹی میں کوتاہیوں پر کارروائی کی درخواست کی۔ پارٹی کے مطابق اس نے 11 حلقوں سے متعلق 25 شکایات جمع کرائی ہیں، تاہم اب تک کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔

مسلم لیگ (ن) نے الیکشن کمیشن کو اپنے تحریری جواب میں ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔وفاقی وزیر برائے امور کشمیر امیر مقام نے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے تعینات کیے گئے تھے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ بلا ثبوت الزامات لگانے سے گریز کریں اور انتخابی نتائج کا فیصلہ عوام کے ووٹ سے ہونے دیں۔پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بھی پیپلز پارٹی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں حکومت خود پیپلز پارٹی کی ہے، اس لیے وہ دراصل اپنی ہی انتظامیہ پر دھاندلی کا الزام لگا رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے کارکن کی وفات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ مذکورہ بزرگ دو گروپوں کے درمیان جھڑپ کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ میرپور ڈویژن میں بہتر کارکردگی کے بعد مسلم لیگ (ن) مظفرآباد ڈویژن اور مہاجر نشستوں پر بھی کامیابی حاصل کرے گی۔