وزیر اعلیٰ مریم نواز کی امریکی کاروباری وفد کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت
- سرمایہ کاروں کے لیے 10 سالہ انکم ٹیکس چھوٹ، ایندھن و مشینری کی برآمد پر ڈیوٹی کی معافی اور 20 فیصد سبسڈائزڈ لیز کی سہولت دستیاب ہے
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور جدت کے ذریعے ایک نئے باب کے آغاز کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کاروبار دوست ماحول اور بین الاقوامی مراعات کے ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے استقبال کے لیے مکمل تیار ہے۔
امریکی کاروباری وفد سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہیلتھ، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، آئی ٹی، معدنیات اور توانائی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے نمائندوں کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دورہ امریکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے ملاقات میں معاونت پر ایس آئی ایف سی کا بھی شکریہ ادا کیا۔
مریم نواز نے پنجاب کو پاکستان کی معیشت کا انجن قرار دیا، جو قومی جی ڈی پی میں 55.7 فیصد، زراعت میں 57.5 فیصد، مینوفیکچرنگ میں 48 فیصد اور سروسز کے شعبے میں 57.4 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ 13 کروڑ کی آبادی والے اس صوبے کی 65 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے، جو کہ ایک متحرک افرادی قوت فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں 20 اسپیشل اکنامک زونز اور 2 ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز موجود ہیں۔ آسان کاروبار کے لیے ون گورنمنٹ، ون ونڈو اور چیف منسٹرز گلوبل انویسٹمنٹ گیٹ وے جیسے اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں، تاکہ سرخ فیتہ شاہی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
سرمایہ کاروں کے لیے 10 سالہ انکم ٹیکس چھوٹ، ایندھن و مشینری کی برآمد پر ڈیوٹی کی معافی اور 20 فیصد سبسڈائزڈ لیز کی سہولت دستیاب ہے۔ مزید برآں زیرو ٹائم ٹو اسٹارٹ پالیسی کے تحت کاروبار کا فوری آغاز ممکن بنایا گیا ہے۔