کوہ پیمائی میں نئے ریکارڈ قائم کرنے والے نرمل پرجا کی پاکستان میں موت کی تصدیق
- نرمل پرجا سمیت 7 لاپتا کوہ پیماؤں کی لاشوں کی تلاش جاری، عالمی سطح پر تشویش
معروف نیپالی نژاد برطانوی کوہ پیما نرمل پرجا، جنہوں نے دنیا کی بلند ترین چوٹیوں کو سر کرکے کوہ پیمائی کی تاریخ میں نئے ریکارڈ قائم کیے، پاکستان کی براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔ ان کی کوہ پیمائی کمپنی نے ہفتے کے روز ان کی موت کی تصدیق کر دی۔
43 سالہ نرمل پرجا نے کوہ پیمائی کا شعبہ اختیار کرنے سے قبل برطانوی فوج کی بریگیڈ آف گورکھاز اور بعد ازاں رائل میرینز کے اسپیشل بوٹ اسکواڈرن میں خدمات انجام دیں۔
انہوں نے 2019 میں دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں کو صرف چھ ماہ اور چند دنوں میں سر کرکے عالمی ریکارڈ قائم کیا، جبکہ اس سے قبل یہ کارنامہ انجام دینے کا ریکارڈ سات سال تھا۔
نرمل پرجا کی کمپنی ایلیٹ ایکسپیڈیشنز نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا، ”انتہائی دکھ اور گہرے صدمے کے ساتھ ہم تصدیق کرتے ہیں کہ براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے المناک حادثے میں نرمل پرجا زندگی کی بازی ہار گئے۔“
بیان میں کہا گیا، ”ہمیں یہ تصدیق بھی مل گئی ہے کہ مہم میں شامل دیگر ارکان بھی بدقسمتی سے زندہ نہیں بچ سکے۔“
پرجا نے اپنی پیٹھ پر دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں کے نقش ٹیٹو کی صورت میں بنوا رکھے تھے، جن کے ساتھ بادلوں کے ڈیزائن اور تبتی دعائیہ جھنڈیاں بھی شامل تھیں۔
ان کی غیر معمولی کوہ پیمائی مہمات کو 2021 میں نیٹ فلکس کی ایک دستاویزی فلم میں پیش کیا گیا، جس نے دنیا بھر میں کوہ پیمائی کے شوقین افراد کی نئی نسل کو متاثر کیا۔
تاہم انہیں کوہ پیمائی کے دوران گائیڈز، اضافی آکسیجن، فکسڈ رسیوں اور ایک بیس کیمپ سے دوسرے تک منتقلی کے لیے ہیلی کاپٹروں کے استعمال پر تنقید کا سامنا بھی رہا۔
2021 میں نرمل پرجا نے 9 دیگر نیپالی کوہ پیماؤں کے ساتھ مل کر دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو موسم سرما میں پہلی مرتبہ سر کرکے تاریخ رقم کی۔
انہوں نے رواں ہفتے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا تھا کہ وہ بغیر آکسیجن کے دنیا کی تمام 14 ”سپر پیکس“ کو دو مرتبہ سر کرنے والے پہلے کوہ پیما بننے کے قریب ہیں۔
انہوں نے براڈ پیک مہم کے حوالے سے لکھا، ”براڈ پیک، میں صرف محفوظ راستے سے چوٹی تک پہنچنے اور بحفاظت واپس آنے کی دعا کرتا ہوں۔“
ان کا کہنا تھا، ”میرا مقصد کبھی صرف میری ذات نہیں رہا، بلکہ یہ اس بات سے متعلق ہے جس کی میں نمائندگی کرتا ہوں۔ یہ لوگوں کو دکھانے کے بارے میں ہے کہ ان کے اپنے پہاڑ، چاہے وہ جو بھی ہوں، سر کیے جا سکتے ہیں۔“
براڈ پیک پاکستان کے شمالی علاقے میں واقع قراقرم سلسلے کی ایک اہم چوٹی ہے، جو دنیا کی 12ویں بلند ترین پہاڑی ہے۔ اسے 8 ہزار میٹر سے بلند تمام چوٹیوں میں سب سے مشکل اور تکنیکی طور پر پیچیدہ چڑھائیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
”ہر کوئی آپ سے ایورسٹ کے بارے میں پوچھتا ہے“
مغربی نیپال کے ایک گاؤں میں پیدا ہونے والے نرمل پرجا نے نوعمری میں گورکھا رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی، جو برطانوی فوج میں شامل نیپالی فوجیوں کی بہادری کے لیے مشہور یونٹ ہے۔
بعد ازاں انہوں نے برطانوی اسپیشل فورسز میں انتہائی سرد موسم میں جنگی کارروائیوں کے ماہر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
2019 میں خبر رساں ادارے اے ایف پی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا کہ بچپن میں ان کے لیے چپل کا ایک جوڑا بھی عیش و آرام کی چیز تھی۔
”نمس ڈائی“ کے نام سے مشہور نرمل پرجا کا کوہ پیمائی کا سفر 2012 میں ایورسٹ بیس کیمپ کے ٹریک سے شروع ہوا، جہاں انہوں نے 6,119 میٹر بلند لوبوچے چوٹی سر کی۔
انہوں نے 2014 میں پہلی مرتبہ 8 ہزار میٹر سے بلند چوٹی سر کی۔ دو سال بعد افغانستان میں تعیناتی کے بعد ملنے والی چھٹیوں کے دوران کوہ پیمائی کے موسم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے پہلی مرتبہ ماؤنٹ ایورسٹ سر کیا۔
انہوں نے کہا تھا، ”اگر آپ نیپال سے ہیں تو ہر کوئی آپ سے ایورسٹ کے بارے میں پوچھتا ہے، اس لیے میں نے اپنی چھٹیاں کوہ پیمائی کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیں۔“
اگلے برس وہ دوبارہ ایورسٹ پہنچے، جہاں انہوں نے گورکھا کوہ پیمائی مہم کی کامیاب قیادت کی۔ بلند پہاڑی کوہ پیمائی میں خدمات کے اعتراف میں انہیں آرڈر آف دی برٹش ایمپائر (ایم بی ای) سے نوازا گیا۔
بعد ازاں انہوں نے 16 سالہ فوجی ملازمت چھوڑ دی اور فوجی جوتوں کی جگہ کوہ پیمائی کے جوتے پہن لیے۔
حوصلے اور عزم کی مثال
اس کے بعد نرمل پرجا نے دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں کو کم ترین وقت میں سر کرنے کے اپنے خواب کو پورا کرنے کے لیے مالی وسائل جمع کیے اور اس مقصد کے لیے اپنے گھر کو دوبارہ رہن رکھوایا۔
ریکارڈ ساز کارنامہ انجام دینے کے بعد نرمل پرجا نے ایک کوہ پیمائی کمپنی قائم کی، جس کے تحت وہ ہر سیزن میں دنیا کی بلند ترین چوٹیوں پر کوہ پیماؤں کی رہنمائی کرتے تھے۔
نیٹ فلکس کی دستاویزی فلم کے ذریعے عالمی شہرت حاصل کرنے کے بعد وہ دنیا بھر میں ایک انتہائی مطلوب کوہ پیمائی گائیڈ بن گئے۔
2024 میں دو خواتین کوہ پیماؤں نے نرمل پرجا پر جنسی ہراسانی اور حملے کے الزامات عائد کیے تھے، تاہم انہوں نے ان الزامات کی تردید کی۔
2019 میں اے ایف پی کو دیے گئے انٹرویو میں پرجا نے کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ ان کے کارنامے نیپال کی نئی نسل کے کوہ پیماؤں کو ان کے ریکارڈ توڑنے کے لیے متاثر کریں گے۔
انہوں نے کہا تھا، ”ایک نیپالی کی حیثیت سے میری خواہش ہے کہ میری کوہ پیمائی کی مہمات یہاں کے باصلاحیت کوہ پیماؤں کی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے اجاگر کریں۔“
نیپالی گائیڈز، جن میں زیادہ تر ایورسٹ کے گردونواح کی وادیوں سے تعلق رکھنے والے نسلی شیرپا شامل ہیں، ملک کی منافع بخش کوہ پیمائی صنعت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں، تاہم انہیں اکثر بین الاقوامی کوہ پیماؤں جتنی شہرت اور پذیرائی نہیں ملتی۔
طویل عرصے تک معاون کردار تک محدود رہنے والے نیپالی کوہ پیماؤں کو اپنی صلاحیتوں کے اعتراف کا موقع اس وقت زیادہ ملا جب نرمل پرجا کی عالمی شہرت نے ان کی کامیابیوں کو بھی دنیا کے سامنے نمایاں کیا۔
اپنے فاؤنڈیشن کے ذریعے پرجا نے تعلیم اور پہاڑوں کی صفائی کی مہمات کے لیے مالی معاونت فراہم کی۔ انہوں نے ایورسٹ کے راستے پر سامان اٹھانے والے پورٹرز کے لیے ایک رہائشی مکان بھی تعمیر کیا تاکہ انہیں محفوظ رہائش فراہم کی جا سکے۔
متعدد ریکارڈ اپنے نام کرنے کے باوجود پرجا ہمیشہ نئی مہمات اور چیلنجز کی تلاش میں رہتے تھے۔
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا تھا، ”ہمیشہ نئی سرحدیں (پار کرنے کو) موجود ہوتی ہیں۔“
ان کا کہنا تھا، ”یہ انسانی فطرت ہے، یہی ہم کرتے ہیں۔“
لاپتا کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے ڈرونز کا استعمال
ایک ہلاکت خیز برفانی تودہ گرنے کے بعد براڈ پیک پر کوہ پیمائی مہم کا شکار ہونے والے افراد کی تلاش اور بچاؤ کا وسیع آپریشن دوسرے روز بھی جاری رہا۔
پاکستان کے معروف کوہ پیماؤں سرباز خان اور شہزاد سمیت تجربہ کار بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم بلند پہاڑی علاقے میں جاری ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہی ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق خطرناک، دشوار گزار اور برفانی شگافوں سے بھرے علاقے میں لاپتا کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ڈرونز استعمال کیے جا رہے ہیں۔
جمعہ کے روز سرچ ٹیموں نے تین کوہ پیماؤں کی لاشیں کامیابی سے تلاش کرکے انہیں اسکردو منتقل کیا۔ جاں بحق افراد میں ایک عمانی شہری، ایک امریکی خاتون اور ایک نیپالی کوہ پیما شامل ہیں۔
اس وقت مزید سات کوہ پیما لاپتا ہیں، جن میں پانچ نیپالی، ایک پاکستانی اور ایک چینی شہری شامل ہیں۔ لاپتا افراد میں عالمی ریکارڈ رکھنے والے نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا (نمس) اور تجربہ کار پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی بھی شامل ہیں۔
دنیا بھر کی کوہ پیمائی برادری نے مشکل موسمی حالات میں جاری سرچ آپریشن کے دوران ان کی سلامتی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ افسوسناک حادثہ 30 جولائی کو پیش آیا، جب اچانک آنے والے برفانی تودے نے براڈ پیک پر کوہ پیمائی مہم میں شامل 10 کوہ پیماؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
مقامی حکام، شگر اور اسکردو انتظامیہ، ریسکیو یونٹس اور رضاکار کوہ پیما لاپتا افراد کی تلاش کے لیے دستیاب تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں تاکہ ریسکیو آپریشن کو جلد از جلد مکمل کیا جا سکے۔