جنوبی بحیرۂ چین کے متنازع جزیرہ نما کے گرد چین کی بحری اور فضائی گشت
- چینی فوج نے اس مشق کو "بعض ممالک" کی ان سرگرمیوں کے خلاف ضروری ردِعمل قرار دیا ہے، جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ خطے کے امن اور استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہیں
چین کی فوج نے جنوبی بحیرۂ چین میں واقع متنازع اسکاربورو شول کے اطراف مشترکہ بحری اور فضائی جنگی مشقیں کیں۔ پیپلز لبریشن آرمی کی سدرن تھیٹر کمانڈ نے ہفتے کے روز جاری بیان میں اس کی تصدیق کی۔
بیان کے مطابق یہ مشقیں اس متنازع سمندری علاقے کے فضائی اور بحری حدود میں کی گئیں، جسے چین ہوانگ یان داؤ کے نام سے پکارتا ہے۔
چینی فوج نے ان مشقوں کو ”بعض ممالک“ کی ان سرگرمیوں کے خلاف ضروری ردِعمل قرار دیا ہے، جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ خطے کے امن اور استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ تاہم بیان میں کسی ملک کا نام نہیں لیا گیا۔ اسکاربورو شول پر فلپائن بھی دعویٰ کرتا ہے، جہاں اسے باجو ڈی ماسینلوک کہا جاتا ہے۔
بیجنگ میں فلپائن کے سفارت خانے نے چینی فوجی مشقوں پر تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
چینی فوج کے مطابق ان مشقوں کا مقصد قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سمندری حقوق کے دفاع کے لیے اپنی افواج کی جنگی تیاری اور صلاحیت کا جائزہ لینا اور اسے مزید بہتر بنانا تھا۔
چین نے ہفتے کے روز ہوانگ یان جزیرہ قومی قدرتی تحفظ گاہ کے انتظام و انصرام سے متعلق نئی پالیسی جاری کر دی، جو ستمبر 2025 میں قائم کی گئی تھی۔ سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق اس پالیسی کے تحت بغیر اجازت ماہی گیری، کان کنی، مرجان یا دیوقامت سیپیوں (جائنٹ کلیمز) کا حصول اور ماحول کو نقصان پہنچانے والی دیگر سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
شنہوا کے مطابق ان پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔