اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ زیادہ حیران کن نہیں تھا۔ اگرچہ جون میں مجموعی مہنگائی (ہیڈلائن انفلیشن) مئی کے 11.7 فیصد سے کم ہوکر 11.1 فیصد پر آگئی، تاہم یہ اب بھی اسٹیٹ بینک کے درمیانی مدت کے 5 سے 7 فیصد کے ہدف سے خاصی زیادہ ہے۔ اسی طرح بنیادی مہنگائی (کور انفلیشن) میں کمی آنے کے باوجود یہ 8.4 فیصد کی بلند سطح پر برقرار ہے۔

شرح سود میں کمی کی فی الحال کوئی خاص وجہ موجود نہیں تھی جبکہ طلب میں مسلسل اضافے سے پیدا ہونے والے دباؤ کے شواہد بھی اتنے مضبوط نہیں تھے کہ شرح سود میں مزید اضافہ کیا جاتا۔ اسی لیے پالیسی ریٹ کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنا ایک فطری اور متوقع فیصلہ تھا۔

زیادہ اہم پیش رفت ووٹنگ کے نتائج تھے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے تمام اراکین نے متفقہ طور پر پالیسی ریٹ کو برقرار رکھنے کی حمایت کی جبکہ گزشتہ اجلاس میں ایک رکن نے شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس اضافے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ یہ تبدیلی خاص اہمیت رکھتی ہے، خصوصاً اس لیے کہ اسٹیٹ بینک نے شفافیت بڑھانے کی اپنی وسیع تر کوششوں کے تحت اب مانیٹری پالیسی کے فیصلے کے ساتھ ووٹنگ کا ریکارڈ بھی جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایک بار جب ووٹ ظاہر کردیے جاتے ہیں تو وہ مانیٹری پالیسی کمیونیکیشن کا حصہ بن جاتے ہیں۔ پالیسی ریٹ سے مارکیٹ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کمیٹی نے بالآخر کس فیصلے پر اتفاق کیا جبکہ ووٹنگ کا رجحان اس بات کی اضافی جھلک فراہم کرتا ہے کہ اراکین نے فیصلہ کرتے وقت خطرات کے توازن کا کس انداز میں جائزہ لیا۔ چنانچہ اختلافِ رائے سے مکمل اتفاقِ رائے تک کا سفر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں اجلاسوں کے درمیان اراکین کے خطرات سے متعلق اندازے میں تبدیلی آئی ہے۔

تازہ مانیٹری پالیسی بیان میں کئی ایسے اعداد و شمار شامل ہیں جو معاشی صورتحال کے بارے میں نسبتاً اطمینان بخش منظرنامے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ 10 جولائی تک وسیع پیمانے پر زرِ گردش کی سالانہ شرح نمو کم ہو کر 13.2 فیصد رہ گئی جو مانیٹری پالیسی کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے وقت 15.2 فیصد تھی۔ مالی سال 2025-26 کا اختتام صرف 139 ملین ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے ساتھ ہوا جبکہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر حالیہ قرضوں کی ادائیگی سے قبل جون کے اختتام کے لیے مقررہ 18 ارب ڈالر کے ہدف سے تجاوز کرچکے تھے۔ بعد ازاں قرضوں کی ادائیگی کے باعث 17 جولائی تک یہ ذخائر تقریباً 17.3 ارب ڈالر رہ گئے۔ دوسری جانب صارفین اور کاروباری اداروں دونوں کی مہنگائی سے متعلق توقعات میں بھی کمی آئی ہے جبکہ ایف بی آر نے مالی سال 2025-26 کے لیے نظرِ ثانی شدہ 13 کھرب روپے کے ٹیکس وصولی ہدف کو بھی حاصل کرلیا ہے۔

مالیاتی اشاریے بھی اسی طرح کسی حد تک اطمینان بخش تصویر پیش کرتے ہیں۔ اندازوں کے مطابق پرائمری بیلنس مسلسل تیسرے سال بھی سرپلس میں رہا جب کہ حکومت نے مالی سال 2026-27 کیلئے جی ڈی پی کے 2 فیصد کے مساوی بنیادی سرپلس اور 3.6 فیصد کے مجموعی مالیاتی خسارے کا ہدف مقرر کیا ہے، اگر ایسا ہو گیا تو اس سے مانیٹری پالیسی ایک ایسے مالیاتی موقف (فسکل اسٹانس) کے ساتھ ساتھ کام کرتی رہے گی جو مہنگائی میں کمی (ڈس انفلیشن) کے لیے مجموعی طور پر معاون ثابت ہوتا رہے گا۔

لہٰذا اس نتیجے پر پہنچنے کی مکمل معقول بنیاد موجود ہے کہ موجودہ مانیٹری پالیسی کا رخ فی الحال کافی ہے۔ مجموعی مہنگائی (ہیڈلائن انفلیشن) میں کمی آئی ہے، زرِ گردش کی رفتار سست ہوئی ہے، بیرونی شعبے کی صورتحال قابو میں ہے، مالیاتی نظم و ضبط کا عمل جاری ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر بھی استحکام کے عمل کے آغاز کے مقابلے میں نمایاں طور پر مضبوط ہو چکے ہیں۔

تاہم تصویر کا دوسرا رخ اتنا اطمینان بخش نہیں۔ نجی شعبے کو دیے جانے والے قرضوں کی سالانہ شرح نمو بڑھ کر 14.9 فیصد تک پہنچ گئی جس میں ورکنگ کیپٹل، فکسڈ سرمایہ کاری اور صارفین کے قرضوں سمیت تقریباً تمام شعبوں میں وسیع بنیادوں پر اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اسٹیٹ بینک خود بھی توقع کررہا ہے کہ بجٹ میں دی گئی مراعات، ٹیرف اصلاحات اور نجی شعبے کے قرضوں میں اضافہ معاشی سرگرمیوں کو سہارا دے گا جس کے باعث مالی سال 2026-27 میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے، تاہم جیسے جیسے یہ معاشی بحالی رفتار پکڑے گی، توقع ہے کہ مالی سال 2025-26 میں ریکارڈ کیے گئے صرف 139 ملین ڈالر کے معمولی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے مقابلے میں رواں مالی سال یہ خسارہ بڑھ کر مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے ایک فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔

مہنگائی کا منظرنامہ بھی مکمل طور پر اطمینان بخش نہیں۔ جون میں مجموعی مہنگائی (ہیڈلائن انفلیشن) میں کمی کی ایک وجہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں کمی اور بجلی کے نرخوں میں موافق ردوبدل تھا، تاہم گندم اس سے تیار ہونے والی اشیا اور جلد خراب ہونے والی غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے باعث خوراک کی مہنگائی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ عالمی اجناس کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ پیداواری لاگت میں اضافے اور ملک کے اندر غذائی اشیا پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث آئندہ چند ماہ تک مہنگائی اس کے ہدفی دائرے سے اوپر رہنے کا امکان ہے۔ تاہم توقع ہے کہ جون 2027 تک یہ بتدریج کم ہو کر 5 سے 7 فیصد کے ہدفی دائرے کی بالائی حد کے قریب مستحکم ہوجائے گی۔

یہ صورتِ حال بذاتِ خود سخت مانیٹری پالیسی اختیار کرنے کا جواز فراہم نہیں کرتی۔ رسد (سپلائی) سے پیدا ہونے والے عارضی جھٹکوں کے نتیجے میں خودکار طور پر شرح سود میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے، خاص طور پر اس وقت جب مہنگائی سے متعلق توقعات قابو میں ہوں اور ان کے ثانوی اثرات محدود ہوں تاہم جب مجموعی مہنگائی 11.1 فیصد، بنیادی مہنگائی (کور انفلیشن) 8.4 فیصد، نجی شعبے کے قرضوں کی شرح نمو 14.9 فیصد ہو اور معیشت کی شرح نمو 4.5 فیصد تک پہنچنے کی توقع کی جا رہی ہو تو مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اندر مکمل اتفاقِ رائے کا سامنے آنا تجزیاتی اعتبار سے زیادہ اہم اور دلچسپ بن جاتا ہے۔

تازہ مانیٹری پالیسی بیان درحقیقت یہ تاثر دیتا ہے کہ گزشتہ اجلاس کے بعد معاشی منظرنامے میں بہتری آئی ہے تاہم اس کے ساتھ ہی اس میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی خطرات، عالمی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، ملک کے اندر غذائی اشیا پر دباؤ اور مستقبل میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے کے خدشات کا بھی اعتراف کیا گیا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ تجزیہ بالکل درست ثابت ہو۔ تاہم جب ووٹنگ کا رجحان سخت مؤقف رکھنے والے ایک رکن کے اختلافی ووٹ سے مکمل اتفاقِ رائے میں تبدیل ہو جائے تو مانیٹری پالیسی کے ابلاغی نظام کو اس قابل ہونا چاہیے کہ مبصرین یہ بہتر طور پر سمجھ سکیں کہ خطرات کے مجموعی جائزے میں آخر کون سا پہلو تبدیل ہوا جس کے نتیجے میں یہ اتفاقِ رائے وجود میں آیا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں زیادہ شفافیت مانیٹری پالیسی کے ابلاغ کے معیار کو بھی بلند کرتی ہے، حالیہ عرصے تک مبصرین کو مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اراکین کے درمیان رائے کے اختلاف کا اندازہ صرف حتمی فیصلے اور بعد ازاں جاری ہونے والے اجلاس کے منٹس سے لگانا پڑتا تھا۔ اب ووٹنگ کی تفصیلات باقاعدگی سے جاری کیے جانے سے اس نظام میں بہتری آئے گی کیونکہ اس سے مارکیٹوں، کاروباری اداروں اور عوام کو یہ سمجھنے میں زیادہ مدد ملے گی کہ کمیٹی کے اراکین مختلف معاشی خطرات کا کس انداز میں جائزہ لے رہے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس سے اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کے ردِعمل کو سمجھنا بھی زیادہ آسان ہو جائے گا۔

تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے صرف ووٹنگ کے اعداد و شمار شائع کرنا کافی نہیں، اختلافی رائے سے مکمل اتفاقِ رائے تک پہنچنے کے پیچھے کئی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر نئی معاشی معلومات نے مہنگائی کے منظرنامے کو تبدیل کر دیا ہو، اراکین نے مہنگائی کے دیرپا رہنے کے خدشات کا ازسرِنو جائزہ لیا ہو، مہنگائی سے متعلق توقعات میں نرمی آنے سے ثانوی اثرات کے بارے میں خدشات کم ہو گئے ہوں، زرمبادلہ ذخائر میں اضافے سے بیرونی خطرات کا تاثر کم ہوا ہو، یا مالیاتی نظم و ضبط پر بڑھتے ہوئے اعتماد نے مزید شواہد کا انتظار کرنے کی لاگت سے متعلق اندازہ بدل دیا ہو۔ یہ تمام وجوہات قابلِ قبول اور منطقی ہوسکتی ہیں لیکن صرف ووٹنگ کا نتیجہ مبصرین کو یہ نہیں بتاتا کہ آخر خطرات سے متعلق کس مخصوص اندازے یا رائے میں تبدیلی آئی تھی۔

یہ اس لیے اہم ہے کہ مانیٹری پالیسی صرف پالیسی ریٹ کے ذریعے ہی نہیں بلکہ توقعات کے ذریعے بھی اپنا اثر دکھاتی ہے۔ سرمایہ کاری کے فیصلے کرنے والے کاروباری ادارے، قرضوں کی قیمت مقرر کرنے والے بینک اور شرح سود کے مستقبل کے رخ کے بارے میں توقعات قائم کرنے والی مالیاتی منڈیاں یہ جاننا چاہتی ہیں کہ کون سی معاشی پیش رفت مانیٹری پالیسی کمیٹی کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ اس لیے اصل اور مؤثر پالیسی اشارہ صرف یہ نہیں کہ آج پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ مہنگائی، نجی شعبے کے قرضوں، مالیاتی صورتحال اور بیرونی شعبے میں کس نوعیت کی تبدیلیاں کمیٹی کو مستقبل میں اپنی پالیسی کا رخ بدلنے پر آمادہ کر سکتی ہیں۔

ملکی معیشت جیسے جیسے بحالی کے مرحلے میں آگے بڑھ رہی ہے، یہ سوال مزید اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے۔ استحکام کے دور میں نسبتاً واضح پالیسی اشاروں کی جگہ اب زیادہ پیچیدہ معاشی صورتحال نے لے لی ہے۔ ایک طرف مہنگائی اب بھی ہدف سے بلند ہے، اگرچہ اس میں بتدریج کمی کی توقع کی جارہی ہے۔ دوسری جانب وسیع پیمانے پر زرِ گردش کی شرح نمو سست پڑنے کے باوجود نجی شعبے کے قرضوں میں 14.9 فیصد کی رفتار سے اضافہ ہورہا ہے۔ اسی طرح مالی سال 2026-27 میں معاشی شرح نمو 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے کی توقع ہے، تاہم اس کے جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ اسٹیٹ بینک نے دسمبر کے اختتام تک زرمبادلہ ذخائر 20.2 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا لیکن اس کے باوجود بیرونی شعبے کی صورتحال اب بھی عالمی اجناس کی قیمتوں اور جغرافیائی سیاسی پیش رفت سے متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔

یہ نتائج بظاہر ایک دوسرے سے متضاد نہیں تاہم ان کا خودبخود حاصل ہو جانا بھی یقینی نہیں۔ اس کے لیے ایک نہایت محتاط اور متوازن منتقلی درکار ہے جس میں معاشی نمو مضبوط ہو، نجی شعبے کے قرضوں میں اضافہ ہو، درآمدات بڑھیں جبکہ اسی دوران مہنگائی میں مسلسل کمی آتی رہے اور بیرونی شعبے کی صورتحال بھی قابو میں رہے۔جیسے جیسے ان مختلف اہداف کے درمیان توازن قائم رکھنا زیادہ مشکل ہوتا جائے گا، ویسے ویسے یہ جاننا مزید اہم ہو جائے گا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی ان مختلف عوامل اور ممکنہ خطرات کو کس انداز میں اہمیت دیتی ہے اور ان کے درمیان توازن کیسے قائم کرتی ہے۔

متفقہ طور پر شرح کو برقرار رکھنا صرف اس بات کی نشاندہی کر سکتا ہے کہ اب تمام ارکین موجودہ حالات کے تحت 11.5 فیصد کی شرح کو موزوں سمجھتے ہیں۔ اس نتیجے میں بذات خود کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں ہے۔ لیکن ایک بار جب ووٹنگ کے پیٹرن مانیٹری پالیسی کمیونیکیشن کا حصہ بن جاتے ہیں تو ان پیٹرنز میں ہونے والی تبدیلیاں لازمی طور پر اس سگنل کا حصہ بن جاتی ہیں جن کے ذریعے مارکیٹس مستقبل کی پالیسی کا اندازہ لگاتی ہیں۔

پالیسی ریٹ کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کے فیصلے کے لیے نسبتاً کم وضاحت درکار تھی، تاہم سخت مؤقف رکھنے والے اختلافی ووٹ سے مکمل اتفاقِ رائے تک پہنچنے کی تبدیلی زیادہ جامع وضاحت کی متقاضی ہے، اس لیے نہیں کہ اس سے فیصلے میں کسی تضاد کا تاثر ملتا ہے بلکہ اس لیے کہ زیادہ شفافیت کا بنیادی مقصد بالآخر مانیٹری پالیسی کمیٹی کی سوچ اور فیصلہ سازی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کو کم کرنا ہے، اگر ووٹنگ کی تفصیلات جاری کرنے کا مقصد مستقبل کی پالیسی کے بارے میں رہنمائی کو مؤثر بنانا ہے تو مبصرین کو بتدریج یہ سمجھنے کے قابل ہونا چاہیے کہ ووٹنگ کے انداز میں آنے والی تبدیلی کس معاشی تجزیے یا خطرات کے جائزے میں تبدیلی کا نتیجہ تھی۔

مانیٹری پالیسی میں شفافیت کا مطلب محض زیادہ معلومات شائع کرنا نہیں ہوتا۔ اس کی اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ اس کے ذریعے مانیٹری پالیسی کے ردِعمل کو سمجھنا آسان ہو جائے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مختلف معاشی اشاریے مختلف سمتوں کی نشاندہی کر رہے ہوں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026