مارکٹس

ایپل کو سپلائی بحران کا سامنا، آئندہ سہ ماہی کی آمدنی پیش گوئی متاثر

  • اس اعلان کے بعد آفٹر آورز ٹریڈنگ میں ایپل کے شیئرز 5.5 فیصد گر گئے
شائع اپ ڈیٹ

دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے ستمبر میں ختم ہونے والی موجودہ سہ ماہی کے لیے فروخت میں توقعات سے کم اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔ کمپنی کے مطابق جدید چپس اور میموری سمیت اہم پرزہ جات کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث طلب کے باوجود مصنوعات کی بروقت ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔ اس اعلان کے بعد آفٹر آورز ٹریڈنگ میں ایپل کے شیئرز 5.5 فیصد گر گئے۔

چیف ایگزیکٹو ٹم کک نے سرمایہ کاروں سے گفتگو میں کہا کہ کمپنی کو سپلائی چین میں شدید دباؤ کا سامنا ہے اور میموری چپس کے متبادل سپلائرز کے تمام ممکنہ آپشنز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ چیف فنانشل آفیسر کیون پاریکھ کے مطابق کمپنی کو موجودہ سہ ماہی میں آمدنی میں 9 سے 11 فیصد اضافے کی توقع ہے، جبکہ وال اسٹریٹ تقریباً 12 فیصد اضافے کی پیش گوئی کر رہی تھی۔

اس کے باوجود ایپل نے جون میں ختم ہونے والی مالی سال کی تیسری سہ ماہی کے نتائج سے مارکیٹ کو حیران کر دیا۔ کمپنی کی آمدنی 16.4 فیصد اضافے کے ساتھ 109.42 ارب ڈالر رہی، جو تجزیہ کاروں کے اندازوں سے بہتر ہے۔ فی حصص منافع 2.02 ڈالر ریکارڈ کیا گیا، جبکہ حکومتی ٹیرف ریفنڈ کو نکال کر بھی منافع وال اسٹریٹ کی توقعات سے زیادہ رہا۔

آئی فون کی فروخت 21.7 فیصد اضافے کے ساتھ 54.25 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو تیسری سہ ماہی کے لیے ریکارڈ سطح ہے۔ میک کمپیوٹرز کی فروخت بھی 28.7 فیصد بڑھ کر 10.35 ارب ڈالر ہو گئی، جبکہ آئی پیڈ کی فروخت 5.9 فیصد کم ہو کر 6.19 ارب ڈالر رہ گئی۔

کمپنی کے سروسز کاروبار کی آمدنی 12.1 فیصد اضافے کے باوجود 30.74 ارب ڈالر رہی، جو مارکیٹ کی توقعات سے کم تھی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سروسز کی رفتار میں سستی سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث ہے، خاص طور پر اگر مستقبل میں آئی فون کی فروخت بھی معمول پر آ جاتی ہے۔

ٹم کک نے کہا کہ کمپنی مصنوعی ذہانت پر مبنی نئی سری سروسز متعارف کرا رہی ہے اور مستقبل میں آئی کلاؤڈ پلس کے ذریعے صارفین کو اضافی اے آئی فیچرز بامعاوضہ فراہم کیے جا سکتے ہیں۔