مارکٹس

ای سی سی نے گندم درآمدی طریقہ کار کے لیے اسٹیئرنگ کمیٹی کی منظوری دے دی

  • کمیٹی صوبوں کی طلب کا جائزہ لے کر گندم کی درآمد کے لیے عملی طریقۂ کار مرتب کرے گی
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے بدھ کو گندم کی درآمدی ضروریات کا تخمینہ لگانے اور صوبوں سے مشاورت کے بعد درآمد کا عملی طریقہ کار وضع کرنے کے لیے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں اسٹیئرنگ کمیٹی کے قیام کی منظوری دے دی۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے فنانس ڈویژن میں ہونے والے ای سی سی کے اجلاس کی ورچوئل صدارت کی۔

اس حوالے سے سمری قومی غذائی تحفظ و تحقیق ڈویژن نے پیش کی تھی۔

ای سی سی نے اسٹیئرنگ کمیٹی کے قیام کی منظوری دی، جس میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، وفاقی وزیر تجارت، وفاقی وزیر اقتصادی امور، وفاقی وزیر قانون، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے دفتر کے لیے وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے رابطہ، وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر برائے زراعت و غذائی تحفظ، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری تجارت، سیکریٹری قومی غذائی تحفظ و تحقیق، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے چیف سیکریٹریز، اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کے چیئرمین شامل ہوں گے۔ کمیٹی کی سربراہی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کریں گے۔

فنانس ڈویژن کے مطابق اسٹیئرنگ کمیٹی گندم کی درآمد کی ضرورت کا تخمینہ لگائے گی اور صوبوں کی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے درآمد کے لیے عملی طریقہ کار مرتب کرے گی۔

ملک میں طلب اور رسد کے فرق کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے گزشتہ ہفتے 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے اور پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کے موجودہ گندم ذخائر صوبوں کی ضروریات کے مطابق جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ مارکیٹ میں قیمتوں کو مستحکم رکھا جا سکے۔

منگل کو وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ گندم کی اپنی مجموعی ضروریات تحریری طور پر ارسال کریں، تاکہ وفاقی حکام تمام صوبوں میں گندم کی تقسیم کے لیے مناسب حکمت عملی مرتب کر سکیں۔