کاروبار اور معیشت

امریکی فیڈ سے شرحِ سود برقرار رکھنے کی توقع، مہنگائی پر سخت مؤقف رکھنے والوں کا دباؤ برقرار

  • بیشتر سرمایہ کاروں کا اندازہ ہے کہ امریکی فیڈ مسلسل پانچویں بار شرحِ سود میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا، جو 3.50 تا 3.75 فیصد رہے گی
شائع اپ ڈیٹ

امریکی فیڈرل ریزرو سے توقع ہے کہ بدھ کو شرحِ سود میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ماہرین کا کہنا ہے کہ فیڈ کے بعض پالیسی ساز شرحِ سود میں اضافے کے حق میں اختلافی رائے دے سکتے ہیں۔

فیڈ کی اوپن مارکیٹ کمیٹی (ایف او ایم سی) نے بدھ کی صبح بند کمرہ اجلاس کے دوسرے روز کا آغاز کیا۔ مرکزی بینک کے ترجمان کے مطابق اجلاس کے فیصلے کا اعلان دوپہر 2 بجے (گرین وچ مین ٹائم کے مطابق شام 6 بجے) کیا جائے گا، جس کے بعد چیئرمین کیون وارش پریس کانفرنس کریں گے۔

زیادہ تر سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ سی ایم ای کے فیڈ واچ مانیٹرنگ ٹول کے مطابق فیڈ مسلسل پانچویں اجلاس میں شرحِ سود 3.50 سے 3.75 فیصد کی سطح پر برقرار رکھے گا، تاہم شرح میں اضافے کی توقعات پر مبنی شرطیں بڑھ رہی ہیں۔

گزشتہ ماہ صارفین کے لیے مہنگائی کی شرح سالانہ بنیاد پر کم ہوکر 3.5 فیصد ہوگئی تھی، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے نتیجے میں مہنگائی دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں ایران جنگ کے باعث خطے میں دوبارہ لڑائی شروع ہوئی ہے۔

اجلاس کے نتائج کے حوالے سے غیر معمولی غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے، جس کی ایک وجہ فیڈ چیئرمین کیون وارش کا معاشی صورتحال کے بارے میں اپنے خیالات عوامی طور پر ظاہر کرنے سے گریز ہے۔ یہ ان کی ان اصلاحات کا حصہ ہے جن کا مقصد مرکزی بینک کی جانب سے مستقبل کی پالیسی رہنمائی کے حجم کو کم کرنا ہے۔

”یہ اجلاس اس لحاظ سے غیر معمولی ہے کہ ہمیں واقعی معلوم نہیں کہ فیڈ چیئرمین اس وقت معیشت کے بارے میں کیا سوچ رکھتے ہیں،“ ای وائی-پارتھنن کے چیف اکانومسٹ گریگوری ڈیکو نے کہا۔

مہنگائی پر صبر کا پیمانہ لبریز

عہدہ سنبھالنے کے بعد چند عوامی بیانات میں وارش نے کہا ہے کہ کمیٹی قیمتوں میں استحکام یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس مقصد کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے یا فیڈ کب مداخلت کرے گا۔

ڈیکو نے اے ایف پی کو بتایا، ”مہنگائی کے معاملے میں دیگر پالیسی سازوں کا صبر جواب دے رہا ہے، اور بیشتر، اگر سب نہیں، تو اس وقت کارروائی کے لیے تیار ہیں جب تک مہنگائی جلد دوبارہ 2 فیصد کے ہدف کی جانب نہیں آتی۔“

چھ ہفتے قبل فیڈ کے آخری اجلاس کے بعد متعدد پالیسی ساز مہنگائی پر اپنی تشویش کا اظہار کرچکے ہیں، جو گزشتہ پانچ برس سے زائد عرصے سے فیڈ کے طویل مدتی 2 فیصد ہدف سے اوپر ہے۔

مارچ کے بعد سے ٹرمپ کی ایران جنگ کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، جس نے عالمی سطح پر توانائی اور کھاد کی قیمتوں کو بلند کیا، جبکہ ان اضافوں کے اثرات دیگر اشیا تک بھی منتقل ہوئے۔

فیڈ گورنر کرسٹوفر والر نے 13 جولائی کو کہا، ”فیڈ کو 2021 سے 2022 کے مہنگائی بحران کے دوبارہ پیدا ہونے سے روکنے کے لیے مالیاتی پالیسی سخت کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔“

انہوں نے کہا، ”مہنگائی کو صرف اس امید پر گھورتے رہنا کہ وہ خود بخود ختم ہوجائے گی، کوئی آپشن نہیں۔“

اختلافی آرا کا امکان

عہدہ سنبھالنے کے بعد وارش نے شرحِ سود کے فیصلوں میں پالیسی سازوں کے درمیان ”اچھی خاندانی بحث“ کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

امکان ہے کہ اس ہفتے کے اجلاس میں انہیں اسی طرح کی بحث کا سامنا کرنا پڑے۔

کے پی ایم جی کی چیف اکانومسٹ ڈیان سوانک نے کہا، ”مجھے شرحِ سود میں اضافے کی توقع نہیں، لیکن اختلافی آرا سامنے آنے کا امکان ہے۔“

انہوں نے کہا، ”ہمارے پاس نیا چیئرمین ضرور ہے، لیکن پرانے پالیسی ساز اس بات پر فکرمند ہیں کہ سال کے آغاز سے اب تک معیشت کس سمت میں گئی ہے۔“

سوانک کے مطابق فیڈ کے ”مہنگائی پر سخت مؤقف رکھنے والے پالیسی ساز“، جو بلند قیمتوں پر قابو پانے کے لیے شرحِ سود میں اضافے کے حامی ہیں، تعداد میں بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، ”فیڈ کا سخت گیر دھڑا نہ صرف مزید مضبوط ہوا ہے بلکہ اس کا دائرہ بھی وسیع ہوگیا ہے۔“

جون میں صارفین کی مہنگائی کی کم شرح نے پالیسی سازوں کو فی الحال ”کچھ مہلت“ دی ہے، تاہم مستقبل میں قیمتوں میں اضافے کے خدشات کے باعث سوانک نے رواں سال کے آخر میں شرحِ سود میں دو اضافوں کا امکان ظاہر کیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ مہنگائی کے اثرات ”تباہ کن“ ہوسکتے ہیں، کیونکہ اس کا سب سے زیادہ بوجھ کم آمدنی والے طبقوں پر پڑتا ہے، جبکہ زیادہ آمدنی والے افراد کی کھپت بلند مہنگائی کے باوجود مضبوط رہی ہے۔

سوانک نے کہا، ”یہ ان لوگوں کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے جو اسے برداشت کرنے کی کم سے کم صلاحیت رکھتے ہیں، اور اب اس کے اثرات معیشت کے مزید حصوں تک پھیل رہے ہیں۔“

حالیہ مہینوں میں امریکا میں مہنگائی پر ایران جنگ کے اثرات نمایاں رہے ہیں، تاہم اس کے علاوہ وبا کے مسلسل جھٹکوں، روس یوکرین جنگ اور ٹرمپ کی غیر یقینی ٹیرف پالیسیوں نے بھی قیمتوں میں اضافے میں کردار ادا کیا ہے۔