نئے امریکی محصولات کے باوجود بھارت کا تجارتی معاہدے پر امریکا سے مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان
- ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت دار ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر 10 سے 12.5 فیصد تک نئے محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا ہے
بھارت نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ دوطرفہ تجارتی معاہدہ طے کرنے کے لیے مذاکرات کا عمل جاری رکھے گا۔ یہ بیان واشنگٹن کی جانب سے نئے تجارتی اقدامات کے تحت جنوبی ایشیائی ملک سے درآمدات پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے جمعہ کے روز بھارت سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر 10 سے 12.5 فیصد تک نئے محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا۔ امریکا کا الزام ہے کہ ان ممالک نے جبری مشقت سے تیار کی جانے والی مصنوعات کی درآمدات روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔
بھارت کی وزارتِ تجارت نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت پر عائد کیا جانے والا نیا ٹیرف جون میں تجویز کردہ 12.5 فیصد شرح سے کم ہے، جبکہ اس سے جنیرک ادویات، اسمارٹ فونز، اسٹیل، ایلومینیم اور آٹو پارٹس جیسی مصنوعات کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
بھارت کی وزارتِ تجارت نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت امریکا کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور دوطرفہ تجارتی معاہدے کے لیے جاری مذاکرات کے تحت ٹیکسٹائل سمیت مختلف شعبوں سے متعلق امور پر بات چیت بھی جاری رکھے گا۔
دونوں ممالک گزشتہ سال سے تجارتی معاہدے پر مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور مارکیٹ تک رسائی سے متعلق طویل عرصے سے زیرِ التوا معاملات حل کیے جا سکیں۔
وزارتِ تجارت نے کہا، ”حکومت بھارت اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تجارتی معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم پر قائم ہے۔“
وزارت کے مطابق، مصنوعات کو دی گئی چھوٹ کے باعث بھارت کی امریکا کو برآمدات کا تقریباً 45 فیصد حصہ نئے ٹیرف سے محفوظ رہے گا، جبکہ باقی 55 فیصد برآمدات پر 10 فیصد نیا محصول عائد ہوگا۔
یہ نیا محصول امریکا کی جانب سے پہلے سے نافذ ”انتہائی پسندیدہ ملک“ (ایم ایف این) ٹیرف کے علاوہ ہوگا۔
رائٹرز نے جمعہ کو رپورٹ کیا تھا کہ نئے ٹیرف نظام کے تحت بھارتی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے برآمد کنندگان کو کئی ایشیائی حریف ممالک کے مقابلے میں نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔