دنیا

بنگلہ دیشی صدر شہاب الدین نے علالت کے باعث عہدہ چھوڑ دیا

  • 76 سالہ شہاب الدین اپریل 2023ء سے صدر کے عہدے پر فائز تھے
شائع اپ ڈیٹ

بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین، جو معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کے سابق اتحادی ہیں، نے صحت کے شدید مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، یہ بات ان کے دفتر سے جاری بیان میں کہی گئی۔

76 سالہ شہاب الدین اپریل 2023ء سے صدر کے عہدے پر فائز تھے، جس میں 2024ء میں طلبا کی قیادت میں ہونے والے عوامی احتجاج کے بعد شیخ حسینہ کے بھارت فرار ہونے کے بعد کے پرتشدد اور بے یقینی سے بھرپور مہینے بھی شامل ہیں۔شہاب الدین نے اپنے پریس سکرٹری کی جانب سے جاری بیان میں کہا کہ حالیہ طبی معائنوں میں مجھ میں آٹونومک نیوروپیتھی نامی بیماری کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے میں کبھی کبھار لمحاتی طور پر ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہوں۔

شہاب الدین کے استعفے سے شیخ حسینہ کے متوقع اقتدار میں واپسی کے منصوبے سے پانچ ماہ قبل اعلیٰ ترین سرکاری عہدوں پر ان کا کوئی اتحادی نہیں بچے گا۔ ان کی سیاسی جماعت عوامی لیگ پر پابندی عائد ہے اور 2024ء میں ان کی حکومت کے خاتمے کا سبب بننے والے خونی احتجاج کے بعد سے ان کے بیشتر رہنما اور کارکنان يا تو جیلوں میں ہیں یا روپوش ہو چکے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ نیا صدر منتخب ہونے تک قومی اسمبلی (جاتیا سنگسد) کے اسپیکر صدر کے فرائض سرانجام دیں گے۔ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے شہاب الدین مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہیں، تاہم 17 کروڑ 30 لاکھ کی آبادی پر مشتمل اس مسلم اکثریتی ملک میں انتظامی اختیارات وزیراعظم اور کابینہ کے پاس ہوتے ہیں۔

رائٹرز نے جمعرات کو ہی رپورٹ کر دیا تھا کہ معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کے سابق اتحادی، شہاب الدین، جمعہ کو اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔