دنیا

یورپی یونین نے امریکی ٹیرف کی منطق پر سوال اٹھا دیا، وضاحت طلب

یورپی یونین پر جبری مشقت سے متعلق قوانین کے کمزور نفاذ کا الزام بے بنیاد ہے، کایا کالاس
شائع اپ ڈیٹ

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے امریکا کی جانب سے یورپی مصنوعات پر نئے ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین پر جبری مشقت سے متعلق قوانین کے کمزور نفاذ کا الزام بے بنیاد ہے۔

فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان اجلاس کے موقع پر رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کالاس نے کہا کہ اگر یورپی یونین کے لیبر قوانین کا امریکا سے موازنہ کیا جائے تو یورپ میں ملازمین کو تنخواہ کے ساتھ چھٹیاں اور بہتر افرادی حقوق حاصل ہیں، اس لیے امریکی مؤقف کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کو اس اقدام کی توقع نہیں تھی اور اب واشنگٹن سے اس فیصلے کی وضاحت طلب کی جائے گی۔ ان کے مطابق یورپی یونین نے گزشتہ سال ہونے والے ٹرانس اٹلانٹک تجارتی معاہدے کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کیں، اس لیے امریکی اقدام ایک منفی اور غیر متوقع پیش رفت ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جمعہ کو یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت داروں کی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد نئے ٹیرف عائد کر دیے ہیں۔ امریکا کا مؤقف ہے کہ ان ممالک میں جبری مشقت کے خلاف قوانین پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔

دوسری جانب کایا کالاس نے روس کے خلاف یورپی یونین کے 21ویں پابندیوں کے پیکیج کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان پابندیوں کا مقصد روس کو یوکرین جنگ کی مالی معاونت سے محروم کرنا اور اسے مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔ ان کے مطابق پابندیوں کے باعث روس کے لیے بیرون ملک سرمایہ حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے، تاہم یہ اقدامات روس پر دباؤ ڈالنے کی وسیع حکمت عملی کا صرف ایک حصہ ہیں۔