پاکستان کا پیٹرولیم شعبہ شاذ و نادر ہی پالیسیوں کے تسلسل سے منسلک رہا ہے۔ حکومتیں اکثر مارکیٹ کے اصولوں اور انتظامی مداخلت کے درمیان توازن کھوتی رہی ہیں جہاں سیاسی مصلحت کو اکثر معاشی منطق پر فوقیت حاصل رہی ہے۔
اس پس منظر میں یومیہ پیٹرولیم قیمتوں کے میکانزم (طریقہ کار) کا تعارف ماضی کے طریقوں سے ایک معنی خیز انحراف کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی اصلاح ہے جو تعریف کی مستحق ہے اس لیے نہیں کہ یہ کم ایندھن کی قیمتوں کی ضمانت دیتی ہے، بلکہ اس لیے کہ یہ قیمتوں کے نظام کو زیادہ شفاف، قابلِ پیشگوئی اور مارکیٹ کی حقائق کا عکاس بناتی ہے۔
صارفین کے لیے اس کا سب سے فوری فائدہ قیمتوں میں اچانک ہونے والے بڑے اتار چڑھاؤ میں کمی کی صورت میں سامنے آئے گا۔ سابقہ پندرہ روزہ قیمتوں کے تعین کے نظام کے تحت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں دو ہفتوں کے دوران ہونے والی تبدیلیاں جمع ہو کر ایک ہی مرتبہ صارفین تک منتقل کی جاتی تھیں۔ تاہم حالیہ ہفتوں اور مہینوں کی طرح جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے دوران عالمی خام تیل کی قیمتیں چند ہی دنوں میں نمایاں طور پر اوپر نیچے ہوسکتی ہیں۔ ایسے میں ایسا نظام جس کے تحت قیمتوں میں بتدریج ردوبدل کیا جائے، قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو بڑھانے کے بجائے محدود رکھنے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں صارفین کو اگرچہ قیمتوں میں نسبتاً زیادہ بار تبدیلی کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن ہر تبدیلی نسبتاً معمولی ہوگی اور عالمی منڈی کی موجودہ صورتحال کی زیادہ درست عکاسی کرے گی۔
اس اصلاحات سے سپلائی چین کی پیش گوئی اور منصوبہ بندی بھی بہتر ہوگی۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کو اب پندرہ روزہ قیمتوں میں ردوبدل کی توقعات کی بنیاد پر ذخائر کے بارے میں فیصلے کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ ماضی میں عالمی قیمتوں میں تیز اتار چڑھاؤ کی صورت میں یہ نظام قیاس آرائی پر مبنی ذخیرہ اندوزی یا ذخائر کم کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا تھا۔ مقامی قیمتوں کو عالمی منڈی کے نرخوں سے زیادہ ہم آہنگ کرنے سے ایسی بے ضابطگیوں میں کمی آئے گی اور کاروباری فیصلے ریگولیٹری اوقات کے بجائے حقیقی تجارتی تقاضوں اور کاروباری بنیادوں پر کیے جا سکیں گے۔
روزانہ قیمتوں کے تعین کا نظام صرف انتظامی یا عملی بہتری تک محدود نہیں بلکہ اس کی اہمیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت انتظامی کنٹرول سے ہٹ کر مارکیٹ پر مبنی قیمتوں کے نظام کی جانب بڑھنے کے لیے تیار ہے۔ پاکستان کے پیٹرولیم شعبے میں اس سمت پر گزشتہ کئی دہائیوں سے بحث ہوتی رہی ہے تاہم خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ اگر اس نظام پر مستقل مزاجی سے عمل درآمد کیا گیا تو یہ ایندھن کی سپلائی چین میں مسابقت کو فروغ دے گا، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گا اور طویل المدتی سرمایہ کاری پر غور کرنے والے کاروباری حلقوں کا اعتماد بھی بڑھائے گا۔
تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اصلاحات کا عمل مکمل ہو چکا ہے، بلکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مکمل مسابقتی پیٹرولیم مارکیٹ کی جانب منتقلی کا سفر ابھی ادھورا ہے۔ روزانہ قیمتوں کے تعین کے نظام کو منزل نہیں بلکہ اصلاحات کے سفر کا ایک اہم سنگِ میل سمجھا جانا چاہیے۔ اگلا منطقی قدم یہ ہے کہ مکمل ڈی ریگولیشن (ضابطہ جاتی پابندیوں میں نرمی) کی جانب پیش رفت جاری رکھی جائے اور ساتھ ہی ریگولیٹری نگرانی کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ آزاد منڈی کے نظام کے لیے ایسے مضبوط ادارے ناگزیر ہیں جو منصفانہ مسابقت کو یقینی بنائیں، مارکیٹ میں اجارہ داری کے ناجائز استعمال کی روک تھام کریں اور صارفین کو غیر مسابقتی اور استحصالی کاروباری طرزِ عمل سے تحفظ فراہم کریں۔ ڈی ریگولیشن کو ہرگز نگرانی کے خاتمے یا اسے کمزور کرنے کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
پالیسی سازوں کو یہ بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ مضبوط مفاداتی گروہ اصلاحات پر کس قدر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ ہر بامعنی اصلاح کو لازماً اُن عناصر کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو موجودہ نظام سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ خواہ وہ اسمگلنگ کے نیٹ ورکس ہوں، مفاد پرست درمیانی کردار (رینٹ سیکرز) یا ریگولیٹری رعایتیں حاصل کرنے کے خواہش مند تجارتی لابیز، اصلاحاتی ایجنڈے کی کامیابی اور ساکھ کا انحصار بالآخر اس بات پر ہوگا کہ حکومت دباؤ کا کس حد تک مقابلہ کرتی ہے اور پالیسی میں تسلسل برقرار رکھتی ہے۔ جو اصلاحات مخالفت کی پہلی ہی لہر کے سامنے دم توڑ دیں وہ درحقیقت اصلاحات نہیں کہلا سکتیں۔
پیٹرولیم ویلیو چین کے دیگر شعبوں میں بھی کئی اہم امور ابھی تک نامکمل ہیں۔ ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن، سپلائی چین میں تاخیر سے ہونے والی ادائیگیوں سمیت دیگر زیر التوا تجارتی مسائل کا حل، ڈاؤن اسٹریم پیٹرولیم مارکیٹ کی ڈیجیٹلائزیشن اور شفافیت بڑھانے کے لیے مسلسل اقدامات ایسے شعبے ہیں جن پر مستقل توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ الگ الگ اقدامات نہیں بلکہ ایک زیادہ مؤثر، شفاف اور مسابقتی توانائی مارکیٹ کی تشکیل کے لیے ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے بنیادی عناصر ہیں۔
پاکستان کے حالیہ معاشی استحکام نے ایسے ساختی اصلاحات کو آگے بڑھانے کا موقع فراہم کیا ہے جو شدید بحران کے دور میں سیاسی طور پر زیادہ مشکل ہوتی ہیں۔ اس موقع کو ضائع نہیں کیا جانا چاہئے۔ پٹرولیم شعبے نے پہلے ہی یہ ثابت کر دیا ہے کہ بتدریج اور اچھے طریقے سے تیار کردہ اصلاحات صارفین کے مفادات کو نقصان پہنچائے بغیر مارکیٹ کی کارکردگی کو بہتر بنا سکتی ہیں۔
فی الحال روزانہ قیمتوں کے تعین کے نظام کی محتاط حمایت کی جانی چاہیے۔ یہ ایک معقول اصلاح ہے جو انتظامی سہولت کے بجائے مارکیٹ کی حقیقی صورتحال اور تقاضوں پر مبنی ہے۔ اب پالیسی سازوں کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ اسے ایک وسیع تر اصلاحاتی عمل کا نقطۂ آغاز بنایا جائے، نہ کہ ایسا الگ تھلگ اقدام جو بڑے اصلاحاتی ایجنڈے کی تکمیل سے پہلے ہی اپنی رفتار کھو بیٹھے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026