پاکستان کی چینی سرمایہ کاروں کو بندرگاہوں اور لاجسٹکس شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت
- پاکستان کو علاقائی ٹرانزٹ تجارت، لاجسٹکس اور صنعتی مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے پُرعزم ہیں، وفاقی وزیر بحری امور
پاکستان نے چینی سرمایہ کاروں کو بندرگاہوں، لاجسٹکس اور بحری شعبوں میں اپنی سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت دے دی۔
بیجنگ میں جیانگ ٹون لینڈ انٹرنیشنل ہولڈنگز کے زیرِ اہتمام منعقدہ ریجنل ٹرانزٹ ٹریڈ حب انیشی ایٹو سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چوہدری نے کہا کہ حکومت پاکستان کو علاقائی ٹرانزٹ تجارت، لاجسٹکس اور صنعتی مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین ایک آل ویدر اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے حامل ہیں جو اب رابطے، تجارت کی سہولت کاری، لاجسٹکس، صنعتی ترقی اور پائیدار معاشی نمو کے گرد گھومنے والے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی تجارتی نظام ڈیجیٹلائزیشن، اسمارٹ لاجسٹکس، مضبوط سپلائی چینز، ماحول دوست بحری نقل و حمل اور کثیر جہتی ٹرانسپورٹ کے باعث نئی شکل اختیار کر رہا ہے جس کے نتیجے میں مضبوط علاقائی شراکت داری اور جدت کی اہمیت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے اسٹریٹجک محل وقوع نے اسے علاقائی اور بین الاقوامی تجارت کیلئے ایک قدرتی دروازہ بنا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ قاسم اتھارٹی، گوادر پورٹ اتھارٹی اور پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن سمیت بحری ادارے اصلاحات پر عمل درآمد کر رہے ہیں تاکہ پاکستان کو ایک جدید بحری، لاجسٹکس اور صنعتی مرکز بنایا جا سکے، جو علاقائی منڈیوں کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
جنید انوار چوہدری نے کہا کہ ریجنل ٹرانزٹ ٹریڈ حب انیشیٹو پاکستان کی معاشی ترجیحات کی تکمیل کرتا ہے اور بندرگاہوں کی جدید کاری، ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ کوریڈورز، لاجسٹکس پارکس، صنعتی بنیادی ڈھانچے، میری ٹائم خدمات، ڈیجیٹل تجارتی سہولت کاری اور ویلیو ایڈڈ لاجسٹکس کے شعبوں میں تعاون کے مواقع فراہم کرتا ہے۔
گوادر پورٹ کو پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا ایک اہم ترین (فلیگ شپ) منصوبہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پورٹ کے آپریشنز، لاجسٹکس، گوداموں، فری زون کی ترقی اور میری ٹائم کی صنعتوں میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرتا ہے۔
وفاقی وزیر نے چینی اداروں کو ان شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور انہیں یقین دلایا کہ پاکستان دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند طویل مدتی شراکت داری کو فروغ دینے کے ساتھ شفاف اور سرمایہ کاری دوست ماحول فراہم کرتا رہے گا۔
چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے جندی انوار چودھری نے بہتر تجارت اور سرمایہ کاری کے ذریعے ایک زیادہ مربوط، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی تعمیر کے لیے قریبی تعاون پر بھی زور دیا۔