وفاقی حکومت نے قومی جیم اسٹون پالیسی 2026-30 کی منظوری دے دی
- پالیسی کے تحت قیمتی پتھروں کی برآمدات 50 کروڑ ڈالر تک بڑھانے کا ہدف ہے
ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے پاکستان کے قیمتی اور نیم قیمتی پتھروں کے شعبے کی استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے قومی جیم اسٹون پالیسی 2026-2030 کی منظوری دے دی ہے۔ پالیسی کے تحت ایک خودمختار نیشنل جیم اسٹون اتھارٹی قائم کی جائے گی، جبکہ اس کے قیام اور دیگر اہم اقدامات کے لیے ابتدائی وفاقی فنڈنگ بھی فراہم کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق وزارت صنعت و پیداوار نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان میں قیمتی اور نیم قیمتی پتھروں کے دنیا کے بڑے ذخائر موجود ہیں، جن کی تخمینہ مالیت 450 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ اس کے باوجود سرکاری طور پر جیم اسٹونز کی برآمدات صرف 50 سے 70 لاکھ ڈالر سالانہ ہیں، جو عالمی تجارت کا محض 0.3 فیصد بنتی ہیں۔
وزارت کے مطابق اس شعبے کی 95 فیصد سے زائد تجارت غیر رسمی ذرائع سے ہوتی ہے، جس کے باعث حکومت کو زرمبادلہ، ٹیکس آمدن اور برآمدی صلاحیت کے حوالے سے بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ غیر مؤثر حکمرانی، مستند سرٹیفکیشن اور ویلیوایشن نظام کا فقدان، روایتی کان کنی میں زیادہ ضیاع، مالی سہولتوں کی کمی اور عالمی منڈیوں تک محدود رسائی بھی شعبے کی ترقی میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔
ان مسائل کے حل کے لیے وزیراعظم نے ستمبر 2025 میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی تھی، جس کی سفارشات کی روشنی میں یہ پالیسی وفاقی و صوبائی حکومتوں، ریگولیٹری اداروں، مالیاتی اداروں، تجارتی تنظیموں، صنعت کے نمائندوں اور بین الاقوامی ماہرین سے مشاورت کے بعد تیار کی گئی۔ اس میں بھارت، تھائی لینڈ، سری لنکا اور میانمار جیسے ممالک کے کامیاب ماڈلز سے بھی رہنمائی لی گئی ہے۔
پالیسی کے تحت پاکستان جیمز اینڈ جیولری ڈیولپمنٹ کمپنی کو ضم کر کے ایک قانونی حیثیت رکھنے والی نیشنل جیم اسٹون اتھارٹی قائم کی جائے گی، جو شعبے کی نگرانی، رجسٹریشن، سرٹیفکیشن، ٹریس ایبلٹی، تجارتی سہولت اور قومی کاروباری رجسٹری کے قیام کی ذمہ دار ہوگی۔
برآمدات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے نیشنل وارنٹی آفس بھی قائم کیا جائے گا، جو برآمدی کھیپ کی جانچ، قیمت کے تعین، سرٹیفکیشن اور سیلنگ کی خدمات فراہم کرے گا۔ یہ دفتر پاکستان کسٹمز، پاکستان سنگل ونڈو، بینکوں اور کوریئر سروسز کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ تنازعات کم ہوں اور برآمدی عمل محفوظ اور شفاف بنایا جا سکے۔
پالیسی میں کم از کم برآمدی قیمتوں کے تعین، پاکستان کے لیے مخصوص ایچ ایس کوڈز، قومی جیم اسٹون بزنس رجسٹری، عارضی برآمدات، ریفنڈ، ای کامرس کے ذریعے جیم اسٹون برآمدات اور اسٹیٹ بینک کے تعاون سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔
مزید برآں جدید کان کنی، مشینری رینٹل پول، ڈیمانسٹریشن مائنز، دھماکہ خیز مواد تک ضابطہ بند رسائی، کٹنگ اور پالشنگ مراکز کی توسیع، ہنرمندی کے پروگرام اور جدید مشینری و خام پتھروں کی درآمد میں سہولت فراہم کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ ضیاع کم ہو اور پیداوار میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔
وزارت صنعت و پیداوار کے مطابق پالیسی کا ہدف 2030 تک جیم اسٹونز کی سالانہ برآمدات 50 کروڑ ڈالر تک بڑھانا، غیر رسمی تجارت میں نمایاں کمی، زرمبادلہ کی آمد میں اضافہ، ہنر مند روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور بالخصوص گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر میں علاقائی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ اس پالیسی کی اصولی منظوری وزیراعظم نے 9 جنوری 2026 کو دی تھی، جبکہ تمام متعلقہ اداروں اور اسٹیک ہولڈرز نے بھی اس کی اصولی حمایت کی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026