ٹیکنالوجی

سولر مارکیٹ کی ترقی کے ساتھ پاکستانی بیٹری اسٹوریج کو تیزی سے اپنا رہے ہیں، رپورٹ

  • رپورٹ کے مطابق اب تک درآمد کی جانے والی مجموعی بیٹریوں میں سے تقریباً 60 فیصد صرف 2025 کے دوران درآمد کی گئیں
شائع اپ ڈیٹ

ایک رپورٹ کے مطابق توانائی سے متعلق پالیسیوں میں تبدیلی، بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بجلی کی فراہمی کے تسلسل سے متعلق خدشات کے باعث پاکستان میں صارفین چھتوں پر نصب سولر سسٹمز کے ساتھ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (بی ای ایس ایس) میں بھی تیزی سے سرمایہ کاری کر رہے ہیں، تاکہ توانائی کے حوالے سے زیادہ خودمختاری حاصل کی جا سکے۔

رینیوبلز فرسٹ کی نئی رپورٹ ”فرام سولر پینلز ٹو اسٹوریج: پاکستانز بیٹری بوم بِگنز“ کے مطابق 2025 کے اختتام تک لیتھیم آئن بیٹری اسٹوریج کی مجموعی درآمدات 7.6 گیگاواٹ آور (جی ڈبلیو ایچ) تک پہنچ گئیں، جو سالانہ بنیاد پر 220 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اب تک درآمد کی جانے والی مجموعی بیٹریوں میں سے تقریباً 60 فیصد صرف 2025 کے دوران درآمد کی گئیں۔

رپورٹ میں اس تیز رفتار اضافے کی وجوہات میں بجلی کے نرخوں میں اضافہ، رووف ٹاپ سولر استعمال کرنے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، بیٹریوں کی قیمتوں میں کمی اور نیٹ بلنگ نظام میں کی گئی اصلاحات کو اہم عوامل قرار دیا گیا ہے۔

رینیوبلز فرسٹ کی سینئر ڈیٹا ایسوسی ایٹ ہما نوید نے کہا کہ 2018 سے 2023 کے دوران بیٹریوں کی سالانہ درآمدات 0.5 گیگاواٹ آور (جی ڈبلیو ایچ) سے بھی کم رہیں، تاہم گزشتہ ایک سال کے دوران طلب میں غیرمعمولی تیزی آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کے بہت سے ممالک کے برعکس، جہاں بیٹری اسٹوریج کی ترقی کا انحصار زیادہ تر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں یا یوٹیلیٹی اداروں پر ہے، پاکستان میں اس مارکیٹ کی قیادت گھریلو صارفین کر رہے ہیں۔

ہما نوید کے مطابق بیٹری درآمدات میں 58 فیصد حصہ رہائشی صارفین کا ہے، جبکہ سولر توانائی استعمال کرنے والے ہر 26 گھروں میں سے تقریباً ایک گھر میں اب بیٹری اسٹوریج سسٹم بھی نصب ہے۔

رینیوبلز فرسٹ کے پروگرام ڈائریکٹر محمد مصطفیٰ امجد نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی رووف ٹاپ سولر کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تنصیبات کے ذریعے صارفین کی قیادت میں توانائی کی منتقلی کا تجربہ کر چکا ہے، اور اب بیٹری اسٹوریج بھی اسی سمت، بلکہ اس سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ توانائی کی منصوبہ بندی میں ابتدائی مرحلے ہی سے بیٹری اسٹوریج کو شامل کریں، تاکہ اس شعبے کی ترقی منصفانہ، متوازن اور سب کے لیے فائدہ مند ہو۔

رپورٹ کے مطابق بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (بی ای ایس ایس) پاکستان کے زیادہ غیرمرکزی (ڈی سینٹرلائزڈ) توانائی نظام کی جانب منتقلی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی جغرافیائی سیاسی غیریقینی صورتحال، ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور نیٹ میٹرنگ کے نظام میں حالیہ تبدیلیوں نے قومی توانائی منصوبہ بندی میں صارفین کے توانائی وسائل کو مؤثر انداز میں شامل کرنے کی ضرورت مزید بڑھا دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بیٹری اسٹوریج کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ملک کی توانائی کا تحفظ مضبوط ہوگا، درآمدی فوسل فیول پر انحصار کم ہوگا اور پاکستان کے بجلی کے شعبے کی مجموعی پائیداری اور استعداد میں بہتری آئے گی۔