معروف صنعت کار اور سرمایہ کار عارف حبیب نے کہا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کی بحالی کے لیے اقدامات جاری ہیں اور سرمایہ کاروں کا کنسورشیم نئی سینئر انتظامیہ کی تقرری پر کام کر رہا ہے۔

جمعرات کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ”ٹاک سیریز“ کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئندہ 10 برسوں میں مرحلہ وار پی آئی اے کے بیڑے کو وسعت دے کر 60 طیاروں تک پہنچایا جائے گا۔

انہوں نے فنانس ایکٹ 2026 کے تحت پی آئی اے کو دی گئی سیلز ٹیکس چھوٹ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نجکاری کے عمل کا حصہ ہے۔

عارف حبیب کا کہنا تھا کہ ”طیاروں کی تعداد میں اضافے اور ایک مضبوط سینئر انتظامی ٹیم کی تقرری کے بعد پی آئی اے کی کارکردگی میں واضح بہتری نظر آئے گی۔“

انہوں نے واضح کیا کہ پی آئی اے کے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کا ابھی تقرر نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے سی ایل کا بنیادی کاروبار منافع بخش ہے اور یہ خسارے میں چلنے والا ادارہ نہیں، جبکہ ایئرلائن کی تمام غیر ملکی جائیدادیں اب ہولڈنگ کمپنی کے پاس ہیں۔

عارف حبیب نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاروں کو اس وقت توانائی کی بلند قیمتوں اور خطے میں سب سے زیادہ ٹیکسوں کی شرح جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان کے بقول کارپوریٹ ٹیکس اور سپر ٹیکس سمیت مجموعی ٹیکس بوجھ تقریباً 60 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔ اگر حکومت ٹیکسوں اور توانائی کی قیمتوں میں کمی کرے تو سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ متعدد صنعتیں اپنی پیداواری صلاحیت سے کم سطح پر کام کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر بجلی کی کھپت میں 40 سے 50 فیصد اضافہ کیا جائے اور کیپسٹی چارجز میں کمی لائی جائے تو حکومت فی یونٹ بجلی کی قیمت میں 15 روپے تک کمی کر سکتی ہے، جس سے پیداواری لاگت کم ہوگی۔

انہوں نے آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) کے ساتھ معاہدوں کو انتہائی غیر موزوں قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کے لیے 2014-15 میں ضرورت سے زیادہ آئی پی پیز معاہدے کیے گئے، جو بعد میں نقصان دہ ثابت ہوئے۔

عارف حبیب نے پاکستان کی سرمایہ مارکیٹ کے طویل المدتی امکانات پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے گزشتہ برسوں کے دوران روپے کی بنیاد پر اوسطاً 22 فیصد جبکہ امریکی ڈالر کی بنیاد پر تقریباً 14 فیصد سالانہ منافع دیا، جو اسے طویل مدت میں خطے کی بہترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹوں میں شامل کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرمایہ مارکیٹ سرمایہ کاروں کے لیے وسیع مواقع فراہم کرتی ہے اور بالخصوص نوجوانوں میں سرمایہ کاری کا شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں سرمایہ کاری کی ثقافت کو فروغ دیا جا سکے۔

تقریب کے آغاز میں ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے عارف حبیب کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کی سرمایہ مارکیٹ اور مالیاتی شعبے کے لیے ان کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب کاروباری شخصیات کے ساتھ مکالمہ مارکیٹ کی حرکیات، کاروباری قیادت اور ضابطہ کاری کے حوالے سے قیمتی بصیرت فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایس ای سی پی شفاف، مؤثر اور سرمایہ کار دوست ضابطہ جاتی ماحول کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا تاکہ پائیدار معاشی ترقی کی راہ ہموار ہو سکے۔

کاروباری مواقع کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عارف حبیب نے نوجوان پیشہ ور افراد پر زور دیا کہ وہ جدت، سوچے سمجھے خطرات مول لینے کے جذبے اور ثابت قدمی کو اپنائیں، جبکہ ہر مرحلے پر اعلیٰ اخلاقی معیار کو برقرار رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ اعتبار اور اعتماد ہی طویل المدتی کاروباری کامیابی کی بنیاد ہیں، اور ابھرتے ہوئے کاروباری افراد کو قلیل مدتی منافع کے بجائے قدر پیدا کرنے (ویلیو کری ایشن) پر توجہ دینی چاہیے۔

مذاکرے میں پاکستان کی معاشی صورتحال، سرمایہ کاری کے مواقع اور کاروباری ترقی میں سہولت فراہم کرنے کے ساتھ سرمایہ کاروں کے مؤثر تحفظ کو یقینی بنانے میں ریگولیٹری اداروں کے بدلتے ہوئے کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

عارف حبیب نے پاکستان کی مالیاتی منڈیوں کو مضبوط بنانے کے لیے کی جانے والی اصلاحات کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ریگولیٹرز، مارکیٹ کے شرکا اور نجی شعبے کے درمیان مسلسل تعاون ملک کی سرمایہ مارکیٹ کو مزید وسعت دینے کے لیے ناگزیر ہے۔

نشست کا اختتام سوال و جواب کے سیشن پر ہوا، جس میں شرکا نے سرمایہ کاری کی حکمت عملی، کاروباری سرگرمیوں، قیادت، مالیاتی منڈیوں اور کیریئر کی ترقی سے متعلق عارف حبیب سے سوالات کیے۔

اپنے کئی دہائیوں پر محیط تجربے کی روشنی میں عارف حبیب نے شرکا کو تلقین کی کہ وہ پاکستان کے طویل المدتی معاشی امکانات کے بارے میں پُرامید رہیں، مسلسل سیکھنے کا عمل جاری رکھیں اور اپنے پیشہ ورانہ سفر میں دیانت داری اور پیشہ ورانہ اصولوں کو ہمیشہ مقدم رکھیں۔

آخر میں ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے شرکا کے ساتھ اپنے قیمتی تجربات اور خیالات کا تبادلہ کرنے پر عارف حبیب کا شکریہ ادا کیا اور ایس ای سی پی ٹاک سیریز میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں یادگاری شیلڈ پیش کی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026