29 ممالک نے عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کے قیام کے معاہدے پر دستخط کر دیے
- بانی ارکان میں پاکستان، روس، بیلاروس، سربیا، کیوبا، برازیل، وینزویلا سمیت 10 افریقی اور 12 ایشیائی ممالک شامل ہیں
دنیا کے 29 ممالک نے جمعرات کو ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن کے قیام کے معاہدے پر دستخط کر دیے۔ چین کے مطابق اس بین الحکومتی ادارے کا مقصد مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا اور عالمی سطح پر مؤثر گورننس کو مضبوط بنانا ہے۔
معاہدے پر دستخط کرنے والے بانی ارکان میں پاکستان، روس، بیلاروس، سربیا، کیوبا، برازیل، وینزویلا سمیت 10 افریقی اور 12 ایشیائی ممالک شامل ہیں۔
چینی سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق اس تنظیم کا صدر دفتر شنگھائی میں قائم کیا جائے گا۔
دستخطی تقریب شنگھائی میں سالانہ ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس سے ایک روز قبل منعقد ہوئی، جہاں چینی صدر شی جن پنگ سے توقع ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کی عالمی گورننس میں چین کے کردار سے متعلق اپنا جامع وژن پیش کریں گے۔
چین نے گزشتہ سال اسی کانفرنس میں ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن کے قیام کی تجویز پیش کی تھی، تاہم اب پہلی بار مختلف ممالک نے باضابطہ طور پر اس کی رکنیت اختیار کی ہے۔
اسلام آباد سے ہمارے نمائندے کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے جمعرات کو شنگھائی میں منعقدہ تقریب کے دوران پاکستان کی جانب سے ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن کے قیام کے معاہدے پر دستخط کیے۔
پاکستان نے تنظیم کے بانی رکن کی حیثیت سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں، خصوصاً گلوبل ساؤتھ (ترقی پذیر ممالک) کے تناظر میں، بین الاقوامی تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔
پاکستان نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ وہ تنظیم کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی عدم مساوات کم کرنے، اے آئی تک منصفانہ رسائی کو فروغ دینے اور ترقی کے یکساں مواقع پیدا کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرے گا۔