ایران اور پاکستان گیس پائپ لائن: نقصانات ثابت کرنے کے لیے نعرے نہیں، ثبوت درکار ہیں
- ہرجانے کے دعوے نعروں سے نہیں، برآمدی صلاحیت، حقیقی نقصان اور ٹھوس شواہد سے ثابت ہوتے ہیں
ایران اور پاکستان گیس پائپ لائن ایک بار پھر جرمانوں، دباؤ اور سیاسی سبکی کی زبان میں زیرِ بحث ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ایران نے پائپ لائن کے پاکستانی حصے کی تعمیر میں تاخیر پر بھاری ہرجانے کا دعویٰ کرنے سے آگاہ کیا ہے۔ تاہم اس دعوے کو محض ایک بڑی سرخی یا بھاری رقم سمجھ کر قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ ایک تجارتی دعویٰ ہے، جسے معاہدے کی خلاف ورزی، منصوبے پر عمل درآمد کے لیے تیاری، تاخیر اور نقصان کے درمیان براہِ راست تعلق، نقصان کی حقیقی مالیت اور نقصان کو کم سے کم رکھنے کے لیے کیے گئے اقدامات جیسے قانونی اور تجارتی شواہد کی بنیاد پر پرکھا جانا چاہیے۔
یہ معاملہ میرے لیے محض ایک نظری یا علمی بحث نہیں۔ میں کئی برس تک ایران۔پاکستان۔بھارت/ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر بی ایچ پی بلیٹن میں ملازم رہا اور بعد ازاں انٹراسٹیٹ گیس سسٹمز کے ڈائریکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ اس دوران میں نے اس منصوبے کے تجارتی، سیاسی اور تکنیکی تمام مراحل کو قریب سے دیکھا۔ اس تجربے اور اب تک دستیاب عوامی ریکارڈ کی بنیاد پر میری رائے ہے کہ اس منصوبے کے معاہدے میں گیس کی قیمت کا ایسا فارمولا اختیار کیا گیا جو مالی طور پر قابلِ برداشت نہیں تھا، جبکہ اتنے بڑے منصوبے کے لیے جس درجے کے آزاد تجارتی مشورے، قیمتوں کے خطرات کا جامع جائزہ اور مکمل جانچ پڑتال درکار تھی، وہ بھی نہیں کی گئی۔
یہ پس منظر اس لیے اہم ہے کہ اس تنازع کو محض اس سادہ نکتے تک محدود نہیں کیا جا سکتا کہ ایران نے اپنا حصہ تعمیر کر لیا، پاکستان نے اپنا حصہ نہیں بنایا، لہٰذا پاکستان کو اب جو بھی رقم طلب کی جا رہی ہے وہ ادا کرنا ہوگی۔ ہرجانے کے دعووں کا سنجیدہ قانونی اور تجارتی جائزہ اس انداز سے نہیں لیا جاتا۔ ایران یقیناً اپنا دعویٰ پیش کرنے کا حق رکھتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ عوامی بحث میں زیرِ گردش پوری رقم وصول کرنے کا لازمی طور پر حق دار بھی ہے۔
عوامی ریکارڈ کے مطابق، 2010ء کے پائپ لائن معاہدے کے تحت جنوبی پارس گیس فیلڈ سے پاکستان کو 25 برس تک یومیہ 75 کروڑ سے ایک ارب مکعب فٹ گیس فراہم کی جانی تھی۔ منصوبے کی مجموعی لمبائی تقریباً 1,900 کلومیٹر بتائی گئی، جس میں لگ بھگ 1,150 کلومیٹر حصہ ایران اور 781 کلومیٹر پاکستان میں واقع تھا۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے حصے پر تقریباً 2 ارب ڈالر خرچ کیے اور اسے گیس برآمد کرنے کے لیے تیار کر دیا۔ دوسری جانب، رائٹرز کی رپورٹ میں مقامی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کو ممکنہ طور پر 18 ارب ڈالر تک کے ہرجانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ حقائق یقیناً اہم ہیں، مگر فیصلہ کن نہیں۔ ہرجانے کے دعوے میں بنیادی سوال یہ نہیں کہ آیا ایران نے پائپ لائن بچھا دی تھی یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایران معاہدے کے مطابق گیس فراہم کرنے کی عملی صلاحیت رکھتا تھا؟ کیا پاکستان کی تاخیر سے ایران کو واقعی خالص معاشی نقصان پہنچا؟ اور کیا جس سرمایہ کاری پر ہرجانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ واقعی پاکستان کی وجہ سے بے کار ہوئی، یا پھر اسے ایران کے اپنے داخلی گیس فراہمی کے پروگرام میں استعمال کر لیا گیا؟
صرف پائپ لائن نہیں، فراہمی کی حقیقی استعداد بھی ضروری
ایران کا سب سے مضبوط عوامی مؤقف یہ ہے کہ اس نے اپنے حصے کا بنیادی ڈھانچہ مکمل کر لیا تھا۔ لیکن پائپ لائن کی تعمیر مکمل ہونا، تجارتی اعتبار سے مکمل طور پر تیار ہونے کے مترادف نہیں۔ اگر فروخت کنندہ گیس نہ اٹھائے جانے پر ہرجانے کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے صرف یہ ثابت کرنا کافی نہیں کہ ترسیل کا راستہ تیار تھا، بلکہ یہ بھی دکھانا ہوگا کہ معاہدے میں طے شدہ مقامِ ترسیل پر مطلوبہ مقدار میں گیس کی یقینی دستیابی موجود تھی۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں ایران کا دعویٰ کمزور پڑ سکتا ہے۔ ایران کے پاس گیس کے وسیع ذخائر ضرور ہیں، لیکن زیرِ زمین موجود ذخائر اور برآمد کے لیے دستیاب گیس ایک ہی چیز نہیں۔ جنوبی پارس کوئی اضافی برآمدی ذخیرہ نہیں بلکہ ایران کے داخلی توانائی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق جنوبی پارس سے ایران کی گیس پیداوار کا بڑا حصہ حاصل ہوتا ہے، جبکہ ملک اپنی پیدا ہونے والی بیشتر گیس اندرونِ ملک ہی استعمال کرتا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایران نے 2024ء میں 276 ارب مکعب میٹر گیس پیدا کی، جس میں سے 94 فیصد ملک کے اندر ہی استعمال ہو گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پابندیوں اور تکنیکی رکاوٹوں کے باعث جنوبی پارس سے حاصل ہونے والی زیادہ تر گیس مقامی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
سردیوں میں ایران کو گیس کی قلت کا سامنا محض چند وقتی واقعات نہیں بلکہ ایک مستقل اور ساختی مسئلہ ہے۔ شدید سردی کے دوران گیس کی کمی کے باعث سرکاری دفاتر اور تعلیمی ادارے بند کرنا پڑے، بجلی کی بندش ہوئی اور متبادل ایندھن استعمال کرنا پڑا۔ یہ حقائق ایک بنیادی سوال کو جنم دیتے ہیں: جس مدت کے لیے ایران ہرجانے کا دعویٰ کر رہا ہے، کیا اس دوران اس کے پاس واقعی پاکستان کو فراہم کرنے کے لیے اضافی گیس کی یقینی مقدار موجود تھی، یا وہی گیس اسے اپنے گھریلو صارفین، بجلی گھروں، صنعتوں اور گیس کو دوبارہ ذخائر میں داخل کرنے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درکار تھی؟
مدعی محض گیس کے بڑے ذخائر کا حوالہ دے کر عملی طور پر گیس فراہم کرنے کی صلاحیت کے سوال کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ اگر ایران کا گیس نظام سردیوں میں قلت کا شکار رہا، اگر جنوبی پارس پر دباؤ موجود تھا، اور اگر اندرونی ضروریات بڑھنے کے دوران موجودہ خریداروں کو گیس کی برآمدات میں کمی یا تعطل آیا، تو پاکستان کو یہ مطالبہ کرنے کا پورا حق حاصل ہے کہ ایران ٹھوس شواہد کے ساتھ ثابت کرے کہ پاکستان کے لیے مختص گیس واقعی دستیاب تھی، اس کی پراسیسنگ مکمل ہو چکی تھی، اسے ترسیل کے لیے تیار کیا جا سکتا تھا اور وہ اندرونِ ملک ضروریات کے لیے درکار نہیں تھی۔
ایران کی پائپ لائن صرف برآمدی منصوبہ نہیں تھی
ایران کے ہرجانے کے مؤقف کی دوسری بڑی کمزوری یہ مفروضہ ہے کہ اس نے پائپ لائن پر ہونے والا تمام خرچ صرف پاکستان کے لیے کیا تھا اور پاکستان کی تاخیر کے باعث وہ سرمایہ کاری بے کار ہو گئی۔ یہ دعویٰ حد سے زیادہ وسیع ہے۔
گلوبل انرجی مانیٹر کے مطابق آئی جی اے ٹی-7 (ایران گیس ٹرنک لائن-7) ایک فعال گیس پائپ لائن ہے، جو جنوبی پارس سے گیس کو ہرمزگان، سیستان و بلوچستان اور کرمان صوبوں تک پہنچاتی ہے۔ اس ادارے کے مطابق یہ پائپ لائن 2010ء سے فعال ہے، اس کی یومیہ گنجائش تقریباً 1.8 ارب مکعب فٹ ہے، اور یہ ایران کے قومی گیس ترسیلی نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ یہ حقیقت انتہائی اہم ہے، کیونکہ جس بنیادی ڈھانچے کو ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے ثبوت کے طور پر پیش کرتا ہے، وہ درحقیقت جنوبی پارس کی گیس کو جنوب مشرقی ایران، بالخصوص ایرانی بلوچستان، تک پہنچانے کے اس کے اپنے داخلی مقصد کی بھی تکمیل کرتا رہا۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن کو کبھی برآمدی منصوبے کے طور پر پیش نہیں کیا گیا تھا؛ یقیناً ایسا تھا۔ تاہم اصل اور قانونی طور پر زیادہ مضبوط نکتہ یہ ہے کہ ایران اپنی اندرونی گیس ترسیلی لائن پر آنے والی پوری لاگت کو خودکار طور پر پاکستان کی وجہ سے ہونے والے نقصان میں تبدیل نہیں کر سکتا۔ ہرجانے کا کوئی بھی قابلِ اعتبار تخمینہ اس اضافی لاگت میں واضح فرق کرے گا جو صرف پاکستان کو گیس برآمد کرنے کے لیے کی گئی تھی، اور اس بنیادی ڈھانچے میں بھی جو ایران کو اپنے قومی گیس نیٹ ورک کے لیے درکار تھا اور جسے اس نے اپنے ہی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔
اگر کوئی اثاثہ اندرونِ ملک بھی کارآمد ہو تو اسے مکمل طور پر بے کار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر وہ ایرانی صوبوں تک گیس پہنچا رہا ہے تو اس کی پوری لاگت پاکستان پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ ایران کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اخراجات کا کون سا حصہ صرف پاکستان کو گیس برآمد کرنے کے لیے کیا گیا، کون سا حصہ اندرونی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال ہوا، اور پاکستان کی تاخیر کے بعد بھی اس بنیادی ڈھانچے سے ایران کو کیا معاشی فائدہ حاصل ہوتا رہا۔
جنوبی پارس میں سرمایہ کاری کی ضرورت برآمدی اضافی گیس کے مفروضے کو کمزور کرتی ہے
ایران کے اپنے سرمایہ کاری منصوبے بھی ہرجانے کے سادہ دعوے کو کمزور کرتے ہیں۔ ایس اینڈ پی گلوبل نے مارچ 2025ء میں رپورٹ کیا کہ ایران نے جنوبی پارس میں گیس کے دباؤ کو برقرار رکھنے کے لیے مقامی کمپنیوں کے ساتھ 17 ارب ڈالر مالیت کا معاہدہ کیا۔ یہ فیصلہ ایسے سخت موسمِ سرما کے بعد کیا گیا، جب گیس اور ایندھن کی قلت کے باعث ایران کو گھریلو اور صنعتی صارفین کی بجلی کی فراہمی معطل کرنا پڑی تھی۔ اسی رپورٹ کے مطابق منصوبے کے تحت دباؤ بڑھانے کے سات مراکز پر 56 اعلیٰ صلاحیت کے کمپریسرز نصب کیے جانے کی ضرورت ہے۔
کولمبیا یونیورسٹی کے سینٹر آن گلوبل انرجی پالیسی نے ایران کی گیس کی صورتِ حال کو ایک تضاد قرار دیا ہے؛ یعنی وسیع ذخائر ہونے کے باوجود برآمدی صلاحیت محدود ہے۔ ادارے کے مطابق ایران گیس کی پیداوار بڑھانے میں اس لیے مشکلات کا شکار ہے کہ اسے کمپریشن آلات، ذخائر میں دباؤ برقرار رکھنے اور پیداوار میں اضافے کی جدید ٹیکنالوجی تک مناسب رسائی حاصل نہیں۔ مزید یہ کہ ایران نے روس سے گیس درآمد کرنے کے انتظامات بھی کیے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسے اپنی پیداواری صلاحیت اور موسمی ضروریات پوری کرنے کی اہلیت پر خدشات لاحق ہیں۔
یہ حقائق سبب اور نتیجے کے تعلق کے تعین میں نہایت اہم ہیں۔ اگر جنوبی پارس کی پیداوار برقرار رکھنے کے لیے ایران کو دباؤ بڑھانے پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے تو صرف یہ حقیقت کہ پاکستان کے ساتھ برآمد کا معاہدہ موجود تھا، اس بات کا ثبوت نہیں کہ ایران معاہدے کے مطابق گیس فراہم کرنے کی عملی صلاحیت بھی رکھتا تھا۔ اس لیے ایسا کوئی بھی ہرجانے کا تخمینہ، جو بلا تعطل برآمدی حجم کو بنیاد بنائے، اسے ذخائر کے دباؤ، گیس پراسیسنگ کی استعداد، موسمی طلب، ذخائر میں گیس دوبارہ داخل کرنے کی ضرورت اور حقیقی برآمدی کارکردگی کی کسوٹی پر پرکھنا ہوگا۔
ہرجانے کی رقم سیاسی دعویٰ نہیں ہو سکتی
اس تناظر میں 18 ارب ڈالر کی زیرِ گردش رقم خودبخود ثابت شدہ حقیقت نہیں بن جاتی۔ اسے قرض یا واجب الادا رقم کے بجائے ایک ایسے دعوے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جسے تفصیلی شواہد سے ثابت کرنا ہوگا۔ ایران کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ اس کے دعوے کی قانونی بنیاد کیا ہے، ہرجانے سے متعلق معاہدے کی شق کیا کہتی ہے، دعویٰ کس مدت سے متعلق ہے، اس عرصے میں کتنی گیس دستیاب تھی، قیمتوں کا تعین کس بنیاد پر کیا گیا، پیداوار پر کیا لاگت آئی، کن اخراجات سے بچت ہوئی، کتنی گیس اندرونِ ملک استعمال ہوئی، کیا متبادل فروخت یا گیس کے تبادلے کے انتظامات کیے گئے، اور اپنے حصے میں تعمیر کیے گئے داخلی گیس نیٹ ورک سے اسے کیا معاشی فائدہ حاصل ہوا۔
معاہدے سے متوقع مجموعی آمدنی کو ہرجانہ قرار نہیں دیا جا سکتا، اور نہ ہی کثیر المقاصد گیس ٹرنک لائن کی پوری لاگت خودکار طور پر وصول کی جا سکتی ہے۔ قانونی طور پر قابلِ قبول معیار یہ ہے کہ پاکستان کی مبینہ خلاف ورزی سے ایران کو جو خالص معاشی نقصان پہنچا، اس کا تعین نقصان کم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات اور اس بنیادی ڈھانچے اور گیس سے ایران کے اپنے استعمال کو مدنظر رکھنے کے بعد کیا جائے۔
اگر ایران نے یہی گیس اندرونِ ملک استعمال کی، گیس کی قلت کم کی، بجلی کی بندشوں سے بچاؤ کیا، صنعتوں یا پیٹروکیمیکل شعبے کو فراہمی جاری رکھی، یا اپنے ہی صوبوں کی ضروریات پوری کیں، تو ان تمام فوائد کی مالیت ہرجانے کے حساب میں شامل کرنا ہوگی۔ اسی طرح اگر پائپ لائن کا بنیادی ڈھانچہ آئی جی اے ٹی-7 کا حصہ تھا اور ایران کی داخلی ضروریات پوری کر رہا تھا، تو اس سے حاصل ہونے والے فائدے کو بھی لازماً مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
پاکستان کو اس کوشش کی بھی مخالفت کرنی چاہیے کہ پائپ لائن کی محض تکمیل کو معاہدے پر مکمل عمل درآمد کا حتمی ثبوت قرار دیا جائے۔ تجارتی اعتبار سے معاہدے کی تکمیل صرف پائپ لائن بچھانے سے ثابت نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے گیس کی دستیابی، مطلوبہ دباؤ، پراسیسنگ کی صلاحیت، پیمائش کا نظام، ترسیل کی مکمل تیاری اور مسلسل فراہمی کی عملی استعداد بھی ضروری ہوتی ہے۔ ایران میں گیس کی اندرونی قلت، جنوبی پارس میں دباؤ برقرار رکھنے کی ضرورت اور برآمدات میں آنے والی رکاوٹیں اس سوال کے تعین میں اہم عوامل ہیں کہ آیا ایران واقعی معاہدے کے مطابق گیس فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا یا نہیں۔
پاکستان کے اپنے مؤقف میں بھی ایک تلخ حقیقت موجود ہے۔ قیمتوں کے تعین کا فارمولا کوئی معمولی جزو نہیں تھا، بلکہ پورے منصوبے کی بنیاد تھا۔ ایسی پائپ لائن جو ایسی گیس لائے جس کی قیمت برداشت سے باہر ہو، توانائی کا اثاثہ نہیں بلکہ قومی خزانے پر بوجھ بن جاتی ہے۔ میری رائے میں اس معاہدے پر گیس کی قیمت کے فارمولے، خام تیل سے طویل المدتی وابستگی، گیس کی فراہمی کے خطرات، بنیادی ڈھانچے کی حقیقی افادیت اور اس کے بعد پیدا ہونے والے معاشی اثرات کا آزادانہ اور جامع جائزہ لیے بغیر دستخط کیے گئے۔ اس کوتاہی کا اعتراف ہونا چاہیے، مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہو جاتا کہ ایران کی جانب سے پیش کی جانے والی پوری رقم لازماً قابلِ وصول ہرجانہ ہے۔
پاکستان کا مؤقف جذبات نہیں، شواہد پر مبنی ہونا چاہیے
پاکستان کو اس معاملے کو نہ نعروں کے ذریعے دیکھنا چاہیے اور نہ ہی گھبراہٹ کے عالم میں۔ اسے اسے ایک تجارتی اور ثبوت پر مبنی تنازع کے طور پر پیش کرنا چاہیے۔ بنیادی سوالات واضح ہیں: معاہدے کے دوران حقیقتاً کتنی گیس دستیاب تھی؟ کتنی مقدار برآمد کی جا سکتی تھی؟ ایران کن اخراجات سے بچ گیا؟ گیس کے اندرونِ ملک استعمال سے اسے کیا معاشی فائدہ حاصل ہوا؟ آئی جی اے ٹی-7 کا کون سا حصہ صرف برآمدی منصوبے کے لیے تھا اور کون سا ایران کے قومی گیس نیٹ ورک کی توسیع کے لیے استعمال ہوا؟ اور بالآخر ایران کو حقیقی معنوں میں کتنا خالص معاشی نقصان پہنچا؟
ایران یہ مؤقف اختیار کر سکتا ہے کہ پاکستان نے تاخیر کی، مگر پاکستان یہ جواب دے سکتا ہے کہ ہرجانے کے دعوے محض الزامات سے نہیں بلکہ مضبوط شواہد سے ثابت کیے جاتے ہیں۔ پاکستان کا سب سے مؤثر دفاع انکار نہیں بلکہ حقائق پر مبنی اور منظم مؤقف ہوگا۔ ایران میں گیس کی مسلسل اندرونی قلت، جنوبی پارس میں پیداوار برقرار رکھنے کے لیے دباؤ بڑھانے کی ضرورت، اس مقصد کے لیے بھاری سرمایہ کاری، سردیوں میں گیس درآمد یا تبادلے کے انتظامات، برآمدات میں کمی اور آئی جی اے ٹی-7 کے داخلی استعمال جیسے عوامل اس دعوے کو نمایاں طور پر کمزور کرتے ہیں کہ تمام نقصان صرف پاکستان کی وجہ سے ہوا۔
اس بحث کا درست نتیجہ مختصر مگر نہایت اہم ہے۔ ایران کے پاس معاہدے سے متعلق شکایت کا جواز ہو سکتا ہے، لیکن اسے محض ایک بڑی سرخی میں بیان کی جانے والی ہرجانے کی رقم وصول کرنے کا خودکار حق حاصل نہیں۔ کسی بھی مفاہمت، ثالثی یا سفارتی مذاکرات میں اس بات پر اصرار ہونا چاہیے کہ ایران برآمد کے لیے دستیاب گیس، صرف برآمدی مقصد کے لیے کی گئی ناقابلِ واپسی سرمایہ کاری، حقیقی خالص معاشی نقصان اور نقصان کم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کے ٹھوس شواہد پیش کرے۔
پاکستان کو ایسے ہرجانے کے دعوے کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کرنا چاہیے جو سیاسی اندازوں اور مفروضوں پر مبنی ہو۔ اس حجم کے دعوے کو گیس کے ہر سالمے، ہر اثاثے اور ہر ڈالر کی بنیاد پر جانچنا ضروری ہے۔ دستیاب عوامی حقائق کی روشنی میں ایران کا مؤقف اتنا سیدھا اور مضبوط نہیں جتنا بظاہر سرخیوں سے محسوس ہوتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026