کاروبار اور معیشت

چین کے سب سے بڑے کان کنی کے منصوبے نے پاکستان میں کام بند کرنے کی وارننگ دے دی

  • بنیادی پیداواری خام مال کی عدم دستیابی اور لاجسٹک سپورٹ کی کمی کو وجہ قرار دے دیا
شائع اپ ڈیٹ

فائنینشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سونا اور تانبا نکالنے والی چین کے زیرِ انتظام سب سے بڑی کمپنی سینڈک میٹلز لمیٹڈ نے خبردار کیا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی خراب ہوتی صورتحال کے باعث وہ ایک ماہ کے اندر اپنا کام بند کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔

سینڈک میٹلز لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر نے وزارتِ توانائی کو ارسال کردہ اپنے خط میں لکھا کہ صوبے میں امن و امان کی موجودہ صورتحال نے منصوبے کے لیے ضروری سامان اور کارگو کی ترسیل کو شدید متاثر کیا ہے۔ خط میں مزید کہا گیا کہ اگر یہی صورتحال بلا تعطل برقرار رہی تو سینڈک کاپر گولڈ پروجیکٹ کے مسلسل آپریشنز کو جاری رکھنا ناممکن ہو جائے گا اور اس بات کے شدید امکانات ہیں کہ ضروری پیداواری خام مال اور لاجسٹک سپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث پروجیکٹ کے تمام کام ایک ماہ کے اندر بند کرنے پڑ جائیں۔

سائنڈک میٹلز لمیٹڈ پاکستان کی ایک سرکاری کمپنی ہے جو بنیادی طور پر بلوچستان میں سینڈک پروجیکٹ سے وابستہ ہے جسے اس نے ریسورس ڈیولپمنٹ کارپوریشن (آر ڈی سی) کے ساتھ مل کر شروع کیا تھا۔ یہ منصوبہ ملک میں بڑی سطح پر کان کنی کا پہلا بڑا پیش رفتہ اقدام تھا۔

ایس ایم ایل نے 1992 میں سینڈک پروجیکٹ کی تعمیر کے لیے چین کی میٹالرجیکل کارپوریشن آف چائنا (ایم سی سی) کو بطور ٹھیکیدار شامل کیا تھا، جس کا ابتدائی منصوبہ یہ تھا کہ اسے اگست 1995 تک مکمل کر کے حوالے کر دیا جائے گا۔

فائنینشل ٹائمز نے سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ گزشتہ سال پاکستان کی تقریباً 750 ملین ڈالر کی تانبے کی مجموعی برآمدات و پیداوار کا بڑا حصہ اسی منصوبے سے حاصل ہوا تھا۔رپورٹ کے مطابق وزارتِ توانائی کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ آپریشنز کے لیے سب سے بڑا مسئلہ سڑک کے ذریعے سفر اور ترسیل ہے، جو دن بہ دن انتہائی خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔

فائنینشل ٹائمز کا کہنا ہے کہ سینڈک پروجیکٹ کے یہ مسائل پاکستان کی ان خواہشات اور کوششوں کے لیے ایک نیا بڑا دھچکا ہیں، جن کا مقصد اپنے مغربی سرحدی خطے کو قدرتی وسائل کے نکالنے کا مرکز بنانا اور برآمدات کے ذریعے ملکی آمدنی حاصل کرنا تھا۔