سفائر فائبرز نے یو اے ای میں ذیلی کمپنی قائم کردی، 2 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی
- کمپنی نے تمام ضروری قانونی اور ریگولیٹری تقاضے بھی مکمل کر لیے
پاکستانی ٹیکسٹائل کمپنی سفائر فائبرز لمیٹڈ (ایس ایف ایل) نے اپنی بین الاقوامی موجودگی کو وسعت دینے اور بیرونِ ملک کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں ایک نئی ذیلی کمپنی قائم کردی ہے۔
لسٹڈ کمپنی نے بدھ کو اسٹاک ایکسچینج میں جمع کرائے گئے ایک نوٹس میں اس پیشرفت سے آگاہ کیا۔
کمپنی کے مطابق سفائر فائبرز لمیٹڈ نے متحدہ عرب امارات میں سفیر ہولڈنگ ایل ایل سی-ایف زیڈ کے نام سے اپنی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی قائم کرلی ہے۔ کمپنی نے اس ذیلی ادارے کے قیام کے لیے تمام ضروری قانونی اور ریگولیٹری تقاضے بھی مکمل کر لیے ہیں۔
نوٹس کے مطابق ذیلی کمپنی کے قیام کے بعد سفائر فائبرز لمیٹڈ اس میں ایکویٹی سرمایہ کاری کی مد میں 2 لاکھ امریکی ڈالر منتقل کررہی ہے۔
سفائر فائبرز کے مطابق اس ذیلی ادارے کا قیام بین الاقوامی کاروباری مواقع سے استفادہ کرنے اور عالمی منڈی میں اپنی موجودگی کو مزید مستحکم کرنے کی اسٹریٹجک حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
سفائر فائبرز لمیٹڈ (ایس ایف ایل) کو 1979 میں پاکستان میں ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر رجسٹرڈ کیا گیا تھا۔ کمپنی کی بنیادی سرگرمی یارن، فیبرک اور ملبوسات کی تیاری اور فروخت ہے۔ کمپنی تین پیداواری پلانٹس چلاتی ہے جن میں سے دو شیخوپورہ اور ایک لاہور میں واقع ہے۔
حالیہ برسوں میں کمپنی روایتی ٹیکسٹائل مینوفیکچرنگ سے آگے بڑھ کر اپنے کاروباری پورٹ فولیو کو فعال طور پر وسیع اور متنوع بنارہی ہے۔
گزشتہ برس سفائر فائبرز لمیٹڈ نے یو سی ایچ پاور (پرائیویٹ) لمیٹڈ جو کہ 586 میگاواٹ کا گیس پر مبنی پاور پلانٹ ہے اور یو سی ایچ-II پاور (پرائیویٹ) لمیٹڈ، جو کہ 404 میگاواٹ کا گیس پر مبنی پاور پلانٹ ہے، دونوں میں 50، 50 فیصد حصص حاصل کر لیے تھے۔ یہ دونوں پلانٹس ڈیرہ مراد جمالی، بلوچستان میں واقع ہیں۔
اس کے علاوہ کمپنی نے اپنی مکمل ملکیتی امریکی ذیلی کمپنی سفائر یو ایس اے، ایل ایل سی میں 2.5 ملین ڈالر کی اضافی ایکویٹی سرمایہ کاری کا اعلان بھی کیا جو مارچ 2025 میں کی گئی 5 ملین ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری کے بعد کی گئی ہے۔
کمپنی نے اس وقت کہا تھا کہ اس اقدام کا مقصد امریکی مارکیٹ میں اپنی موجودگی کو مضبوط بنانا اور بہتر مارکیٹ رسائی کے ذریعے منافع میں اضافہ کرنا ہے۔