کاروبار اور معیشت

ایف بی آر کی ٹیکس اخراجات رپورٹ، پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس کے بدلے پیٹرولیم لیوی کی وصولی

  • رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چونکہ پیٹرولیم مصنوعات پر پیٹرولیم لیوی نافذ ہے، اس لیے ان پر سیلز ٹیکس عائد نہیں کیا جاتا
شائع اپ ڈیٹ

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات استعمال کرنے والے صارفین سیلز ٹیکس کی چھوٹ کے باعث سیلز ٹیکس کے بجائے پیٹرولیم لیوی (پی ڈی ایل) ادا کر رہے ہیں۔

ایف بی آر کی ٹیکس اخراجات رپورٹ 2026 کے مطابق سیلز ٹیکس سے متعلق ٹیکس اخراجات میں پیٹرولیم مصنوعات پر دی گئی سیلز ٹیکس چھوٹ بھی شامل ہے، جن پر اس وقت پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی وصول کی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چونکہ پیٹرولیم مصنوعات پر پیٹرولیم لیوی نافذ ہے، اس لیے ان پر سیلز ٹیکس عائد نہیں کیا جاتا کیونکہ صارفین پہلے ہی پی ڈی ایل ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے سیلز ٹیکس اخراجات کا تخمینہ لگاتے وقت پیٹرولیم لیوی والے حصے کو الگ کر کے باقی زمروں کی بنیاد پر سیلز ٹیکس چھوٹ کی لاگت کا حساب لگایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، پیٹرولیم لیوی سے متعلق حصہ منہا کرنے کے بعد مالی سال 2024-25 کے لیے مجموعی سیلز ٹیکس اخراجات 1,273.98 ارب روپے رہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیلز ٹیکس چھوٹ سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے شعبوں میں صحت و طبی خدمات، کھاد و زراعت، خوراک، مینوفیکچرنگ، توانائی، اسٹیشنری اور گوادر/ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز (ای پی زیڈز) شامل ہیں۔

دوسری جانب ٹیکس اخراجات رپورٹ 2026 کے مطابق، انکم ٹیکس میں دی گئی مختلف چھوٹ کے باعث 11 بڑے شعبوں کو مجموعی طور پر 580 ارب روپے کی ٹیکس رعایت حاصل ہوئی، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو اسی مالیت کی آمدنی سے محروم ہونا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق انکم ٹیکس چھوٹ سے فائدہ اٹھانے والے نمایاں شعبوں میں سوشل سکیورٹی، پنشن، توانائی و کان کنی، مالیاتی شعبہ، صحت و ادویات، تعلیم، قبائلی علاقے، اور عطیات و فلاحی ادارے شامل ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026