امریکا ایران کشیدگی میں اضافہ، خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں
- برینٹ خام تیل کی قیمت 1.46 ڈالر یا 1.72 فیصد اضافے کے ساتھ 86.19 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر شدت آنے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کو بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں سپلائی متاثر ہونے سے توانائی کی عالمی منڈی مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 1.46 ڈالر یا 1.72 فیصد اضافے کے ساتھ 86.19 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.11 ڈالر یا 1.4 فیصد اضافے کے بعد 80.40 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
منگل کو بھی دونوں بینچ مارک خام تیل کی قیمتیں تقریباً 2 فیصد اضافے کے ساتھ ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر بند ہوئی تھیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل میں رکاوٹ کے خدشات ہیں، جہاں جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد حصے کے برابر خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل ہوتی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تمام بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کا اعلان کیا، جبکہ امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی پر حملوں کے لیے استعمال ہونے والی ایرانی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے نئی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن کے ازرق اڈے پر امریکی تنصیبات پر ڈرون حملے کیے ہیں، جبکہ پاسداران انقلاب نے بحرین اور کویت میں اسلحہ اور ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر کے مطابق اگر خلیجی خطے میں کشیدگی مزید بڑھی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تو خام تیل کی قیمتیں دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل کے قریب جا سکتی ہیں۔ تاہم، اگر سفارتی کوششیں کامیاب ہو کر آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جاتی ہے تو برینٹ خام تیل 75 سے 80 ڈالر فی بیرل کی حد میں واپس آ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فی الحال مارکیٹ میں خطرات کا عنصر قیمتوں میں شامل ہے، تاہم دونوں فریقوں کے پاس سفارتی حل تلاش کرنے کی بھی مضبوط وجوہات موجود ہیں۔