مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ
- برینٹ فیوچر کی قیمت 18 سینٹ یا 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 84.91 ڈالر فی بیرل ہو گئی
امریکا کی جانب سے بدھ کو ایرانی فوجی تنصیبات پر حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی تہران کی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔
اس سے قبل امریکا نے ایران کی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کی تھی اور رات گئے حملے کیے تھے، جس کے جواب میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دھمکی دی کہ وہ ”امریکا اور اس کے اتحادیوں کو فائدہ پہنچانے والی دیگر تمام برآمدی راہداریوں“ کو بند کر دے گا۔
برینٹ فیوچر کی قیمت 18 سینٹ یا 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 84.91 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) فیوچر 26 سینٹ یا 0.3 فیصد بڑھ کر 79.60 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ یہ قیمتیں 1214 جی ایم ٹی پر ریکارڈ کی گئیں۔
منگل کو تیل کی قیمتیں 2 فیصد اضافے کے ساتھ ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر بند ہوئیں۔ حملوں کے باعث آبنائے ہرمز میں سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا، جہاں جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی تھی۔
ایران اور امریکا کے درمیان گزشتہ ہفتے دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی نے جون میں کئی ماہ کی لڑائی کے بعد طے پانے والی پہلے ہی کمزور جنگ بندی کو مزید متاثر کر دیا ہے۔
منگل کی رات امریکی فوج نے بتایا کہ اس نے اسٹریٹجک آبی گزرگاہ اور ایرانی ساحلی علاقوں کے قریب درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، یہ کارروائیاں تقریباً سات گھنٹے جاری رہیں۔
جواباً ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ اس نے خطے میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں بحرین، کویت اور اردن کے مقامات بھی شامل ہیں۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ بدھ کو ایران کے ساحلی دفاعی نظام، کروز میزائلوں کے ذخیرہ گاہوں اور لانچنگ سائٹس پر کیے گئے نئے حملوں کا مقصد ان ایرانی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے جنہیں تہران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اس بات کا اشارہ دے رہا ہے کہ وہ یمن میں اپنے حوثی اتحادیوں کے ذریعے باب المندب آبی گزرگاہ بند کر سکتا ہے، جس سے امریکا کے خلاف ایک نیا محاذ کھل سکتا ہے اور دنیا کی دو اہم ترین توانائی گزرگاہیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
یو بی ایس کے تجزیہ کار جیوانی اسٹاونوو نے کہا کہ ایران کی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے بحری جہازوں کی امریکی بحری ناکہ بندی نے بھی تیل کی قیمتوں میں اضافے کو تقویت دی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں میں ایران کی خام تیل کی برآمدات تقریباً 15 لاکھ سے 20 لاکھ بیرل یومیہ رہی ہیں۔
گولڈمین ساکس نے ایک نوٹ میں اندازہ لگایا کہ جون میں امریکا اور ایران کے درمیان یادداشتِ مفاہمت کے بعد خلیجی ممالک کی تیل برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح کے 80 فیصد سے زیادہ تک بحال ہو گئی تھیں، تاہم گزشتہ ہفتے یہ دوبارہ 50 فیصد سے کم، یعنی تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئیں۔
بینک نے کہا کہ اگر خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات کی بحالی کا عمل مزید تعطل کا شکار ہوا تو رواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہے۔
تاہم سرمایہ کار تیل کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافے کے حوالے سے محتاط ہیں، کیونکہ جنگ سے متعلق متضاد بیانات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔
سیکسو بینک کے سربراہ برائے کموڈیٹی اسٹریٹجی اولے ہینسن نے کہا، ”یہ سب جنگی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ مارکیٹ نے بڑے اعلانات پر قدرے محتاط ردعمل دینا سیکھ لیا ہے، کیونکہ اکثر یہ اعلانات عملی شکل اختیار نہیں کرتے۔“