پی سی ڈی ایم اے کا ایف بی آر سے فوری اور جامع اصلاحات کا مطالبہ
- حکومت 50 فیصد حد مقرر کرنے کے بجائے برآمدی سہولت کے تحت درآمد کیے گئے خام مال کی مقامی فروخت پر مکمل پابندی عائد کرے ، سلیم ولی محمد
پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے وفاقی حکومت اور ایف بی آر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر جامع اصلاحات نافذ کریں جن میں درآمدی مرحلے پر یکساں ٹیکس کا نفاذ، صنعتی مراعات کے غلط استعمال کے خلاف سخت کارروائی اور تاجر برادری کے مفادات کے تحفظ اور پاکستان کی دستاویزی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے موثر ریگولیٹری نگرانی شامل ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت متعارف کرائی گئی نئی شق کے مطابق مینوفیکچررز کودرآمد شدہ خام مال کا 50 فیصد بغیر پروسیسنگ فروخت کرنے کی اجازت دینا درحقیقت صنعتی مراعات کے غلط استعمال کو قانونی جواز فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ اگر خام مال صرف برآمدی مقاصد اور ویلیو ایڈیشن کے لیے رعایتی شرائط پر درآمد کیا گیا ہے تو اسے مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت دینا نہ صرف پالیسی کے بنیادی مقصد کے خلاف ہے بلکہ اس سے مکمل ٹیکس، ڈیوٹیز اور لیویز ادا کرکے درآمدات کرنے والے کمرشل درآمدکنندگان کے ساتھ کھلی ناانصافی بھی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اصولی طور پر جس مقصد کے لیے خام مال درآمد کیا جائے اسے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے جبکہ اضافی مقدار منگوا کر اس کا بڑا حصہ مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے سے مارکیٹ کا توازن بگڑتا ہے، غیر منصفانہ مسابقت جنم لیتی ہے اور قومی معیشت کو نقصان پہنچتا ہے۔
سلیم ولی محمد نے مطالبہ کیا کہ حکومت 50 فیصد حد مقرر کرنے کے بجائے برآمدی سہولت کے تحت درآمد کیے گئے خام مال کی مقامی فروخت پر مکمل پابندی عائد کرے اور اس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے صنعتی مراعات کی آڑ میں تجارت کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ کیمیکلز اور ڈائز کے شعبے میں کئی برسوں سے جاری غیر مساوی ٹیکس نظام نے کمرشل امپورٹرز کو شدید نقصان پہنچایا ہے جبکہ بعض عناصر نے صنعتی یونٹس کے لیے مختص رعایتی ٹیکس سہولتوں کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔کمرشل امپورٹرز اور صنعتی مینوفیکچررز کے درمیان تفریق کیمیکلز اینڈ ڈائز کے شعبے میں غیر منصفانہ مسابقتی ماحول پیدا کررہاہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں (ایس ایم ایز) کو خام مال فراہم کرنے والے کمرشل امپورٹرز سے درآمد کے وقت زائد ودہولڈنگ ٹیکس اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) وصول کیا جاتا ہے جبکہ صنعتی ادارے رعایتی شرح پر خام مال درآمد کرکے بعض اوقات اسے بغیر کسی پراسیسنگ کے براہِ راست اوپن مارکیٹ میں فروخت کر دیتے ہیں جس سے نہ صرف کمرشل امپورٹرز بلکہ قومی خزانے کو بھی خطیر نقصان پہنچتا ہے۔
چیئرمین پی سی ڈی ایم اے نے واضح کیا کہ خام مال کی فروخت پر 50 فیصد حد مقرر کرنا کسی صورت بھی مسئلے کا حل نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ درآمد کے مرحلے پر تمام درآمدکنندگان کے لیے بلاامتیاز یکساں ٹیکس نظام نافذ کیا جائے تاکہ مارکیٹ میں موجود ٹیکس امتیاز کا خاتمہ ہو، جائز کمرشل امپورٹرز کو مساوی مواقع میسر آئیں، ایس ایم ایز کی سپلائی چین مضبوط ہو اور کیمیکلز و ڈائز کی تجارت میں شفاف اور منصفانہ مسابقت کو فروغ مل سکے۔
انہوں نے حکومت اور ایف بی آر سے مطالبہ کیا کہ صنعتی مراعات کے ناجائز استعمال کے مکمل خاتمے، تاجر برادری کے مفادات کے تحفظ اور ملکی معیشت کو دستاویزی بنیادوں پر مستحکم کرنے کے لیے یکساں ٹیکس نظام کے نفاذ سمیت تمام ضروری اصلاحات فوری طور پر نافذ کی جائیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026