دنیا

ٹرمپ کا ایران سے مزید مذاکرات پر اتفاق، جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان

  • ایران نے بات چیت جاری رکھنے کی درخواست کی ہے, امریکی صدر
شائع اپ ڈیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی تھی جسے امریکہ نے قبول کر لیا، تاہم جون میں ہونے والی جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب ایک ہفتے تک جاری رہنے والے نئے تنازع کے بعد خطے میں نسبتاً سکون دیکھا گیا۔ اس دوران قطر اور سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے تین تجارتی ٹینکروں پر فائرنگ کی گئی جس کے جواب میں امریکہ نے ایران کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جبکہ ایران نے ردعمل میں خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔ جمعہ کو کسی نئے حملے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

انہوں نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہم سے بات چیت جاری رکھنے کی درخواست کی ہے۔ ہم نے ایسا کرنے پر اتفاق کیا ہے لیکن امریکہ نے انہیں واضح الفاظ میں بتا دیا ہے کہ جنگ بندی ختم ہوچکی ہے۔

ایران کی جانب سے ٹرمپ کی پوسٹ پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم تہران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر جاری کردہ تبصروں میں کہا کہ یہ جنگ تہران کے ہتھیار ڈالنے پر کبھی ختم نہیں ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکہ نے گزشتہ ماہ طے پانے والے مفاہمتی یادداشت سے انحراف کیا تو اسلامی جمہوریہ بھرپور دفاع کے لیے تیار ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی اس عبوری مفاہمت کا مقصد اس تنازع کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا تھا جو اب اپنے پانچویں ماہ میں داخل ہو چکا ہے۔ اس جنگ میں ہزاروں افرادمارے جاچکے ہیں، عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی شدید متاثر ہوئی جبکہ اس کے باعث عالمی معیشت کے مزید بحران کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق قطر میں ہونے والی بات چیت کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت کے نفاذ اور حالیہ کشیدگی کو ہوا دینے والے مسائل کو حل کرنا ہے جن میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق تنازعات بھی شامل ہیں۔ ماضی میں ہونے والی بات چیت کا اعلان تو کیا گیا لیکن ان میں ٹھوس پیش رفت کے آثار بہت کم نظر آئے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے کہا کہ ہمیں ایسی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ مذاکرات جاری ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ ایسا ہی ہو۔ جمعہ کو تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی لیکن یہ ہفتہ وار 5 فیصد اضافے کی راہ پر گامزن ہیں۔ امریکی ٹریژریز (سیکیورٹیز) میں قدرے کمی دیکھی گئی کیونکہ خدشات ہیں کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا رجحان افراط زر کے دباؤ میں مزید اضافہ کرسکتا ہے۔