امریکا ایران کشیدگی سے آئندہ سال تیل کی عالمی منڈی میں اضافی رسد کی پیش گوئی متاثر ہوگی، آئی ای اے
- جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش سے یومیہ تقریباً 1 کروڑ 40 لاکھ بیرل خام تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تھی۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی میں اضافے سے آئندہ سال عالمی تیل کی منڈی میں اضافی رسد (سرپلس) کی پیش گوئی متاثر ہو سکتی ہے، حالانکہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے کے بعد جون میں عالمی تیل کی سپلائی میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
آئی ای اے کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کھلنے سے عالمی تیل کی منڈی کو وقتی ریلیف ملا۔ جنگ کے دوران اس اہم آبی گزرگاہ کی بندش سے یومیہ تقریباً 1 کروڑ 40 لاکھ بیرل خام تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جون کے دوران عالمی تیل کی سپلائی میں 41 لاکھ بیرل یومیہ اضافہ ہوا، تاہم یہ جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں اب بھی 94 لاکھ بیرل یومیہ کم رہی۔
ایجنسی نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل معمول پر رہی تو آئندہ سال سپلائی میں 75 لاکھ بیرل یومیہ اضافہ ہوگا، تاہم 7 اور 8 جولائی کو امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھنے والی کشیدگی نے اس امکان پر غیر یقینی کے بادل منڈلا دیے ہیں۔
آئی ای اے کا کہنا ہے کہ عالمی تیل کی منڈی کو معمول پر لانے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان پائیدار امن معاہدہ ناگزیر ہے۔ ادارے کے مطابق رواں سال عالمی تیل کی طلب میں 10 لاکھ بیرل یومیہ کمی متوقع ہے، جبکہ موسمِ گرما میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث قلیل مدت میں کھپت میں تقریباً 80 لاکھ بیرل یومیہ اضافہ ہو سکتا ہے۔